بدھ , 21 اگست 2019

’ریوچی ہیروکاوا‘ ایک جاپانی عاشق فلسطین!

Japan - Palastine

اہل جاپان کی فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی اور فلسطینی کاز کی حمایت مسلمہ ہے،مگر جاپانی قوم میں کچھ ایسے درد دل رکھنے والے انسان بھی موجود ہیں جن کے دل میں فلسطین اور اہل فلسطین کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ انہی ہی میں ایک نام ’’ریوچی ھیروکاوا‘‘ کا بھی ہے جنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ لڑتے اور مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی میں گذار دی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 72 سالہ ہیروکاوا نے اپنی زندگی کے 50 سال فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں کتابیں لکھتے اور اسرائیلی مظالم کو بالعموم پوری دنیا بالخصوص جاپان میں اجاگر کرنے میں بِتا دیے۔ جاپان کیا کسی دوسرے ملک میں بھی یروچی ہیروکاوا جیسی مساعی کم ہی کسی نے کی ہوں گی۔
ہیروکاوا کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ 1966ء میں پہلی بار فلسطین کا دورہ کیا۔ یہ ایک ایسا دورہ تھا جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس کے بعد انہوں نے پوری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑنے میں وقف کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی کشش مجھے کھینچ کر فلسطین لائی مگرزمینی حالات دیکھنے کے بعد مجھے حقائق کا پتا چلا۔ مجھے اس دورے سے یہ پتا چلا کہ فلسطینی کس قدر مظلوم اور ستم رسیدہ ہیں اور صہیونی کتنے سفاک اور خون خوار ہیں۔ یوں وقت گذرتا گیا اور فلسطینیوں کے لیے میرے دل میں محبت کے جذبات کو بڑھتے گئے۔ میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے واقعات سنتا، دیکھتا تو اس سے فلسطینیوں اور فلسطینی کاز سے میری محبت کو مہمیز ملتی۔ فلسطین کے دورے کے دوران مجھے ان فلسطینی شہروں اور قصبوں میں جانے کا اتفاق ہوا جنہیں صہیونی جرائم پیشہ مسلح مافیاؤں نے تہہ وبالا کردیا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے گھروں کے بیچ یہودیوں کے مکانات تعمیر ہو رہے تھے۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ فلسطینی مظلوم ہیں اور صہیونی غاصب اور فلسطین پر ناجائز قابض ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے ہیروکا نے کہاکہ میرا یقین ہے کہ فلسطینی قوم کو جلد آزادی کی منزل ملے گی کیونکہ وہ فلسطین کے اصلی اور حقیقی باشندے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین آمد کے بعد میں نے مہاجرین سے ملاقاتیں کیں اور ان کے حالات سےآگاہی حاصل کی۔ وطن واپسی پرمیں نے یہ تہیہ کیا کہ اب میرا کام فلسطینیوں کی حمایت کے لیے اپنی زبان وقلم کو استعمال کرنا ہے۔ اس طرح میں جاپان میں فلسطینی آنکھ بن گیا۔
ریوچی ہیروکاوا 60 سے زاید کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے ان کی 12 کتابیں صرف فلسطین سے متعلق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عزت نفس، خود اعتمادی، جرات وشجاعت اور قربانی کے معانی میں نے فلسطینیوں سے سیکھے ہیں۔ جب میں فلسطینیوں کی بے پناہ قربانیوں کا سنتا ہوں تو مجھے اپنے ضمیر میں ایک جھجھک سی محسوس ہوتی ہے اور میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ کاش میں بھی فلسطینی ہوتا۔
جاپانی صحافی اور دانشور نےمسئلہ فلسطین کی حمایت کے لیے صرف کتابیں ہی نہیں لکھیں بلکہ جاپان میں فلسطینی بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے ’’فلسطین چلڈرن فاؤنڈیشن‘‘ بھی قائم کی۔ وہ پہلے جاپانی صحافی ہیں جنہوں نے لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں صبرا اور شاتیلا کا دورہ کیا۔ انہوں نے یہ دورہ اس وقت کیا تھا جب صہیونی فوج نے اس کیمپ میں قتل وغارت گری کرتے ہوئے سیکڑوں فلسطینیوں کو تہہ تیغ کردیا تھا۔ فلسطینی عاشق جاپانی تجزیہ نگار اب تک مسئلہ فلسطین کی حمایت میں جاپان میں 400 سے زاید تصویری نمائشوں کا اہتمام کر چکے ہیں۔
فلم پروڈکشن کمپنی طیف نے ہیروکاوا کی زندگی پر ایک پکچر فلم بھی بنائی ہے جسے ’’سائے کے بغیر تصویر‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ فلم جلد ہی قطر کے الجزیرہ ٹی وی پرنشرکی جائے گی۔
ہیروکاوا کو حال ہی میں استنبول میں منعقدہ ’’فلسطین ذرائع ابلاغ میں۔۔۔۔ مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے وہیں پران سے بات چیت کی۔ (بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین )

یہ بھی دیکھیں

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

(راؤ منظر حیات) عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں …