پیر , 10 دسمبر 2018

ملا فضل اللہ کی موت پر انڈیا میں کھلبلی

(چوہدری فرخ شہزاد)

ملافضل اللہ پاکستان کی تاریخ کا موسٹ وانٹڈ دہشت گرد سمجھا جاتا رہا ہے۔ جس نے 2014ء میں پشاور سکول حملے میں 15بچوں کو قتل عام کی کارروائی کی جس کے بعد پاکستان آرمی نے تحریک طالبان پاکستان کی کمر توڑ دی ملا فضل اللہ کو پاکستان کا اسامہ بن لادن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا مگر یہ حیرت کی بات ہے کہ 13جون کو اس کی افغانستان کے کنڑ صوبے میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی امریکی اور افغان حکومت کی طرف سے ریلیز کی گئی اطلاعات کے باوجود پاکستان میں سیاسی عسکری اور میڈیا کی جانب سے کسی طرح کا کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آرہا ۔ سابق صدرباراک اوبامہ نے ایبٹ آباد آپریشن کے بل بوتے پر دوسری بار امریکی انتخاب جیت لیا تھا مگر ن لیگ کی بدقسمتی ہے ان کی حکومت کے خاتمے کے چند دن بعد ملا فضل اللہ کو ہلاک کیا گیا جس کا وہ سیاسی فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا انہیں یہ فائدہ نہیں اٹھانے دیا گیا۔ملا فضل اللہ اس سے پہلے کئی بار خبروں میں ہلاک ہوتے رہے مگر بعد میں وہ خبریں غلط ثابت ہوتی رہیں۔ مگر اس دفعہ معاملہ خاصا مختلف ہے کیونکہ ان کی TTPابھی حدتک خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے قاصر ہے البتہ افغانستان میں اعلیٰ ترین سطح پر یعنی صدر اشرف غنی کی طرف سے آرمی چیف جنرل باجوہ کو ان کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے جسے آئی ایس پی آر نے جاری کردیا ہے۔ اسی طرح امریکی عسکری ذرائع بھی ان کی موت کی تصدیق کی جسے حوالہ بناکر امریکی اور عالمی اخبارات نے شائع کیا۔

ملا فضل اللہ کا تعلق سوات سے تھا اور وہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے امیر بنے تھے جب آرمی کے سوات میں آپریشن کیا تو وہ یہاں سے فرار ہوکر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جاکر چھپ گئے وہاں سے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں کا آغاز کیا اسی دوران انڈیا نے ان کے ساتھ تعلقات قائم کئے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا سے ایک خودکش حملے کا 30لاکھ سے 35لاکھ روپے خرچہ وصول کرتے تھے انڈیا نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار ملا فضل اللہ کو ٹھیکے پر دے رکھی تھی اور جب سے ان کی ہلاکت کی خبر آئی ہے اس پر انڈین خفیہ ایجنسی را میں سوگ کا سماں ہے اور انڈیا کے سیاسی حلقوں میں کھلبی مچی ہوئی ہے مگر میڈیا اس کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہے۔ بہت سی پیش رفت پردے کے پیچھے سے ہورہی ہیں اور دانستہ طورپر معاملات کو میڈیا سے دور رکھا جارہا ہے۔ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر ایک ایسے وقت بریک ہوئی ہے جب 17سال میں پہلی بار عیدالفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اشرف غنی نے اس اعلان میں ایک ہفتے کی توسیع یک طرفہ طورپر کردی ہے۔

امریکہ بخوبی سمجھتا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر اشرف غنی اور طالبان میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ اس اہم ترین اور نازک موڑ پر امریکہ نے پاکستان کو رعایت دینے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ امن مذاکرات میں دلچسپی لے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو پرائز دینے کے لیے امریکہ نے ملا فضل اللہ کو مارنے کا فیصلہ کرلیا۔ یادرہے کہ پاکستان 2012ء سے ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کررہا تھا مگر اس کو افغان اور امریکی حکام دانستہ نظرانداز کررہے تھے۔ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کا ذمہ دار قرار دیئے جانے کے باوجود امریکہ نے فضل اللہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہی نہیں کیا تھا۔

