منگل , 17 جولائی 2018

حدیدہ کی جنگ، یمنی عوام کیلئے فیصلہ کن کامیابی کا سنہرا موقع

(ڈاکٹر سعداللہ زارعی)
گذشتہ ہفتے پیر کے دن سے یمن میں الحدیدہ بندرگاہ پر قبضے کی خاطر سعودی اتحاد نے جو جنگ شروع کر رکھی ہے وہ انصاراللہ کی نظر میں ایک "جنگی موقع” محسوب ہوتا ہے۔ دوسری طرف امریکی، برطانوی، فرانسیسی، سعودی اور اماراتی اتحاد نے اسے "سنہری کامیابی” قرار دیا ہے۔ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ دونوں باتیں درست ثابت ہوں۔ یعنی ایک طرف پانچ رکنی سعودی اتحاد شدید ہوائی حملوں اور بمبار طیاروں کی مدد سے صوبہ الحدیدہ کے میدانی ساحلی علاقوں میں فوری کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور یوں اڑھائی سال کے بعد آخرکار یمن کے مختلف محاذوں میں ایک کامیابی حاصل کر پائے لیکن دوسری طرف جیسا کہ مارب، تعز، نہم اور صنعا میں ماضی کے جنگی تجربات ظاہر کرتے ہیں الحدیدہ کی جنگ سعودی اتحادی فوج کیلئے ایک "تباہ کن ٹریپ” ثابت ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ الحدیدہ پر قبضے کی خاطر گذشتہ چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران اب تک سعودی اتحاد میں شامل 700 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس جنگ کے بارے میں چند اہم نکات قابل ذکر ہیں:

1)۔ یمن کی جنگ کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا مرحلہ وہ تھا جس دوران انصاراللہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی حصے سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے اپنی فورسز بارہ شمالی صوبوں میں تعینات کر رکھی تھیں۔ دوسرا مرحلہ وہ ہے جس میں ملک کے شمالی حصوں میں سعودی، اماراتی اور ان کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے انصاراللہ یمن کو حملوں کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ پہلا مرحلہ ایک سال سے کم عرصے تک جاری رہا جبکہ دوسرے مرحلے گذشتہ 27 ماہ سے جاری ہے۔ انصاراللہ نے 27 ماہ پہلے جنوبی حصے کو ترک کر دیا تھا جبکہ آج تک وہاں سعودی اتحادی فورسز پائیدار امن قائم نہیں کر سکیں اور ایک طرح سے یہ علاقہ ان میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اس وقت "حضرموت” کا وسیع رقبے اور کم آبادی والا صوبہ متحدہ عرب امارات کے زیر کنٹرول ہے جبکہ اس صوبے کا شمالی حصہ القاعدہ کے قبضے میں ہے۔ اسی طرح یمن کے سب سے چھوٹے صوبے اور اہم ترین بندرگاہ "عدن” کا کنٹرول بھی متحدہ عرب امارات کے پاس ہے جس کے بعض علاقے سعودی حمایت یافتہ حکومت "بن دغر” کے قبضے میں ہیں۔

صوبہ تعز کے بعض علاقے متحدہ عرب امارات اور بعض علاقے اصلاح پارٹی کی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔ عمان کی سرحد پر واقع صوبہ مسترہ سعودی عرب کے زیر کنٹرول ہے۔ یہ تمام فورسز ایک اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود آپس میں لڑائی میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات بن دغر کی حکومت کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیتا ہے۔ جنگ اپنے دوسرے مرحلے میں محمد علی الحوثی کی سربراہی میں انصاراللہ کی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضے کے مقصد سے جاری رہی جس دوران سعودی اتحاد کو بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق تعز، مارب، نہم، صنعا، جوف اور الحدیدہ کی جنگوں کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے 10 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ زخمی ہو گئے۔ دوسرے مرحلے پر انصاراللہ نے اپنے دفاع اور جنگ کے خاتمے کیلئے اپنے حملوں کا دائرہ یمن کی سرحد کے قریب واقع سعودی صوبوں عسیر، جیزان اور نجران تک بڑھا دیا اور ان میں سے بعض صوبوں پر قبضہ کر لیا۔

گذشتہ 27 ماہ کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر بیان کی گئی جنگوں سے حاصل تجربات کی بنیاد پر مستقبل کی صورتحال کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں تو کہیں گے کہ کم چوڑائی اور زیادہ لمبائی والے یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے صوبے الحدیدہ میں شروع ہونے والی جنگ درحقیقت جارح قوتوں پر کاری ضرب لگانے کیلئے انصاراللہ اور یمنی عوام کیلئے ایک "سنہری موقع” ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے الحدیدہ میں جنگ کے نتیجے میں انسانی سانحہ رونما ہونے کی وارننگ دے رکھی ہے۔

