منگل , 17 جولائی 2018

ملا فضل اللہ کی ہلاکت، فساد فی الارض کی ایک کہانی تمام ہوئی

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)
سوات کے ملا ریڈیو اپنے سسر صوفی محمد سے بغاوت کیساتھ ہی پاکستان کے دشمنوں سے جا ملے تھے، وہ ہماری سیکورٹی فورسز کیلئے درد سر بنے ہوئے تھے۔ اسی لیے سوات میں فوجی آپریشن سے قبل حکومت پاکستان نے مولوی فضل اللہ کو پکڑنے میں مدد دینے پر انعام کا اعلان کیا تھا اور جون 2009 میں ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی تھی۔ اس علاقے میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد 2009 کے آخر میں فضل اللہ افغانستان کے صوبہ نورستان فرار ہوگئے، جہاں وہ اب بھی مقیم تھے۔ ملا فضل اللہ نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ منتخب ہوئے تھے، ان پر افغانستان میں قیام کے باوجود پاکستانی سرزمین پر شدت پسندی کی کارروائیاں کروانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی، جس کے نتیجے میں کم ازکم 150 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر معصوم بچے تھے۔ ٹی ٹی پی سربراہ بننے سے قبل ملا فضل اللہ نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ ستمبر 2013 میں پاک آرمی کے میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کے قتل کے ساتھ ساتھ اکتوبر 2012 میں سوات میں نوجوان طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملے میں بھی ان ہی کا ہاتھ ہے۔ 2015 کے جنوری میں اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف کے دورہ کابل کے متعلق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عالم خٹک نے پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ان کیمرہ اجلاس میں بتایا تھا کہ نرل راحیل شریف کے دورہ امریکا کے حوالے سے بریفنگ کے دوران سکیورٹی صورتحال اور افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکا کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ہندوستانی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے ہیں، امریکا نے پاکستان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملا فضل اللہ کو افغانستان میں مارنے یا زندہ پکڑنے کی مکمل یقین دہانی کرادی ہے، جب کہ گرفتاری کی صورت میں انھیں ہر صورت پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کمیٹی اراکین کو بتایا گیا کہ امریکا رواں برس کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کو ایک ارب امریکی ڈالر فراہم کرے گا جبکہ سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی آلات بھی فراہم کیے جائیں گے. دراصل امریکہ کی طرف سے پاکستان کیلئے مختلف طریقوں سے پیسوں کا لین دین بھی ایک وجہ تھی کہ ملا فضل اللہ جیسے لوگ بچے رہے۔ اب یہ دور ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف کے دورہ کابل سے واپسی پر ایک بڑی خبر آئی ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے حکام نے صوبہ کنّڑ میں امریکی فوج کی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملا فضل اللہ 13 جون کو کنّڑ میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل مارٹن اوڈونل کی جانب سے جمعرات کی شب ایک بیان جاری گیا تھا جس میں کہا گیا کہ 13 اور 14 جون کی شب امریکی فوج نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا ہدف دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم کا سینیئر رہنما تھا تاہم اس وقت امریکی فوج کی جانب سے کارروائی اور اس میں نشانہ بنائے جانے والے افراد کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم جمعے کی صبح افغان حکام نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کا ایک بیٹا بھی رواں برس مارچ میں ڈرون حملے میں ہی مارا گیا تھا۔ ادھر پاکستانی انٹیلیجنس کے ذرائع کے مطابق 13 جون کو ملا فضل اللہ کنّڑ کے ضلع مروارہ میں واقع بچائی مرکز میں منعقدہ افطار پارٹی میں گئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت ان کے ہمراہ ان کے تین ساتھی بھی موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن کی لاشیں جل گئیں اور انھیں 13 جون کی شب ہی بچائی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تاحال طالبان کی جانب سے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان شوری کی جانب سے نئے امیر کا نام چننے پر اتفاق رائے کے بعد ہی تحریک طالبان ملا فضل اللہ کے مرنے کی تصدیق کرے گی۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں تاہم بعدازاں ان کی تردید کر دی گئی تھی۔

گذشتہ ہفتے کابل میں سینکڑوں علما کے اجلاس پر حملہ ہوا، افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور افغان حکام نے کہا کہ افغانستان میں 77000 دہشت گرد ہیں۔ داعش افغانستان میں پھیل رہی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنی ہو۔ سنہ 2007 میں قائم کی جانے والی تنظیم کے بانی رہنما اور پہلے امیر بیت اللہ محسود اور ان کے جانشین حکیم اللہ محسود جیسے کئی اہم ترین رہنماؤں کی ہلاکت امریکی ڈرون حملوں میں ہی ہوئی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب افغانستان میں حکومت نے عید کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہوا ہے اور طالبان نے بھی اسے قبول کیا ہے۔ امریکی بیان میں اس بارے میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیں اور نیٹو اتحاد صدر اشرف غنی کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی حامی ہیں لیکن امریکہ کی دولت اسلامیہ، القاعدہ اور دیگر مقامی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوششیں اس جنگ بندی میں شامل نہیں۔

ملا فضل اللہ کون تھا؟
فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابوکارخیل شاخ سے تھا اور وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی تھے۔ انھیں 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔ وہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر بھی قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔ پاکستانی حکام 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ملا فضل اللہ کو ہی قرار دیتے ہیں۔ اس حملے میں 148 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ امریکی حکومت نے فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اور پاکستانی طالبان کے سربراہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی تھا۔ پاکستان امریکہ سے متعدد بار مطالبہ کر چکا تھا کہ وہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے۔

