بدھ , 26 ستمبر 2018

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت)
جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء پر رہنے والوں کے لئے امتحان بن کر اترتی ہیں اور بعض اوقات یہ امتحان، عذاب بھی ثابت ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ شہریوںکو بلبلانے کی قسم کھائے بیٹھی ہو۔ ایسے میں صبرو رضا اور برداشت کا مہینہ رمضان المبارک بھی آجائے تو معاملہ دگر گوں ہوجاتا ہے ۔ اب کے جو رمضان المبارک آیا تو اس کا پہلا عشرہ سچ مچ عشرہ رحمت ثابت ہوا آسمان پر گھنگھور گھٹا چھائی۔ رم جھم پھوار بھی پڑی اور موسلا دھار بارشوں کا نزول بھی ہوا۔ میدان جل تھل بھی ہونے لگے اور موسم میں اچھی خاصی خوشگوار تبدیلی روزہ داروں کے لبوں پر کلمہ شکر بجا لانے کا باعث بننے لگی۔ لیکن جب عشرہ رحمت نے عشرہ مغفرت کا روپ دھارا تو روزہ داروں کو دہکتی گرمی سے سلگتے دن اور رات گزارنے پڑے اور وہ زبان حال سے عشرہ مغفرت کا وظیفہ استغفراللہ ربی و اتوبُ الیہ کرنے لگے۔ رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ نار جہنم سے آزادی کا عشرہ تھا۔ اس عشرے کے دوران بھی اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ آسمان پر کالے بادل چھائے۔

باران رحمت کا نزول ہوا اور موسم میں اچھی خاصی خوشگوار تبدیلی آگئی۔ عرض کرچکا ہوں کہ سال کے گرم ترین مہینے جون کا وسط ہے۔اس مہینے سورج کی عمودی کرنیں زمین والوں کی سخت جان ہونے اور ان کے برداشت کا امتحان لیا کرتی ہیں۔ اور کبھی کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے کہ شدید گرمی کی دجہ سے لوگ سن سٹروک اور گردن توڑ بخار کے علاوہ پیٹ کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں شدت گرما کے مارے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں کے اندر اور ٹھنڈی جگہ پر رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لوگ گرمی کا اثر زائل کرنے کے لئے سوئمنگ پولوں کا رخ کرتے ہیں یا نہروں کے آلودہ پانی میں چھلانگیں لگا کر ہم خرمہ و ہم ثواب کے مصداق سیرو تفریح بھی کرتے اور بدن ٹھنڈا کرنے کے بہانے بھی تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوتے نظر آتے ہیں۔ بات جون کے مہینے کی گرمی کی ہورہی ہے۔ جب رمضان المبارک کا آغاز نہیں ہوا تھا تو ہم میں سے اکثر یہ سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگے تھے کہ اب کے رمضان المبارک کا روزہ رکھنا بہت مشکل ہوگا۔ لیکن اللہ کا کرنا ہماری سوچ کے برعکس

رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں

کے مصداق رمضان المبارک آکر گزر بھی گیا۔ ہم کہتے رہ گئے کہ ’الوداع ماہ رمضان‘ اور پھر ہمیں استقبال کرنا پڑا ان ساعتوں کا جنہیں عید الفطر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اگر جون کی گرمی آڑے آئی تو عید الفطر کے مزے کے کر کرا ہوجانے کے امکانات ہونگے۔ میٹھی عید میٹھی نہ رہے گی۔ اس کے رنگ خاکم بدہن پھیکے پڑ جائیں گے۔ ایسے میں عید منانے والے کیا کریں گے۔ ظاہر ہے کڑی دھوپ میں نکل کر عید تو منائی نہیں جاسکتی۔ اس لئے عید منانے کا ارمان دل میں دبا کر لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھے رہ جانے کو ترجیح دینگے اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو عید منانے کے بہانے کسی دریا کنارے نکل جائیں گے ہمارے شہر کے قریب کنڈ پارک اور سردریاب جیسے مقامات کی کمی نہیں جہاں پہنچ کر لوگ تفریح کے مزے بھی لیتے ہیں نہاتے اور پانی بھی اچھالتے ہیں اور اہتمام کام و دہن بھی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ٹکٹ کٹا کر اپنے صوبے کے پر فضا مقامات پر پہنچ کر عید کے مزے لوٹنے لگتے ہیں اور ان کو خبر ہی نہیں ہوپاتی کہ اس بہانے وہ خود کتنے لوٹے جارہے ہیں۔

ایبٹ آباد، نتھیا گلی، ٹھنڈیانی، ملکہ کوہسار کوہ مری، کاغان، ناران، سوات کے بہت سے مقامات ہیں جہاں پہنچ کر گرم موسم کی عید کو قلفی اور آئس کریم کی طرح ٹھنڈا کرکے منایا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے کھیسے میں بہت ساری دولت ہوتی ہے۔ رمضان کے مہینے کے بہت سارے مہنگ فروش پہنچ جاتے ہیں ایسے پر منظر اور پر فضا مقامات پر اتنی رش ہو جاتی ہے کہ جگہ جگہ ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ ہوٹلوں میں کمرے نہیں ملتے اور ایسے موسم میں ایسے مقامات پر عید منانے والے سڑکوں پر رات گزارنے میں بھی کسی قسم کا عار محسوس نہیں کرتے ۔

ضروری نہیں کہ یہ لوگ عید کے دن ہی یہاں پہنچیں وہ جب چاہیں یہاں آکر سیر کے بہانے عید منا سکتے ہیں ۔ کیونکہ عید تو نام ہے لوٹ لوٹ کر آنے والی خوشی کا جو ہسپتال کے بیڈز پر پڑے ہوئے مریضوں کے پاس نہیں آتی۔ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کے پاس نہیں جاتی ۔ چلچلاتی دھوپ اور ریکارڈ گرمی میں سڑک پر بجری اور تارکول بچھانے والے مزدور کے ہاں نہیں پہنچتی ۔ چیتھڑے پہنے بچوں بھوکوں ننگوں بھک منگوں کے پاس نہیں آتی۔

دعا کریں کہ اب کے جو عید آئی ہے اپنے ساتھ خوشگوار موسم بھی لے آئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے جو ملکہ کوہسار کے دامن کو چھونے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہ جو عید ہم گزار رہے ہیں نا رمضان المبارک کے فوراً بعد اسے چھوٹی عید، میٹھی عید اور عید الفطر کہتے ہیں ، اور عید الفطر نام ہے اس صدقے کا جو تعلیمات اسلام کی روشنی میں غرباء اور مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے۔بشکریہ مشرق نیوز
کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالب
تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...