2)۔ سعودی، اماراتی، امریکی، فرانسیسی اور برطانوی فوجی جنہوں نے ایک پانچ رکنی آپریشنل سیٹ اپ بنا رکھا ہے یہ گمان کر رہے ہیں کہ یمن کے ہموار مغربی ساحل پر فوجی آپریشن کے ذریعے تیز سے پیشقدمی کرتے ہوئے ساحل کے شمالی ترین حصے تک پہنچ جائیں گے اور اس طرح انصاراللہ کا سمندر سے رابطہ منقطع کر کے اسے شدید مالی اور فوجی بحران کا شکار کر دیں گے۔ لیکن وہ اس امر سے غافل ہیں کہ ساحل پر فوجی حملہ کرنا ایک چیز ہے جبکہ اس کی حفاظت کرنا دوسری چیز ہے۔ جی ہاں، چونکہ یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز کے پاس جنگی طیارے اور موثر فضائی دفاع نہیں ہے لہذا دشمن کے جنگی طیارے بغیر کسی رکاوٹ کے آمدورفت کر سکتے ہیں اور ان کی زمینی فوج شدید گولہ باری کا سہارا لیتے ہوئے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ تو بمباری اور ہوائی حملے جاری نہیں رکھ سکتے لہذا ایسا وقت بھی آئے گا جب ان کی زمینی فوج کو فضائی حمایت کے بغیر زیر کنٹرول علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا ہو گا۔

اس موقع پر ایک روایتی فوج کے خلاف گوریلا جنگ تشکیل پاتی ہے۔ اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ وہ زمینی فوج جو ان پانچ ممالک کی جانب سے شدید فضائی حملوں اور جنگی کشتیوں کی گولہ باری کی آڑ میں اس وقت یمن کے ساحل پر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے پانچ مختلف قسم کی فورسز سے مل کر تشکیل پائی ہے: یمن کی سابق فوج کے پانچ بریگیڈز جو اپنے سابق آرمی چیف علی محسن الاحمر کے وفادار ہیں، سوڈانی کرائے کے جنگجووں کی ایک بریگیڈ جو آرمی کا حصہ نہیں ہے لیکن روزانہ پچاس ڈالر کی اجرت پر اس جنگ میں شریک ہے، القاعدہ کا ایک بریگیڈ، متحدہ عرب امارات کی فوج کے دو بریگیڈ، سعودی فوج کے دو بریگیڈ، فرانسیسی فوج کا ایک بریگیڈ، برطانوی فوج کا ایک سے کم بریگیڈ، امریکی فوج کی ایک کمپنی اور منصور ہادی کے وفادار قبائلی جنگجووں کا ایک بریگیڈ۔

ان فورسز کی ترکیب الحدیدہ معرکے کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ انصاراللہ اس سے پہلے اسی طرح کی روایتی اور غیر روایتی فورسز سے صف آرا رہ چکی ہے اور ہمیشہ ان کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار رہی ہے۔ درحقیقت جیسا کہ انصاراللہ کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے کچھ دن قبل کہا ہے الحدیدہ کی جنگ، یمن جنگ کا اختتامی مرحلہ نہیں بلکہ ایک تھکا دینے والی جنگ کا آغاز ہے۔ ایسی جنگ جسے انصاراللہ بہت کم نقصان سے مدیریت کر سکتی ہے جبکہ سعودی اتحاد کا یمنی ساحل پر رہنا انہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اور انہیں بہت زیادہ جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ابھی بھی ایک ہفتے کے اندر اندر سعودی اتحاد کے پانچ سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف انصاراللہ اور یمن آرمی کے شہید ہونے والے فوجیوں کی تعداد تیس سے بھی کم ہے۔ یہ اس بات کا راز ہے جسے یمن آرمی اور انصاراللہ کے کمانڈرز سنہری موقع کا نام دیتے ہیں اور مدمقابل کی جانب سے سنہری کامیابی کے دعووں کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔

3)۔ الحدیدہ کی سخت جنگ میں انصاراللہ کی جنگی حکمت عملی واضح ہے۔ انصاراللہ دشمن کی زمینی فوج کے گرد گھیرا ڈال کر ان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ دشمن کی فضائی مدد منقطع کی جا سکے۔ ایسے حالات میں دشمن کی جانب سے ہوائی حملوں کے نتیجے میں انصاراللہ سے زیادہ خود ان کے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔ دوسری طرف انصاراللہ کے مجاہدین دشمن فورسز کے برخلاف علاقے کے چپے چپے سے واقف ہیں لہذا دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے ان کے مختلف گروپس کو ٹریپ میں پھنسا کر بھاری جانی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چند دن پہلے یمن آرمی اور انصاراللہ کے مجاہدین نے الغازہ، الجاج اور الاریمی کے علاقوں میں دشمن کی رسد کاٹ دی تھی۔