مارچ میں ملا فضل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ مارچ 2018میں امریکی حکومت نے ملا کو Wanted Listمیں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 12جون کو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ افغانستان کے دورے پر گئے جہاں ان کی ملاقات امریکی اور نیٹو کمانڈر جنرل مائیک نکلسن سے ہوئی اور وہ اشرف غنی سے بھی ملے اس سے اگلے ہی دن ملا فضل اللہ کو ایک افطار پارٹی سے واپسی پر صوبہ کنٹرکے علاقے مروانہ میں 4ساتھیوں سمیت ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا حملے میں ان کا ایک 17سالہ بیٹا بھی ہلاک ہوگیا۔ جنرل باجوہ جس طرح اچانک وہاں گئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس ملاقات میں ملا فضل اللہ کا ذکر نہ ہوا۔ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کو ملا فضل اللہ کی نقل وحرکت کا پتہ تھا اور یہ ڈرون حملہ دو جرنیلوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں Intelligence Sharingکا نتیجہ ہے۔ پاکستان اس اتنی بڑی کامیابی کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ نہیں کررہا جس کا مقصد یہ ہے کہ افغان امن عمل متاثر نہ ہو کیونکہ اس وقت طالبان اور افغان حکومت کافی حدتک ایک دوسرے کے قریب آچکے ہیں جوکہ علاقائی طورپر اچھی پیش رفت ہے۔

ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے سیاسی وعسکری تعلقات میں یقیناً بہتری آئے گی اور امریکہ نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگی اخراجات کی مد میں جو کولیشن سپورٹ فنڈ کے دو بلیئن ڈالر کی ادائیگی روک رکھی ہے وہ رقم پاکستان کو ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔امریکہ نے بھی نوٹ کیا ہے کہ پاکستان میں 2012میں 4000افراد دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے جبکہ 2017ء میں یہ تضاد صرف 748 رہ گئی ہے سوات اور وزیرستان کے علاقے دہشت گردوں سے کلیئر کروائے جاچکے ہیں بحالی کا عمل جاری ہے جس کا کریڈٹ پاکستان آرمی کو جاتا ہے تحریک طالبان پاکستان اب اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ایک وہ بھی وقت تھا جب جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں TTPکو مذاکرات کی دعوت دی گئی جس پر طالبان نے مولانا فضل الرحمن یا عمران خان میں سے کسی ایک کو اپنا نمائندہ مقرر کرنے کی تجویز پیش کی تھی یہ ساری باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ کی ہماری قیمت ادا کی مگر بالآخر بغیر کسی بیرونی امداد کے TTPکا خاتمہ کردیا گیا ہے۔لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ان حالات میں انڈیا کو بہت افسوس ہے کہ وہ TTP کی مالی معاونت کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکے ان کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں لیکن ابھی تک بھی وہ اپنی حکرتوں سے باز نہیں آرہے ۔ سیز فائر کے دوران جب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوایک دوسرے کو گلے مل رہے تھے اور سیلفیاں بنارہے تھے تو افغان صوبے ننگر ھار میں ایک اجتماع پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں 26افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت طالبان کی تھی جو غیر مسلح تھے اور عید کی مبارکباد دینے آئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش افغانستان نے قبول کرلی ہے۔

قوی امکان یہ ہے کہ TTPکے ملافضل اللہ کی ہلاکت کے بعد انڈیا کا فوکس یہ ہے کہ کسی طرح افغان امن عمل کو ناکام بنایا جائے جس کے لیے اب اس نے داعش سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حالیہ حملہ انڈیا کو بہت مہنگا پڑے گا کیونکہ اس میں زیادہ ہلاکتیں طالبان کی ہوئی ہیں اور طالبان ذرائع کہتے ہیں کہ اگر انڈیا باز نہ آیا تو طالبان فائٹر مقبوضہ جموں کشمیر پہنچ کر انڈین سکیورٹی فورسز کے ساتھ اپنا حساب برابر کرکستے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ انڈیا کو بھی پتہ ہے کہ کشمیر پہلے ہی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے بھارتی آرمی چیف جنرل بین روات کا حالیہ انٹرویو نریندر مودی کے لیے مقام عبرت ہے جس میں جنرل نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا سیاسی حل نکالا جائے کیونکہ ہم نوجوان کشمیریوں کو باغیوں کی صفوں میں شامل ہونے سے نہیں روک سکتے۔ملا فضل اللہ کی موت کا کریڈٹ پاکستان آرمی اور خفیہ ایجنسیوں کو جاتا ہے جنہوں نے مسلسل اسے اپنے ریڈار پر رکھا مگر مشکل یہ تھی کہ پاکستان فوج افغان سرحدوں کے احترام اور افغان حکومت کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے افغان علاقے میں کارروائی کرنے سے گریز کرتی رہی۔

اگر افغانستان اور امریکہ تعاون نہ کرتے تو پھر پاکستان کے پاس آخری حل یہی تھا کہ فضل اللہ کو چھاپہ مار کارروائی کے ذریعے ہلاک کردیا جائے مگر اس کی نوبت نہیں آئی۔ اے پی ایس پشاور کے شہداء کے لواحقین کے لیے یقیناً یہ بات باعث اطمینان ہوگی کہ سینکڑوں بے گناہوں کا قاتل مکافات عمل کا شکار ہوکر اپنے انجام کو پہنچا۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...