پیر , 10 دسمبر 2018

ایک شخص ایک سبق

(عارف بہار)

یہ اطلاع بھی ہمیں امریکہ نے دی کہ تحریک طالبان پاکستان کا افغانستان میں مقیم سربراہ فضل اللہ امریکہ کے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔ فضل اللہ پاکستان میں دہشتگردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث تھا جن میں حساس تنصیبات اور سٹریٹجک اثاثوں پر حملے بھی شامل تھے تاہم اس شخص کے دامن پر سب سے سنگین اور رنگین دھبہ آرمی پبلک سکول پشاور کے ڈیڑھ سو معصوم بچوں کے لہو کا تھا جو تین برس قبل نہایت بیدردی سے شہید کئے گئے تھے۔ اس واقعے نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور قوم کئی روز تک مسلسل سکتے کی کیفیت میں رہی تھی۔ ہر شخص کی زبان گنگ ہو گئی تھی بولنے والوں کے،

پاس کہنے کو کچھ تھا نہ لکھنے والوں کے پاس لکھنے کو کوئی بات۔ اس حملے کی کڑیاں افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں سے ملی تھیں اسی لئے جنرل راحیل شریف دوسرے ہی روز تمام ثبوت لیکر کابل کے حکمرانوں اور امریکی جرنیلوں کے پاس پہنچے تھے اور انہیں قاتلوں کیخلاف کارروائی کا کہا تھا۔ اس وقت فضل اللہ امریکہ کیلئے اچھا طالبا ن تھا کیونکہ وہ اسے پاکستان پر ایک دباؤ کے ایک لیوریج کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ پاکستان نے اس سانحے کے بعد ہی آپریشن ضرب عضب کا آغاز کر کے دہشتگردوں پر فیصلہ کن وار کیا تھا۔

اور بھرپور زمینی اور فضائی قوت استعمال کرکے اپنی سرزمین کو بڑی حد تک دہشتگردوں سے پاک کر دیا تھا مگر افغانستان میں دہشتگردوں کی کمیں گاہیں اور ان میں چھپے دہشتگرد پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے مسلسل چیلنج کھڑے کرتے رہے۔ وقت بدل گیا اور امریکہ کو افغانستان میں ناکامیوں کے سوا کچھ نہ ملا۔ پاکستان ہر فورم پر افغان مسئلے کے حل پر آمادگی کا اظہارکرتے ہوئے اپنے دو تحفظات کا برملا اظہار کرتا رہا۔ ان میں پہلا نکتہ تحریک طالبان کے لوگوں کی افغان سرزمین پر سرپرستی اوردوسرا افغانستان میں بھارت کا غیر معمولی اثر رسوخ تھا۔ ان معاملات کو سلجھائے بغیر پاکستان افغانستان میں،

امن عمل میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر تھا۔ اب امریکیوں کو اس تلخ اور ناگوار حقیقت کا احساس ہوگیا تو انہوں نے پس پردہ پاکستان کیساتھ معاملات طے کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی۔ اس سال مارچ میں امریکہ نے ”اچھے طالب” فضل اللہ کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی جبکہ پاکستان کو مطلوب منگل باغ اور عبدالولی کے سروں کی قیمت تیس تیس لاکھ مقرر کی۔ جس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان افغان مسئلے پر مفاہمت کے آثار ملنا شروع ہو گئے تھے۔ جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے بھی کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے کامیاب ہو کر نکلے۔ ان مفاہمانہ پیغامات کے،

بعد ہی طالبان نے عید الفطر پر افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔ افغان حکومت نے بھی طالبان کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔افغان فوجی اور طالبان شیر وشکر ہو کر سیلفیاں بنواتے رہے۔ اس دوران امریکہ نے ڈرون حملہ کرکے فضل اللہ کو ہلاک کر دیا۔ یوں پاکستان کی طرف شاخ زیتون اُچھال دی گئی۔ یہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان افغانستان میں ہونے والی مفاہمت کا پتا دے رہی ہے مگر ابھی اس سمت میں لمبا سفر باقی ہے۔ ماضی کی کدورتیں، دوریاں اور نفرتیں جو پہاڑ کی شکل اختیار کر گئی ہیں اب انہیں سر کرنا آسان نہیں رہا۔ کچھ لو اور کچھ دو کا یہ کھیل پہلو بہ پہلو جاری رہے گا۔ فضل اللہ کی ہلاکت ان سب سٹیٹ،

ایکٹرز اور نان سٹیٹ ایکٹرز کیلئے ایک سبق ہے جو غیروں کے مفادات کی ڈگڈگی پر رقص کرتے ہیں۔ یہ ان حکمرانوں کیلئے بھی سبق ہے جو غیروں کی جبینوں کی شکنیں دور کرنے اور ان کا مزاج خوش گوار بنانے کی خاطر اپنے معاشرے سے برسرِجنگ ہوتے ہیں۔ نوچ نوچ کر اپنا چہرہ اور حلیہ بگاڑ لیتے ہیں مگر وقت آنے پر وہ غیر ان سے نظریں پھیر لیتے ہیں۔ ان کا ٹیلی فون سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ رضاشاہ پہلوی اس طوطا چشمی کا جیتا جاگتا ثبوت تھے جنہیں جلاوطنی کے بعد دفن کیلئے دوگز زمین تک نہیں دی گئی تھی۔ ریاستوں کی دوستی اور دشمنی کے منجمد اصول اور پیمانے نہیں ہوتے۔ جب ان کی پالیسی بدل جائے۔

تو محبوب سے معتوب بنتے لمحوں کی دیر نہیں لگتی۔ فضل اللہ جب تک امریکہ کے مفادات کیلئے اہم تھا اسے پاکستان کی اپیلوں کے باوجود نشانہ نہیں بنایا گیا جب امریکہ کو اپنے مفاد کی خاطر پاکستان کے تعاون اور اسے خوش کرنے کیلئے فضل اللہ کی قربانی دینا پڑی تو اس نے اپنے اثاثے کو بوجھ بنا کر پٹخ دیا۔ اس سبق کی روشنی میں یہ طے ہے کہ بری ہو یا بھلی اپنی ہی ریاست اچھی ہے۔ یہ وعدہ خلافی کرے تو اس پر وعدہ شکنی کا الزام تو لگایا جا سکتا ہے۔ اسے بے وفائی کا طعنہ تو دیا جا سکتا ہے۔ اس کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ظلم کا مقدمہ تو لڑا جا سکتا ہے مگر بیرونی ریاست سے تو گلہ،

اورشکوہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بیرونی ریاستوں کے مفادات کا ایندھن بننے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان کی معاون ریاست کسی بھی لمحے یوٹرن لے کر انہیں تاریخ اور حالات کے حوالے کر کے رخ اور مُکھ موڑ سکتی ہے۔ پھر کھلے آسمان تلے وہ ہوتے ہیں یا ان کی تنہائی اور پرچھائی ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...