بدھ , 26 ستمبر 2018

الحدیدہ حملہ، عرب ثقافت اور عالمی قانون

(تحریر: سید اسد عباس)
عرب ثقافت اور رواج کے خلاف ایک حرمت والے اور رحمتوں بھرے مہینے میں عرب اتحادی افواج زمینی کارروائی کے لئے ایک آزادی پسند اور غریب مسلمان ملک یمن کے شہر الحدیدہ میں اتاری جاچکی ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق اس فوج میں دو ہزار اماراتی فوجی شامل ہیں۔ اسی طرح سعودی فوجی بھی اس حملہ آور گروہ کا حصہ ہیں۔ اتحادی ذرائع کے مطابق زمینی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہے، جس میں عرب اتحاد کی جانب سے فضائی اور بحری سپورٹ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق الحدیدہ شہر کی جانب ایک سے زیادہ سمت سے پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ اس حملے کا مقصد آبنائے باب المندب میں بحری جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔ عرب ثقافت اور رواج تو ایک جانب جدید عالمی قوانین کے مطابق بھی یہ حملہ غیر قانونی ہے۔ عرب اتحاد گذشتہ تین برسوں سے یمن کے معاملات میں دخیل ہے اور وہاں جمہوریت لانے کے لئے مرا جا رہا ہے، حالانکہ یہ پریشانی انہیں پہلے اپنے ملکوں کے لئے ہونی چاہیے، مگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورے کے مطابق عرب اتحاد میں شامل ان آمروں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

سابق یمنی صدر عبد المنصور ہادی کے حامی جنگجوؤں کی پشت پناہی، انہیں اسلحے کی فراہمی اور فضائی بمباری جب نتیجہ بخش نہ ہوئی تو عرب اتحاد کے ان ممالک نے اپنے مغربی آقاؤں کی آشیرباد اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یمن میں زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب اتحاد میں شامل ممالک گذشتہ تین برسوں سے یمن پر فضائی حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی کرنے والی یمن کی کثیر آبادی ان حملوں کے نتیجے میں قحط اور دیگر وبائی امراض کے خطرے سے دوچار ہے۔ الحدیدہ شہر اپنی اہم بندرگاہ کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بندرگاہ گذشتہ تین برسوں سے عرب اتحادی افواج کے محاصرے میں ہے۔ قحط کے خطرے سے دوچار ملک کی سترہ فیصد درآمدات اسی بندرگاہ کے ذریعے ملک میں آتی ہیں۔ عرب اتحادی افواج کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ نے قبل ازیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں قیامت خیز تباہی ہوسکتی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق حدیدہ شہر پر حملے کی صورت میں قحط زدہ ملک میں تین لاکھ بچوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونیسف کے مطابق یمن میں ستر لاکھ سے زائد افراد امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں اور اس خوراک کا زیادہ تر حصہ اسی بندرگاہ سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس زمینی کارروائی کے بارے میں عرب اتحاد کا موقف ہے کہ حوثی اس بندرگاہ کو اسلحہ کی نقل و حرکت کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور انہوں نے اس بندرگاہ کو چھوڑنے کے تمام سیاسی اور سفارتی مواقع کو ضائع کر دیا۔ برطانیہ میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر سلیمان المزروعی نے حملے کی ایک اور وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں عرب اتحادی فوج کے آپریشن کا مقصد خطے میں ایک اور حزب اللہ کو سر اٹھانے سے روکنا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں امارتی سفیر کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد کو یمن میں اس لئے مداخلت کرنا پڑی کہ ایران وہاں ایک اور حزب اللہ کو پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حوثی باغی یمن کی حزب اللہ ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ مل کر جزیرۃ العرب کو یرغمال بنانے کی سازش کی، تاہم عرب اتحاد نے بروقت کارروائی کرکے دشمن کی سازش ناکام بنا دی۔

عجیب و غریب منطق ہے، کیا انصار اللہ اور حوثی 2015ء سے قبل بھی کسی ہمسایہ ملک پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ایک ایک دن میں سینکڑوں شہریوں کے جنازے اٹھانے کے باوجود انصار اللہ نے صبر و ضبط سے کام لیا اور ہمسایہ عرب ممالک پر حملہ آور نہ ہوئے۔ اب جبکہ تین سال گزرنے کے بعد اپنے دفاع میں انہوں نے سرحدی علاقوں میں سعودیہ کے عسکری مقامات پر حملوں کا آغاز کیا ہے تو وہ حزب اللہ بن رہے ہیں۔ آمریت کی یقیناً کوئی سرحد نہیں ہے، ایک آمر جب اپنے ملک میں آمریت قائم کر چکتا ہے تو وہ اپنے ارد گرد بھی اپنے تسلط کو دیکھنا چاہتا ہے، یہی عمل ہم نے بحرین کی سیاسی تحریک کو کچلنے کے لئے ملاحظہ کیا، تاہم ضروری نہیں کہ ہر مقام پر نتیجہ ایک ہی طرح کا ہو۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ الحدیدہ کی جنگ میں فاتح کون ہوتا ہے، تاہم عربوں کا ایک اسلامی ملک کے خلاف کردار اور ظلم و بربریت اب کسی سے پنہاں نہیں رہا۔ یہ عرب اتحاد جو گذشتہ تین برسوں سے یمن کے غریبوں پر حملہ آور ہے، فلسطین کے مظلوموں کے لئے چوں بھی نہیں کرتا۔ اللہ کے حضور دعا ہے کہ وہ امور مسلمین میں موجود ان مفاسد کی اپنے پاک مہینے کے صدقے جلد از جلد اصلاح فرمائے۔آمین

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...