منگل , 20 نومبر 2018

بھارتی تشہیری حکمت ِ عملیوں کا جواب ‘ کون دیگا؟

(ناصر کاظمی)

دنیاسائنس کی ترقی اورخاص طورپرابلاغ ِعامہ کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کی گہری ریسرچ کے ذریعے ایک کے بعد ایک اورنئی سے نئی ایجادات کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے بہت تیز رفتاری کے ساتھ اِس نہج پرجاپہنچی ہے، جس کی بے پناہ اور حیران کن ترقی نے دنیاکوایک حد تک باقاعدہ جنگوں کی بجائے اب نفسیاتی طورہراساں کرنے‘ خوف زدہ کرنے’زچ کرنے اور اپنے دشمنوں کی ساکھ کی مٹی پلید کرنے جیسے اوچھے حربے استعمال کرکے اْنہیں شطرنج کے مہروں کی طرح مات دینے کے لئے ایک ٹیبل پرلا بٹھلایا ہوا ہے’یوں یہ نفسیاتی جنگ کہلانے لگی ہے اِسے فعال پروپیگنڈے کی لڑائی کہا جانے لگا ہے۔

’گوئبلز‘ کو کون نہیں جانتا جی ہاں یہ ‘گوئبلز’ہی تھا جو ہٹلر کی پروپیگنڈا مشینری کا موجد اور ماسٹرمائنڈ تھا’اْسے نفسیاتی جنگ کے میدان میں ایک ’’لیجنڈ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے ،یہ اْس کی شاندار حکمت ِعملی اور کارکردگی کا کمال تھا کہ چھوٹی سی جرمن قوم پوری دنیا کے خلاف برسرپیکار ہوگئی۔مطلب یہ ہے کہ تمدنی ترقی کے اِس جدید دور میں ‘پروپیگنڈے’کوکلیدی اہمیت حاصل ہوچکی ہے یعنی نفسیاتی جنگ ایک ایسے ہتھیارکا روپ دھارچکی ہے جو مد ِمقابل کی انفرادی اور قومی شناخت اور قومی جذبے کی اکھاڑ پچھاڑ کے لئے فی زمانہ بخوبی استعمال ہونے لگی ہے، ذرا ہم اپنی تمہیدی بحث کو اور واضح کردیں تو شائد یہ بات اور آسانی سے ہمارے قارئین سمجھ لیں گے۔

’قیامت ڈھاتے جاسوس ادارے’نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹرحمید اخترنوازخان نے بڑی محنت اورتحقیقی عرق ریزی سے دنیا کی تقریبا تمام ہی مسلم دشمن عالمی خفیہ ایجنسیوں کی باطل پرست کارکردگیوں کو یکجا کرکے مسلم دنیا کے ملکوں کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ ہوشیار ہوجائیں بیدار ہوجائیں اْن کے دشمنوں نے اْنہیں کہیں کا نہ رکھنے کے لئے باہم ایکا کرلیا ہے اپنی اِسی کتاب میں ‘پروپیگنڈا مشنری یا نفسیاتی داؤ پیچ کیا ہوتے ہیں؟ ایک مثال بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر حمید اختر خان لکھتے ہیں’آپ سرکس کے شیر کی مثال لیجئے اپنی تمام تر قوت’فطری طاقت’درندہ صفت خوفناکی اور جنگل کے بادشاہ کی حیثیت سے اپنے افسانونی تشخص کے باوجود وہ اپنے ‘رنگ ماسٹر’کے چابک کا غلام ہوجاتا ہے۔

جنگلوں میں انسانوں کے جسموں پر لرزہ طاری کردینے والا یہ جانورایک آدمی کے ہنٹرکی جنبش کے تابع نہیں ہوجاتا’یہ سارا کمال اْس ماسٹر کا ہے جومسلسل کوشش کے بعدخونخوار شیر کے ذہن پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیتا ہے اورپھر جنگل کے بادشاہ کو اپنی مرضی سے چلانا اْس کے لئے معمول کا کھیل بن کررہ جاتاہے، اب ہم بھی آپ کے ساتھ ساری بات کا ماخذ سمجھتے جارہے ہیں نفسیاتی جنگ بھی ایسا ہی ایک پُراسرار عمل کا نام ہے جسے بروئے ِکار لاکرایک بہادرسپاہی کو پل بھر میں بزدل ‘چوہا بنادیا جائے اورقانون وآئین کے ایک پابند شہری کوآسانی سے سازشی’ملک دشمن’دہشت گرداورقاتل کیسے نہیں بنا یا جاسکتا۔

ہر برس دسمبر کی 16 تاریخ کو پوری پاکستانی قوم کبھی آسانی سے بھلا سکتی ہے کبھی نہیں سقوطِ مشرقی پاکستان کا برسہابرس کا غم ہمیں نسل درنسل کسی پل چین نہیں لینے دیتا کہ کب ہم اپنی اِس دلخراش سازش کا بدلہ اپنے ازلی دشمن ملک بھارت سے چکائیں’دوسری جانب 16 دسمبر2014 کو’اے پی ایس پشاور’ کے اْن معصوم بچوں’بچیوں’ اسکول کے اساتذہ’اسکول کی نڈر اور بے انتہا بہادر ماں جیسی پرنسپل صاحبہ کی چیخوں اور آہ وبکاؤں نے ہمیں اور زیادہ رنجیدہ اورملول کردیا تھا ‘اے پی ایس پشاور’ کے شہدا کو خراج ِعقیدت پیش کرتے ہوئے یہاں ہمارا خصوصی اشارہ ‘سقوطِ مشرقی پاکستان’ کا ایک آنکھوں دیکھا واقعہ ہے بہت سے قارئین واقف ہونگے کہ راقم کا تعلق ریڈیو پاکستان سے بحیثیت ِبراڈ کاسٹررہا ہے۔