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والے شدت پسند مولوی فضل اللہ 2013 میں تحریک طالبان کے سربراہ مقرر ہوئے تو ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ سابق قائد حکیم اللہ محسود سے زیادہ خطرناک اور زیادہ پرتشدد رجحان کے مالک ہیں۔ مولوی فضل اللہ کے دور میں جہاں سوات کی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو حملے میں نشانہ بنایا گیا وہیں پشاور میں بچوں کے سکول پر حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھا دیا اور پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کے مطالبات شدت پکڑ گئے۔ اگرچہ پاکستان قبائلی علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے کارروائیوں میں شدت لایا لیکن مولوی فضل اللہ افغانستان میں موجود ہونے کی وجہ سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی پہنچ سے ہمیشہ دور رہے اور پاکستان کی جانب سے امریکی اور افغان حکام سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات کیے جاتے رہے تھے۔ فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابوکارخیل شاخ سے تھا اور وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی تھے۔ تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد مولوی فضل اللہ نے جہانزیب کالج سوات سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تین درجوں تک دینی تعلیم بھی حاصل کی تھی تاہم وہ زیادہ تر صوفی محمد کی صحبت میں رہے جہاں وہ درس و تدریس کے کاموں میں شرکت کرتے رہے۔

اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو مولانا صوفی محمد مالاکنڈ ڈویژن سے ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ جنگ کے لیے افغانستان لے گئے جن میں مولانا فضل اللہ بھی شامل تھے۔ افغانستان سے واپسی پر فضل اللہ گرفتار ہوئے اور تقریباً 17 ماہ تک جیل میں رہے۔ انھوں نے سنہ 2005 اور 2006 میں سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل شروع کیا جس کی وجہ سے انہیں بہت کم عرصے میں لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ایف ایم چینل پر مغرب خصوصاً امریکہ، حفاظتی ٹیکوں، لڑکیوں کی پڑھائی کے خلاف خطبے دیے گئے۔ 2006 میں ملا فضل اللہ نے علاقے میں ‘شریعت’ کے نفاذ کے لیے عملی اقدمات بھی شروع کر دیے جس میں مقامی تنازعات کے فیصلے کرنا اور گلی کوچوں میں جنگجوؤں کا گشت شامل تھا۔ پھر بات حد سے بڑھتی گئی اور وادی میں خودکش حملوں، سکولوں پر حملے اور اِغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا تو مقامی انتظامیہ نے مولوی فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا ارادہ کیا جس کے بعد پھر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ کارروائی شروع ہوئی۔ نومبر 2007 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ اکرم درانی نے وفاقی حکومت سے سوات میں فوج بھیجنے کی درخواست کی اور فوج ایک محدود مینڈیٹ کے ساتھ سوات میں آئی۔ تاہم فوجی کارروائیوں کے دوران بھی خودکش حملے، سکولوں پر حملے اور اغوا کے واقعات ہوتے رہے۔ سرکاری دفاتر بہت حد تک محدود ہو کر رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ فضل اللہ نے سوات میں اپنی عدالتیں بھی قائم کر دیں۔ فروری 2009 میں خیبر پختونخوا کی حکومت نےتحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما صوفی محمد کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق حکومت سوات اور مالاکنڈ سمیت آٹھ اضلاع میں ایک متوازی نظامِ عدل ‘شرعی عدالتیں’ قائم کرنا تھا۔ اس کے بدلے میں صوفی محمد نے مولانا فضل اللہ کو تشدد سے باز رہنے کے لیے کہنا تھا۔

تاہم مولانا صوفی محمد اپنے داماد مولانا فضل اللہ کے مسلح طالبان کے سامنے بے بس دکھائی دیے اور وہ معاہدے اور وعدے کے مطابق طالبان کو غیر مسلح کرنے اور انہیں متوازی حکومت چلانے سے روکنے میں ناکام رہے۔ مئی 2009 میں پاکستانی فوج نے سوات میں فیصلہ کن کارروائی شروع کی تو ضلع کے بیشتر مقامات سے مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں کو شکست کے بعد نکال دیا گیا۔ اسی کارروائی کے دوران مولانا فضل اللہ اچانک غائب ہو گئے اور بعد میں انہوں نے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے افغانستان چلے جانے کی تصدیق کی اور ان کی پاکستان کے کسی علاقے میں موجودگی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق فضل اللہ سمیت دیگر شدت پسندوں نے افغانستان کے علاقوں کنڑ اور نورستان میں محفوظ ٹھکانے بنا لیے تھے اور وہ وہیں سے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے رپے جن میں پشاور میں آرمی پبلک سکول کا حملہ بھی شامل ہے جس میں 148 افراد مارے گئے تھے جن میں سے بیشتر بچے تھے۔

افغانستان میں ان کے قیام کے دوران افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے دیر میں سکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے ہونے والے متعدد حملوں میں مولانا فضل اللہ کے گروپ کا نام سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے گذشتہ کچھ عرصے سے اعلیٰ ترین سطح پر امریکی اور افغان حکام پر افغانستان میں موجود ملا فضل اللہ اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبے میں شدت آئی تھی۔ پاکستان میں گذشتہ برس شدت پسندی کے واقعات کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان سرزمین پر موجود شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے نشانہ بنایا تھا اور ان کارروائیوں پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ بدھ کی رات افغان صوبہ کنڑ میں فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے اور جہاں وہ تحریک طالبان کے پہلے رہنما نہیں تھے جنھیں امریکہ نے ہدف بنایا وہیں یہ پہلا موقع ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کا کوئی سربراہ افغان سرزمین پر مارا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خدارا پاکستان پر رحم کرو

(حامد میر) اس نے اپنی زندگی کی آخری تقریر کاآغازبسم اللہ الرحمان الرحیم سے کیا۔ ...