پیر , 10 دسمبر 2018

انتخابات کے ہنگاموں میں ’’داعش‘‘ سے بچنے کی ضرورت ہے

(تنویر قیصر شاہد)
چارہفتوں بعد ملک بھر میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔مایوسی پھیلانے والے عناصر کہتے رہے ہیں کہ انتخابات نہیں ہوں گے۔ کچھ اِسی طرح کی افواہیں اُس وقت بھی پھیلائی گئی تھیں جب ملک میں سینیٹ کے انتخابات ہونے والے تھے۔ ایسے انارکی پسند گروہ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں سکون اور یکجہتی مفقود رہے۔ اللہ کے فضل سے ایوانِ بالا کے انتخابات بھی پُرامن انداز میں منعقد ہو گئے اور اب 25جولائی کو عام انتخابات کا میدان بھی امن چین سے سجے گا اور گزر جائے گا۔

مفسدین کے ہاتھ پہلے بھی کچھ نہیں آیا تھا، اب بھی کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز جمہوریت کی کامیابی کے لیے ہمارے جملہ سویلین اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے چل رہی ہیں۔ملک کے طول وعرض میں انتخابی اُمیدواروں کی فہرستیں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشورات کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اگرچہ اِن منشوروں پر عملدرآمد کی نوبت کبھی نہیں آئی اور نہ ہی کسی جماعت کو اپنے منشور پر سنجیدگی سے عمل کرتے پایا گیا ہے لیکن منشورات کے اعلان میں کیا مذائقہ ہے!!وعدوں کی تقدیس اور حرمت کو ہم نے چونکہ نجی حیثیت میں بھی ہمیشہ پسِ پُشت ڈالا ہے تو سیاسی جماعتیں بنانے اور انتخابات لڑنے والے بھی تو ہمیں سے ہیں۔
انتخابات کی اِس گہما گہمی میں وہ غیر ملکی دشمن قوتیں بھی متحرک ہیں جو ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتی ہیں۔ یہ پاکستان اور اسلام دشمن طاقتیں اپنے اہداف سے کبھی غافل نہیں رہتیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ افواجِ پاکستان ہمہ دَم بیدار اور چوکنّی ہیں۔

ہماری جری افواج نے اپنا قیمتی لہو دے کر ثابت کیا ہے کہ دشمن خواہ کوئی بھی بھیس بدل لے، مملکتِ خداداد پاکستان میں سیندھ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری سیکیورٹی فورسز کو جتنے محاذوں پر جنگ لڑنا پڑی ہے، اگر کسی اور ملک کی فورسز ہوتیں تو کب کی حوصلہ ہار چکی ہوتیں۔ ہم نے تو اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے کہ افغانستان میں اپنی افواجِ قاہرہ، جدید ترین اسلحے اور بے پناہ سہولتوں کے باوصف امریکی فورسز طالبان کے سامنے مسمار اور زمیں بوس ہیں۔

افواجِ پاکستان نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دہشت گردی ، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے مقابل جو بے نظیر کامیابیاں سمیٹی ہیں، اِن کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کامیابیوں کے جلَو میں کاہل اور غافل ہو گئی ہیں۔ دشمن کے اہداف ہمیشہ اُن کے پیشِ نگاہ رہتے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ جس اسلوب میں اپنے جوانوں اور افسروں کے ہمرکاب نظر آتے ہیں، یہ ایک الگ دل افروز منظر ہے۔ وہ شہدا کے گھروں میں جاتے ہیں، شہدا کے جنازوں میں بنفسِ نفیس شریک ہوتے ہیں، شہدا کے بال بچوں کو گود میں لیتے ہیں تو ملک دشمنوں کے مقابل کھڑے ہونے والا ایک تازہ خون تیار ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔تازہ عیدالفطر ایل او سی پر اپنے جوانوں کے ساتھ مناتے ہُوئے جنرل باجوہ نے جو خطاب کیا ہے، درست بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔

ہمارے دشمن بھی مگر کئی اطراف و جوانب میں کمربستہ ہیں۔ مشرق میں بھی، مغربی سرحدوں پر بھی اور ایل او سی پر بھی۔ ہم نے ابھی حال ہی میں دیکھا ہے کہ عید الفطر کے آس پاس جہاں یہ خبر آئی کہ دہشت گرد مُلّا ریڈیو کو افغانستان کے صوبہ کُنر میں مار دیا گیا ہے، وہیں یہ دلشکن خبر بھی ساتھ ہی آگئی کہ ہماری مغربی سرحدوں پر کھڑے ہمارے شیر دل جوانوں پر دشمن نے افغانستان کے علاقے سے چھُپ کر وار کیا ہے ۔ نتیجے میں ہمارے تین جوان (حوالدار افتخار، سپاہی آفتاب ، سپاہی عثمان) شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

