بدھ , 26 ستمبر 2018

قرآن سے محبت کرنے والا ہندو خاندان

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)انڈیا کے شمال مغربی علاقے جموں کے ابرول خاندان میں قرآن کے نسخوں کو سنبھالنے کا سلسلہ تقسیم ہند سے پہلے سے جاری ہے۔اس خاندان کی تیسری نسل کے سریش اب ان نسخوں اور خطاطی کے نادر نمونوں کے وارث ہیں۔ان کے کلیکشن میں تقریبا پانچ ہزار نسخے اور فن خطاطی کے ڈھائی سو نادر نمونے ہیں۔

سریش ابرول کے دادا اپنے والد کے ساتھ آخری ڈوگرا حکمراں مہاراج ہری سنگھ کے دربار میں حاضری دیا کرتے تھے۔مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1952 ء تک جموں و کشمیر پر 27 سال تک حکومت کی۔سریش ابرول کا خاندان زیورات اور زرو جواہرات کے کاروبار سے منسلک ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے دادا لالہ رکھی رام ابرول ہری سنگھ کے خزانے کے زیورات کے نگراں تھے۔وہیں سے انھوں نے رفتہ رفتہ قلمی نسخے، فن کتابت یا فن خطاطی کے نادر نمونے اور تانبے اور سونے کے سکے اکٹھا کرنا شروع کیے۔

سریش ابرول کے پاس فی الحال پانچ ہزار قلمی نسخے ہیں جن میں عربی، سنسکرت، فارسی، شاردا زبان و ادب کے زخائر شامل ہیں۔ ان میں آیوروید (طب) کے متعلق نسخے بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے درالحکومت سرینگر میں سریش ابرول کے کلکشن کی نمائش منعقد کی گئی۔ اس نمائش میں، قرآن کے دو قلمی نسخوں نے لوگوں کو بطور خاص اپنی جانب متوجہ کیا۔ان میں سے ایک قرآن کریم کاغذ پر جبکہ کلام پاک کا دوسرا نسخہ کھدر کی ایک چادر پر لکھا ہوا نظر آیا۔

سریش ابرول کہتے ہیں: ‘دونوں ہی قرآن اپنے آپ میں مکمل ہے یعنی پورے 30 پارے ہیں۔ کاغذ پر تحریر کلام پاک ایک فٹ چوڑا جبکہ پانچ فٹ لمبا ہے۔’کپڑے پر لکھا قرآن ساڑھے چار فٹ لمبا اور ساڑھے پانچ فٹ چوڑا ہے۔ دونوں کو واضح طور پر دیکھنے اور پڑھنے کے لیے دس یا بیس محور کا لینس استعمال کرنا پڑتا ہے۔

ابرول خاندان نے تقریبا 90 سال سے یہ منفرد و نادر چیزیں سنبھال کر رکھی ہیں۔ بہرحال انھیں اس بات کا علم نہیں کہ قرآن کریم کے یہ قلمی نسخے کتنے پرانے ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔سریش بتاتے ہیں گذشتہ 30-35 سال سے لوگوں نے انھیں اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنی شروع کی ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنے طور پر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ کتنے سال پرانے نسخے ہیں۔قرآن کے دونوں نسخوں پر کاتب کا نام درج نہیں ہے۔

طلائی شجرۂ نسب
ابرول کہتے ہیں: ‘پرانے لوگ ملنگ (اپنے آپ میں مگن رہنے والے) قسم کے ہوا کرتے تھے۔ انھیں اس بات میں دلچسپی نہیں رہتی تھی کہ ان کا نام درج ہوا کہ نہیں۔ وہ لوگ گمنامی میں زندگی گزارنا پسند کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے ان نسخوں پر کوئی بھی نام درج نہیں ہے۔’نمائش کے لیے ابرول نے کتابت کے تقریبا 40 نمونے رکھے جن میں شجرۂ نسب بھی شامل ہے۔

شجرۂ نسب میں حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد تک پیغمبروں کے نام درج ہیں۔ اسلام کے مطابق حضرت آدم پہلے انسان اور پہلے نبی ہیں۔ابرول نے بتایا کہ سرینگر میں نمائش کے لیے رکھا جانے والا شجرۂ نسب سونے کا تھا۔جبکہ 40 کتابت کے نسخے ویلم یعنی جانوروں کی کھال پر تحریر ہیں۔

‘ہر مذہب کے مخطوطے مقدس ہیں’
ابرول کہتے ہیں: جس طرح ہمارے اپنے مذہب کے قلمی نسخے مقدس ہیں، اسی طرح دوسرے مذاہب کے بھی قلمی نسخے ہمارے لیے مقدس ہیں۔ ہم اور بطور خاص ہماری اہلیہ عموما پوجا (عبادت) کے بعد ہر ایک قلمی نسخے کے سامنے اگربتی جلاتی ہیں۔اپنے گھر کے ایک حصے میں ابرول اور ان کے تین بھائیوں نے ایک میوزیم بنا رکھا ہے اور یہیں تمام قلمی نسخوں اور خطاطی کے نمونوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سکھ مذہب کی گرباني کی ساكھياں بھی ان کے پاس ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے گرو نانک کہاں کہاں گئے، کس کس سے ملے اور کیا کیا مواعظ دیے۔وہ کہتے ہیں کہ انھیں اگر وراثت میں کچھ ملا ہے تو یہ وہ چیزیں ہیں۔لوگ سرینگر میں لگنے والی اس نمائش کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں آئے۔

ابرول نے بتایا: ‘یہاں آنے والے ہر شخص نے میری بہت تعریف کی اور محبت کا اظہار کیا۔اس نمائش کا انعقاد سری نگر کے ٹورسٹ ریسپشن سینٹر میں کیا گیا تھا جہاں جموں کشمیر حکومت کے آرکائیو اور میوزیم سے بھی قرآن کریم کے کئی نسخے اور چند نایاب مخطوطات رکھے گئے تھے۔منتظمین نے بتایا کہ پہلی بار قرآن مجید کے ان منفرد نسخوں کو نمائش کے لیے گھر سے باہر لایا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر: بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری جاں بحق

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت ...