بدھ , 26 ستمبر 2018

بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا!

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ اور خود بھارتی آرمی چیف کے بیان سے یہ ضرورت شدت سے اجاگر ہوئی ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر آئے۔ یو این کمشنریٹ فار ہیومین رائٹس کی رپورٹ میں بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد بند کرکے یہ مسئلہ بامعنی مذاکرات سے حل کیا جائے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے۔ پاکستانی دفترخارجہ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کرے اور جموں و کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینا بند کرے۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے اپنے اعترافِ شکست میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک اور موقع ملنا چاہئے اور اس کیلئے مذاکرات بہت ضروری ہیں۔ ہم جتنے لوگ مارتے ہیں اس سے زیادہ افراد ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جامع بین الاقوامی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی لب کشائی بلاشبہ ایک اہم ترین پیش رفت ہے۔ یہ کہا جائے تو بے

جا نا ہوگا کہ ’’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘۔ جموں و کشمیر فطری طور پر پاکستان کا حصہ ہے مگر برطانوی استعمار نے برصغیر کے وسائل کا استحصال اپنی رخصتی کے بعد بھی جاری رکھنے کیلئے کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے حصے کو گوداسپور کی بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کرکے پاکستان اور بھارت کے درمیان خطرناک تنازع کی بنیاد رکھ دی۔ پاکستان جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازع ریاست جموں و کشمیر کا ایک فریق ہے یہ مسئلہ بار بار اقوام متحدہ سمیت مختلف فورموں میں لے جاتا رہا ہے اور دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے بھی پرامن تصفیہ کے لئے کوشاں ہے جبکہ بھارت کسی نہ کسی طرح مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتا رہا اور اقوام متحدہ میں بھی بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق کشمیریوں عوام کو استصواب رائے کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک میں شمولیت کا حق دینے کا جو اصولی فیصلہ تسلیم کیا اس سے بھی وہ مکر گئے مگر بعد میں ایک موقع ایسا آیا کہ پنڈت نہرو نے شیخ عبداللہ کو پاکستان کے دورے پر بھیجا تاکہ مسئلہ کشمیر کے زیادہ سنگین ہونے سے قبل بات چیت کے ذریعے اسکا حل نکالا جاسکے۔ یہ کوشش پنڈت جواہر لعل نہرو کی اچانک موت سے تعطل کا شکار ہوگئی اور پاکستان اور بھارت کو 1965ء کی خوفناک جنگ کا اور بعدازاں کئی دوسری جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تقسیم ہند کے وقت داخلی طور پر خود مختار ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں البتہ عوامی خواہشات، جغرافیائی حیثیت، ثقافتی اور مذہبی عوامل کو مقدم سمجھا جائے۔ تقسیم سے قبل ہی کشمیری مسلمانوں نے الحاق ِ پاکستان کی قرارداد منظور کی لیکن نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیر میں فوجیں اتارنے کا یہ جواز تراشا کہ عوام کے خوف سے مفرور و روپوش ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کی دستاویزات پر دستخط کردیئے۔ کشمیری عوام ، جن میں مسلمان اکثریت کے علاوہ قوم پرست ہندو بھی شامل تھے ، بھارتی مداخلت کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ دوسری جانب مجاہدین نے کشمیر کا ایک حصہ آزاد کروا لیا تو بھارت خود یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے یہ بات تسلیم کی گئی کہ کشمیر متنازع مسئلہ ہے جس میں پاکستان اور بھارت فریق ہیں اور کشمیری عوام یہ حق رکھتے ہیں کہ ان دونوں ملکوں میں سے کسی ایک میں شمولیت کا رائے دہی کے ذریعے فیصلہ کریں بھارت کشمیریوں کو انکے حق رائے دہی سے محروم کرکے ان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہےمگر زمینی حقائق اور بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے مشورے کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئی دہلی کے حکمرانوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ پاکستان سے جامع مذاکرات اور تنازع کشمیر کا پرامن حل نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے مفاد میں ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...