بدھ , 12 دسمبر 2018

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

(محمد منیر طاہر)
’’مسلمانوں کا رمضان میں کام کرنا ہمارے لیے خطرناک ہے، اگر مسلمانوں کو روزے رکھنے ہیں تو کام سے چھٹیاں لیں وگرنہ معاشرے پر رمضان کا منفی اثر ہوگا اور ہم سب کا نقصان ہوگا۔ 1400 سالہ پرانی یہ روایت 2018 کی ہماری جاب انڈسٹری میں فٹ نہیں بیٹھتی۔‘‘ ڈنمارک کی انٹگریشن کی وزیر کا یہ بیان صرف ایک جھلک ہے اس اینٹی مسلم سیاست کا جو پچھلے چند سالوں سے یورپ کی سیاست کا محور بننا شروع ہوئی۔ موافق ہو یا مخالف لیکن آج یورپ کی ہر سیاسی جماعت کی سیاست اسی ایشو کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مذکورہ منسٹر کے اس بیان کو گارجین سمیت معتبر یورپین اخبارات نے جلی سرخیوں میں شائع کیا۔ ناروے جیسے تہذیب و اخلاقیات کے چیمپئین نے تمام تعلیمی اداروں میں بُرقعے اور نقاب پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ کل پاس ہونے والے پارلیمنٹ کے اس قانون کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں طالبات اور ٹیچرز کسی بھی شخص کو اپنا چہرہ جزوی یا کلی طور پر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈے کیئر سینٹرز میں کام کرنے والی خواتین پر اس قانون کا اطلاق ہوگا۔

اگرچہ پورے یورپ میں یہی صورتحال ہے لیکن فرداً فرداً ہر ملک کی تفصیل لکھنا یہاں ممکن نہیں۔ راقم الحروف چونکہ ڈنمارک میں مقیم ہے تو میں یہاں کے حالات کی تصویر کشی کرکے یورپ کی جھلک دکھاتا ہوں۔ ڈنمارک میں بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور ہوچکا ہے اور یکم اگست سے لاگو ہونے والا ہے۔ ڈنمارک میں آج سے پچاس سال قبل پہلی مسجد قائم ہوئی، یہاں تین لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کی آبادی میں پچھلے دس سال میں چالیس فیصد اضافہ ہوا؛ ان میں سے ستر فیصد ڈینش نیشنلٹی رکھتے ہیں۔ 151 مساجد رجسٹرڈ ہیں لیکن مسلمانوں کا عملی کردار معاشرے میں بہت کم ہے۔ ترکی اور عربی مسلم اگرچہ کچھ نہ کچھ لوکل سیاست میں موجود ہیں۔ یہاں کی قومی سیاست میں بہت دیر تک صرف تین یا چار پاکستانی سرگرم رہے۔ اگرچہ اب نوجوان اس طرف آرہے ہیں اور یہاں کی پارلیمنٹ میں حالیہ الیکشن میں آٹھ پاکستانی نوجوان اور دو نوجوان خواتین جیت کر ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں لیکن ابھی اس میدان میں بہت کام کرنا باقی ہے۔

اگر میڈیا کا معاملہ دیکھیں تو یہاں بہت ویکیوم ہے، اگرچہ چار مقامی ایف ایم اردو ریڈیو کام کررہے ہیں لیکن قومی مباحث میں اور ٹی وی چینلز پر مسلم نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستانی تنظیمات کو دیکھیں تو سماجی تنظیمات کافی ہیں لیکن وہ مساجد اور اپنی کمیونٹی تک محدود ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی یہی حالات ہیں، لیکن ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر نے مذکورہ منسٹر کو اسی اخبار میں تفصیلی مضمون لکھ کر منہ توڑ جواد دیا ہے، جس بیان کا ذکر اس مضمون کے شروع میں کیا گیا۔ ڈاکٹر عرفان ظہور احمد نہ صرف ایک ماہر معالج ہیں، کوپن ہیگن یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں اورمنہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں میڈیکل ریسرچ سے ثابت کیا کہ انسانی جسم اور معاشرے پر روزے کے اثرات مثبت ہیں اور اس سے ڈینش معاشرے کو خوف زدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر ہیں جو 2005 میں کشمیر زلزلے کے بعد پاکستانی ڈاکٹرز کی پوری ٹیم کے ساتھ ڈنمارک سے زلزلہ زدگان کی مدد کو آئے تھے، ان کی ٹیم نے یہاں فنڈز بھی اکٹھے کیے تھے اور ڈنمارک کی ملکہ نے بھی اس ٹیم کو عطیات دیئے تھے، بعد ازاں ان کو ڈینش حکومت نے اس انسانی ہمدردی پر ایوارڈ بھی دیا تھا، وزیر موصوفہ کے بیان کے واقعے کے بعد ان کی تنظیم نے حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے ڈینش معاشرے میں مساجد اور مسلمانوں کے کردار کے موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا، جس میں ڈنمارک کے تمام سیاسی مسلمان راہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور چیدہ چیدہ سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔

اس مباحثے میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بحث ہوئی، وجوہ کا تعین کیا گیا اور آئندہ حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ اس میں خصوصی طور پر نومسلم ڈینش نوجوان کیسپر مچھیسن نے شرکت کی جو ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے کردار پر ڈاکٹریٹ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپ اور ڈنمارک کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت ہے، سنگاپور کی ایک مسجد کو بطور ماڈل پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس کا حل مساجد کو صرف عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے سوشل سینٹرز بنانا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو کھولو، یورپین لوگوں کو اپنی سینٹرز میں آنے دو تاکہ ان کا خوف اور تجسس ختم ہو، پھر یہ تمہارے سفیر ہونگے اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پراپیگنڈا اپنی موت آپ مرجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انٹگریشن کا بہترین حل یہ حدیث ہے کہ اچھا بولو یا چپ رہو اپنے پڑوسی کے ساتھ حلیم بنو اور اچھا سلوک رکھو۔

واضح کرتا چلوں کہ سنگاپور کی یہ مسجد ایسا کمیونٹی سینٹر ہے جہاں ہروقت چائے کافی کے لوازمات مفت موجود ہیں جن کی بنا پر غیر مسلم لوگ اپنی میٹنگز بھی یہاں کرتے ہیں اور اکثر مسلم ممالک کے سفیر نماز جمعہ بھی یہیں ادا کرتے ہیں۔

میرے خیال میں اس نوجوان مسلم نے درست حل بتایا ہے کہ مسلمان اپنی اقدار کو زندہ رکھتے ہوئے معاشرے میں انٹیگریٹ ہوجائیں تو یورپ کی اینٹی مسلم سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔ کیونکہ انٹگریشن کا یہ ماڈل ہمارے نبی کریم ﷺ دے چکے ہیں جب انہوں نے مدینہ کو مسلمانوں و یہود کی ریاست کا نام دیتے ہوئے ان کی مذہبی اقدار کے تحفظ کا اعلان فرمایا تھا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...