یہ قربانیاں ایسے موقع پر دی گئی ہیں جب انتخابات ہمارے سروں پر ہیں۔ انتخابات کی ہما ہمی میں دشمن کو وار کرنے اور اپنے داؤ پیچ آزمانے میں نسبتاً آسانی رہتی ہے۔ 20جون 2018ء کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے اسپیشل سیکریٹری داخلہ، رضوان ملک، نے یہ جو بیان دیا ہے کہ ’’بیرونِ ملک سے الیکشن سبوتاژ کیے جانے کے خدشات ہیں‘‘ اور یہ کہ ’’الیکشن2018ء میں انتخابی امیدواروں پر حملے ہو سکتے ہیں‘‘ اِسے قطعی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے تو حفاظت پر مامور ہیں ہی لیکن ہمیں انفرادی حیثیت میں بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔

’’داعش‘‘ کی دھمکیاں، گیدڑ بھبکیاں اور پروپیگنڈہ بھی ہمارے اَن دیکھے دشمن کے ہتھیار ہیں۔ ہمیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہمارے دو ہزار کے قریب معزز علمائے کرام نے ’’پیغامِ پاکستان ‘‘ کے نام سے ’’داعش‘‘ ایسے اُن فسادیوں کا راستہ ہمیشہ کے لیے روک دیا ہے جو مملکتِ خداداد پاکستان کے اندر فساد برپا کرنے میں کوشاں تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے نام سے معرضِ عمل میں لایا جانے والا فتویٰ پاکستان بھر میں شدت پسندی کی راہیں مسدود کرنے کا باعث بنا ہے تو اِسے بے بنیاد نہیں کہا جائے گا۔ہمارے علمائے کرام نے تو اِس فتوے کی شکل میں اپنا شاندار کردار ادا کر دیا ہے لیکن ہم پاکستانی عوام کو بھی جاننے اور دیکھتے رہنے کی ضرورت ہے کہ ’’داعش‘‘ کے مفسدین کس جانب سے اور کس رُوپ میں پاکستان اور پاکستانی عوام پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

ایسے شواہد بھی سامنے آرہے ہیں جو اِس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ’’را‘‘ اور ’’داعش‘‘ کئی محاذوں پر پاکستان کے خلاف ایکا کر چکے ہیں۔ نریندر مودی اور اجیت ڈوول کی قیادت میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ جس طرح پاکستان کا گھیراؤ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اِس پیش منظر میں کوئی بعید نہیں ہے کہ بھارت’’داعش‘‘ سے مل کر پاکستان کے خلاف گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہو۔ سفارتی اور میڈیا کے محاذ پر بھی بھارتی چالیں کم مہلک نہیں ہیں۔ اِس کا اندازہ بھارت کے اُس جریدے میں شایع ہونے والے مضامین سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو نئی دہلی سے A Publication of Bureau of Political Research and Analysisکے زیر عنوان چھپ رہا ہے۔

اِس جریدے کی اپریل اور مئی 2018ء کی اشاعتوں میں نصف درجن سے زائد ایسے مضامین شایع ہُوئے ہیں جن میں دنیا بھر میں پاکستانی سفارتکاروں اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف جھوٹ کے طومار باندھے گئے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران چونکہ پاکستان اور رُوس کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اس لیے یہ منظر بھارتی پیٹ میں مروڑ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے کہ گذشتہ چھ عشروں سے رُوس اور بھارت یک جان و دو قالب رہے ہیں۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔

بھارت کو مگر پاک، رُوس تعلقات ہضم نہیں ہو رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا بھارتی جریدے میں پاک ، رُوس تعلقات کے بارے میں منفی رپورٹیں اور آرٹیکلز بھی شایع کیے گئے ہیں۔ اب جب کہ پاکستان میں انتخابات کا عمل تیز ہورہا ہے، پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈہ بھی اُسی رفتار سے تیزی پکڑ رہا ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر چوکس رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...