بدھ , 26 ستمبر 2018

کشمیر میں ریاست اور شدت پسند دونوں کے پاس کوئی راستہ نہیں

(شکیل اختر)
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اخبار ’رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کی ہلاکت پر انڈیا کے تقریباً سبھی قومی اخباروں نے مضامین اور اداریے شائع کیے ہیں۔ جس طرح شجاعت کے بارے میں ان کی زندگی میں لوگوں کی رائے منقسم تھی اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد بھی لوگوں کی الگ الگ آرا ہیں۔کشمیر میں علیحدگی پسند اور شدت پسند انھیں انڈیا اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ سمجھتے تھے اور ہندوتوا نواز تنظیمیں انھیں شدت پسند تنظیموں اور جہادیوں کا ترجمان مانتی تھیں۔

شجاعت کے قتل سے پہلے وہ بعض ہندوتوا نواز عناصر کے ان الزامات سے خود کا دفاع کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کے اشارے پر چل رہے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے جب انھوں نے کشمیر میں امن کا کوئی راستہ نکالنے کے لیے کے دبئی میں ایک ٹریک ٹو ٹائپ کے مذاکرات کا اہتمام کیا تھا تو کشمیر کی شدت پسند تنطیمون نے اسے انڈیا کا سپانسر کیا ہوا پروگرام قرار دیا تھا۔

ایک صحافی کے طور پر شجاعت بخاری کی ساکھ کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ انھیں تقسیم کے دونوں جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ تجزیہ کار نروپما سبھرامنین لکھتی ہیں کہ شجاعت کشمیر کو دلی سے آگے دنیا کے دوسرے دارالحکومتوں میں لے کر گئے اس امید میں کہ شاید کشمیر کو وہاں کچھ ہمدردی مل سکے اور لوگ کسی پیشگی تعصب کے کشمیر کو تشدد کے جہنم سے نکالنے میں مدد کر سکیں ۔ شجاعت کی ٹارگٹ کلنگ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کشمیر میں اب کوئی راستہ محفوظ نہیں ہے۔

شجاعت کی ہلاکت گذشتہ 15 برس میں پہلا ہائی پروفائل ٹارگٹڈ قتل ہے۔ ان کا قتل کس نے کیا اس کے بارے میں بھی اپنی اپنی نظریاتی وابستگی کی بنیاد مفروضے قائم کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بحث میں اس حملے میں انڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب انڈین ٹی وی چینلز اس میں پاکستانی شدت پسندوں کا ہاتھ بتاتے ہیں۔ماضی میں بھی کشمیر میں صحافیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں سٹیٹ ایکٹرز یا نان سٹیٹ ایکٹرز کا ہاتھ ہوتا ہے یہ پتہ نہیں چل پاتا اور یہ بحث یونہی چلتی رہتی ہے۔

کشمیر اب ایک انتہائی خطرناک خطہ بن گیا ہے۔ انڈیا کی دائیں بازو کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں شورش کو طاقت کے بل پر دبایا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد شدت پسندی کی طرف مائل ہونے والے نوجوانوں کی تعد اد بڑھتی جا رہی ہے۔

مذاکرات کے راستے بند کیے جانے کے بعد علحیدگی پسندوں کی مذکرات میں یقین رکھنے والی قیادت اپنی معنویت اور سا کھ سبھی کچھ کھو چکی ہے۔ سنگ بازی اب ایک نئے قسم کی شدت پسندی اور مزاحمت کا حربہ بن گئی ہے۔ موت اب سوگ نہیں اکثر جشن کا باعث ہوتی ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر غیر اختیاری ہو چکی ہے۔ ہر آنے والا دن کشمیر کے حالات کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ کنٹرول لائن بھی انتہائی متحرک ہے۔ ہر کسی کو پتہ ہے کہ کشمیر اپنے کسی حل سے کافی دور نکل چکا ہے۔ امن کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔

کشمیر اب انتہائی خطرناک مرحلے میں ہے ۔ بات چیت کے امکان کے سارے بھرم ٹوٹ چکے ہیں ۔ طاقت کے استعال سے کشمیریوں کے مرنے کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن مزاحمت مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ کمشیر تشدد کا ایک ایسا بھنور بن چکا ہے جس میں انڈین ریاست بھی پھنس چکی ہے اور شدت پسند بھی۔شجاعت بخاری نے اپنے آخری ایام کے ایک تبصرے میں لکھا تھا کہ آنے والے دنوں میں کشمیر کی صورتحال کافی مشکل ہوگی۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...