پیر , 10 دسمبر 2018

صدی کی ڈیل‘ اور فلسطینی اتھارٹی کے پاس دستیاب آپشنز!

گذشتہ چند ماہ سے مشرق وسطیٰ کے لیے جس ’تاریخی‘ امن امریکی اسکیم’صدی کی ڈیل’ کے بارے میں سنتے آئے ہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ تیاری کےآخری مراحل میں ہے۔ امریکی اور اسرائیلی عہدیدار اس مجوزہ امریکی امن اسکیم کے بارے میں زیادہ بات چیت کرنے لگے ہیں۔صدی کی ڈیل کو منظرعام پر لانے سے قبل جس قسم کا منظرنامہ اس کے لیے مناسب اور سازگار ہوسکتا ہے اس کی تیاری کے لیے بھی یکے بعد دیگرےاقدامات جاری ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کو امریکا اور اسرائیل نے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ منظرعام پرلانے سے قبل ہی ایک ایسا ماحول تیار کیا جا رہا ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ’صدی کی ڈیل‘ منصوبے کو قبول کرنے کے لیے خود کو آمادہ وتیار کر لے۔

صدی کی ڈیل کے بارے میں جو کچھ اب تک سامنے آیا ہے اس سے یہ مشہور ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ عرب ۔ اسرائیل کشمکش کا تاریخی حل پیش کررہے ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب جیسن گرین بیلٹ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اس اسکیم پرقائل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین تو پہلے اس حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔ یہ تمام شخصیات یہودی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اسرائیل کے مفاد کی بات کرتی ہیں۔ انہیں فلسطین میں یہودی آباد کاری کا سب سے بڑا اور پرزور حامی بھی کہاجاتا ہے۔

صدی کی ڈیل میں پورے بیت المقدس کو ’اسرائیل‘ کا حصہ تسلیم کیا گیا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کی کلی طور پرنفی کی گئی ہے۔ غرب اردن میں موجود یہودی کالونیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے اور بعض مقامات کو فلسطینی اتھارٹی کی عمل داری میں دینے کےساتھ غزہ کو شمالی سیناء میں وسعت دےکر ایک بے دست وپا فلسطینی ریاست قائم کرنا ہے۔عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اسرائیل کے ایک ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی وفد عرب ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے آگے بڑھیں تاکہ مصر کے جزیرہ نما سیناء کے شمال میں ایک غزہ کو وسعت دے کر اسے فلسطینی ریاست میں شامل کیا جاسکے۔

گرین بیلٹ اور جارڈ کوشنرعن قریب عرب ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ سعودی عرب، مصر، قطر، اردن اور اسرائیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

’صدی کی ڈیل‘ پر عمل درآمد

فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے امریکی امن اسکیم کے حوالے سے حالیہ ایام میں کوئی نیا رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوشنر اور گرین بیلٹ کا عرب ممالک کا دورہ دراصل ’صدی کی ڈیل‘ کو نافذ کرنا اور القدس وک اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے بعد اگلے مراحل کے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔ اسرائیل میں کنیسٹ کے ذریعے القدس اور یہودی آباد کالونیوں کے حوالے سے قانون سازی کرنا جیسے اہم اہداف ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے عرب ممالک کے دورے کا ہدف ’فلسطینی قومی پروگرام کوختم‘ کرنا ہے۔ امریکا یہ چاہتا ہے کہ فلسطینی قضیہ فلسطین کے حوالے سے اپنا اصولی موقف ترک کرنے کے بعد امریکی فارمولے کوقبول کرلیں۔فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکام کے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ ’صدی کی ڈیل‘ پربات چیت کرنا ہے اور میرے خیال میں امریکی امن سکیم پر بات چیت وقت کا ضیاع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’صدی کی ڈیل‘ منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ فلسطینی قومی اصولوں اور دیرینہ مطالبات کے مطابق نہیں تو اسے قبول نہیں کیاجاسکتا۔

ابو ردینہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ان دنوں’صدی کی ڈیل‘ کی ترویج کی مہم چلا رہے ہیں۔ القدس سے عرب ممالک کو دست بردار کرنا ان کا سب سے بڑا ہدف ہے مگر فلسطینی قوم القدس اور فلسطینی مقدسات سے کسی صورت میں دست بردارنہیں ہوگی۔

غزہ کی ناکہ بندی

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کا موقف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا سرکاری موقف ’صدی کی ڈیل‘ کا جواب دینے کے لیے توانا نہیں بلکہ کافی حد تک کمزور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل صدی کی ڈیل کوآگے بڑھانے اور اسے نافذ کرنے کے لیے غزہ کی پٹی کو ایک پتے کے طورپراستعمال کرتے ہیں۔ مگر فلسطینی اتھارٹی کے پاس امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے کے خلاف کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا غزہ کی پٹی کے حوالے سے انتقامی موقف اور پالیسی امریکا اور اسرائیل کو صدی کی ڈیل کوآگے بڑھانے میں معاون ہے۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل صدی کی ڈیل کے تحت غزہ کی پٹی پرعاید پابندیوں میں نرمی کا اشارہ دیتے ہیں مگر فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کےعوام کی ناکہ بندی کررہی ہے۔فلسطینی تجزیہ نگار حسام شاکر کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا ایک گروپ قضیہ فلسطین کی قیمت پر صدی کی ڈیل روکنے کے لیے متحرک ہوسکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی کوشش ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہ کیاجائے۔

( مرکز اطلاعات فلسطین )

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...