اسی وجہ سے گذشتہ ہفتے پیر کے دن شروع ہونے والے جس سعودی اتحاد کے حملے کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ عید فطر سے پہلے الحدیدہ کی اسٹریٹجک بندرگاہ پر قبضہ کرتے ہوئے صوبے کے دارالحکومت پر اپنا کنٹرول قائم کر لیں گے ابھی تک الحدیدہ شہر سے دس کلومیٹر دور موجود رکاوٹوں سے عبور نہیں کر پائے۔ سعودی اتحاد کی فورسز الحدیدہ ایئر پورٹ میں داخل ہونے میں بھی کامیاب ہو گئیں لیکن چند گھنٹے تک بھی اس پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ یہ ایئرپورٹ الحدیدہ شہر سے دس کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ درحقیقت اگر پانچ ممالک کے اتحاد میں شامل فورسز یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ تعز کی جنگ کو یاد کریں اور خود کو بھاری جانی نقصان کیلئے تیار کر لیں۔ سعودی اتحاد کی افواج جس قدر شمال کی طرف جائیں گی اسی قدر ان کیلئے صورتحال زیادہ مشکل ہوتی جائے گی کیونکہ وہاں انصاراللہ کی فورسز زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔

4)۔ جیسا کہ انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام جمعہ کے روز اعلان کر چکے ہیں، حدیدہ کی جنگ ایک امریکی، برطانوی اور فرانسیسی جنگ ہے اور درحقیقت اس جنگ کی کمان مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہوائی حملوں اور گولہ باری میں سب سے زیادہ مغربی جنگی طیارے اور جنگی کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔ اگر اسے قبول کر لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فوجی کاروائی طویل مدت تک جاری رہے گی؟ اس سوال کا جواب پانے کیلئے ان تین مغربی ممالک کے فوجی رویوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان تینوں ممالک اور عام طور پر نیٹو کی فوجی حکمت عملی "کم مدت میں فیصلہ کن حملے” پر استوار ہے اور وہ ایسی جنگ میں پھنسنے سے گریز کرتے ہیں جس کی تکمیل کیلئے کئی ماہ کا وقت درکار ہو۔ ہم 1983ء میں بوسنیا کی جنگ سے لے کر آج تک انجام پانے والی نیٹو کی تمام جنگوں میں اس رویئے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

یہ امر گوریلا جنگوں کے مقابلے میں ایک اہم ویک پوائنٹ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے حالات میں گوریلے ایک خاص حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جس کی اہم ترین خصوصیت "طاقتور دشمن کے خلاف تھکا دینے والی جنگ کا آغاز” ہے۔ گوریلا جنگ لڑنے والے لڑائی کی مدت بڑھا کر دشمن کو درپیش خطرات اور انہیں ہونے والے نقصانات میں بے پناہ اضافے کا باعث بنتے ہیں اور نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ طاقتور سے طاقتور دشمن کیلئے جنگ جاری رکھنا محال ہو جاتا ہے۔ ایسی جنگ میں گوریلا جنگجو فورس جو موجودہ صورتحال میں شہادت طلب مجاہدین پر مشتمل ہے انتہائی کم وسائل کے ذریعے دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

5)۔ موجودہ تناظر میں یمن کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کا کردار بہت سبق آموز ہے۔ اس جنگ کے عروج پر مارٹن گریفتھس صنعا آیا اور پانچ ممالک کی جانب سے یمن پر جارحیت کی مذمت کرنے اور اپنی قانونی ذمہ داری کے تحت اس جارحیت کے خلاف یمنی عوام کے مسلمہ حقوق کا دفاع کرنے کی بجائے یمنی عوام کی مدافع قوت انصاراللہ یمن کو یہ پیشکش کرنے لگا کہ وہ پانچ ممالک کی فوجی جارحیت ختم ہو جانے کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر راضی ہو جائے۔ یہ اس منصوبے کا نچوڑ ہے جس کے بارے میں وہ بڑے فخر سے یہ کہتا پھر رہا تھا کہ ہمارے پاس یمن مسئلے کا جامع سیاسی راہ حل موجود ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندے کا یہ طرز عمل زیادہ غیر متوقع بھی نہیں کیونکہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اصلی اراکین یعنی امریکہ، فرانس اور برطانیہ خود ہی یمنی عوام کے خلاف جارحیت اور حدیدہ شہر کی بمباری میں ملوث ہیں اور یمنی قوم کی مزاحمت توڑنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں تو ان کے خصوصی ایلچی سے بھی یہی توقع کی جانی چاہئے کہ وہ انصاراللہ کو ہتھیار پھینکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس گریفتھس کے بس میں کچھ بھی نہیں جسے انصاراللہ نے "سعودی ایلچی” قرار دیا ہے۔ اسی طرح نیٹو اور سلامتی کونسل کے اصلی رکن ممالک کی جانب سے مظلوم یمنی عوام کو فضائی بمباری کا نشانہ بنانے کا بھی انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے ایسے ہی اقدامات کا حزب اللہ لبنان کے خلاف تجربہ کیا جا چکا ہے اور ان کی شکست ثابت ہو چکی ہے۔ جبکہ یمن میں انصاراللہ کے حامیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور حکومت میں ان کا اثرورسوخ بھی حزب اللہ لبنان سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خدارا پاکستان پر رحم کرو

(حامد میر) اس نے اپنی زندگی کی آخری تقریر کاآغازبسم اللہ الرحمان الرحیم سے کیا۔ ...