اورپھر1971 وہ ابتدائی ایام تھے جب راقم کو ریڈیوپاکستان سے وابستہ ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے’الغرض وقت گزرا’جب پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پی اوڈبلیوکی واپسی ہوئی تو محدودتعداد میں مشرقی پاکستان کے مختلف ریڈیواسٹیشنوں کے اسٹاف سے وابستہ کئی افراد بھی پاکستان واپس آئے تھے’ انہی میں ایک ہمارے بہت مہربان براڈ کاسٹر کولیگ’اختر لکھنوی’بھی تھے وہ بتایا کرتے تھے کہ’ریڈیو پاکستان ڈھاکہ’ میں اسلام آباد ہیڈ کوارٹرزکے احکامات کو ردی کی ٹوکریوں میں ڈال دیا جاتا تھا ریڈیو پاکستان ڈھاکہ کے فوجی بھائیوں کے پروگرام کو 1971 مارچ میں ہی بندکردیا گیا تھاہم دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے تھے،

ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے اردو پروگرامز پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی نئے نئے چہرے ‘لائیو’مائیکروفون پر جب چاہتے بیٹھ جاتے نظریہ ِپاکستان اور پاکستانی افواج کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی جاتی یہ سب کچھ کرنے والوں کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکتا اور جب کبھی کوئی اردو پروگرام نشر بھی ہوتا تو وہ بنگالی بولنے والوں سے ہی کرایا جاتا تھا اردوبولنے والے براڈ کاسٹرز پر مائیکروفون پر بولنے کی پابندیاں لگادی گئی تھیں، مشرقی پاکستان کے سبھی یونٹس پر’را‘ کے تربیت ِیافتہ مکتی باہنی نے اپنا قبضہ جمالیا تھا، اگر دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ نے مشرقی پاکستان کے تمام شعبہ ِہائے زندگی کے حساس اداروں کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی،

مشرقی پاکستان کی نفسیاتی نبض مکتی باہنی نے جونہی سنبھالی تو یہی وہ منحوس وقت تھا جب 1971 کے مارچ اپریل ہی میں پاکستان دولخت ہوچکا تھا۔اِسے کہتے ہیں’پروپیگنڈا’نفسیاتی حربے جنہیں مسلسل بھارت نے 1965 کی جنگ میں شکست کے بعد مشرقی پاکستان میں استعمال کرنا شروع کیا تھا ایک اہم سوال ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں مچلتا رہتا ہے آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہم پاکستانیوں نے اپنے ازلی دشمن ملک بھارت کے خلاف جواباً ویسے ہی زوردار نفسیاتی پروپیگنڈے کے حربے کیوں نہیں استعمال کیئے ؟بھارت کی ایکشن فلموں میں آئے روز پاکستانی حساس سیکورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی نیت سے سرعام پاکستان کے سپریم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نام لیا جاتا ہے۔

اور ہم نفساتی جنگ کے اِس میدان میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، پروپیگنڈے کے اِس ‘ بنیادی کام’میں یقینا پاکستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ ’سیلی بریٹیز‘نے اپنا حق ادا نہیں کیا، افسوس ہے، بھارت نے کتنے بوگس اور بھونڈے الزامات پاکستان پر لگائے ہیں کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، نئی دہلی پارلیمنٹ پر حملہ‘ ممبئی دھماکے ‘ سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے کا سانحہ‘ پٹھان کوٹ حملہ‘ اوڑی حملہ یہ تمام واقعات ’را‘ کی کارستانیاں تسلیم کی گئی ہیں جن سے کئی کہانیاں بن سکتی ہیں، مگر پاکستانی فلم سازوں کو اِس جانب توجہ کرنے کی لگتا ہے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اِسے کہتے ہیں جنابِ والا ! ’ابلاغی حکمت ِعملی‘ جنہیں فلموں کے ذریعے سے نمایاں اوراجاگرکیا جاسکتا ہے،

کسی نہ کسی کو آج نہیں توکل اِس بارے میں اپنا محب ِوطن کردارادا کرنا ہوگا، بھارتی کردار کو ننگا اور بے نقاب کوئی نہ کوئی ضرور کرئے گا پاکستانی قوم کسی صورت میں مایوس نہیں ہے، ہمارے پاسداران ہمہ وقت چوکس وثابت قدم ہیں’پاکستانی قوم کل بھی اپنی افواج پر دل کی گہرائیوں سے اعتماد اور بھروسہ کرتی تھی آج بھی اپنی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ آئینی کردار پر اعتماد اور بھروسہ کرتی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی ۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں کے قبلہ اول کی 500 کیمروں سے جاسوسی!

قابض صہیونی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کی جاسوسی اور وہاں پرآنے والے نمازیوں پر نظر ...