جمعرات , 19 جولائی 2018

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے اخبار “رأی الیوم” میں اپنی یادداشت کے ضمن میں یمن کے مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ کی جاری لڑائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یمن کی جنگ کو تین سال سے زائدہ کا عرصہ ہوا ہے اور اس سے پہلے بھی حوثی کئی مرتبہ علی عبداللہ صالح کے خلاف اپنی جنگوں میں ثابت کرکے دکھا چکے ہیں انصار اللہ یمن کی قاموس میں “ہتھیار ڈالنا” اور دشمن کے آگے “سر تسلیم خم کرنا” جیسے الفاظ نہیں پائے جاتے۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ خاص حالات میں کسی محاذ سے پسپائی اختیار کریں لیکن وہ اپنی جنگ دوسرے محاذوں پر جاری رکھتے ہیں اور ہتھیار ڈال کر پیچھے ہٹنا ان کے ہاں مہم لفظ ہے۔

اگر الحدیدہ کی بندرگاہ بند اور تباہ ہوجائے تو اس کا مطلب ایک انسانی المیہ ہوگا جس کے نتیجے میں اسی(۸۰) لاکھ یمنیوں کو بھوک، پیاس اور دوائیوں اور خورد و نوش کی اشیاء کی قلت کا شکار ہونگے۔الحدیدہ سے سعودی اتحاد کی بھیجی ہوئی خبریں قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ یہ خبریں یا تو اسی اتحاد کے نمائندوں کی طرف سے آرہی ہیں یا پھر مغربی ـ صہیونی ابلاغی سلطنت کی طرف سے، اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ انصار اللہ ابلاغیات کے شعبے میں کمزور ہیں لیکن یہ الحدیدہ پر قبضے اور جنگ کے خاتمے کی خبریں بےبنیاد ہیں۔ باوجود اس کے کہ سعودی محاذ کی طرف سے بحری اور فضائی حملوں کی خبریں ہیں لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ حدیدہ جنگ طویل المدت ہوگی۔

گوکہ انصار اللہ کو نہایت بڑی فوجی قوت کا مقابلہ کرنا پڑرہا ہے لیکن وہ دفاعی مورچوں میں ہیں اور جنگی قاعدے کے مطابق ایک مدافع کو مارنے یا گرفتار کرنے کے لئے ۵ حملہ آوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم اور خطرناک یہ ہوگا کہ حوثی مجاہدین جارح افواج کو ایک تھکا دینے والی طویل المدت شہری جنگ میں الجھا دیں؛ اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیابی حاصل کرلیں تو سعودی اتحاد سے منسلک اجرتی افواج نیز ان کی اتحادی فرانسیسی اور مغربی افواج کے جانے نقصانات میں زبردست اضافہ ہوگا۔

ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ شہر الحدیدہ پر جارحین کب قبضہ کرلیں گے اور اتحادی افواج کو اس مہم کے لئے کتنا وقت درکار ہے اور اگر شہری آبادی کے جانی نقصانات میں اضافہ ہوا اور عوام کے رنج و غم میں اضافہ ہوا تو نام نہاد بین الاقوامی برادری کا رد عمل کیا ہوگا لیکن ایک بات بخوبی واضح ہے کہ حوثی شکست ناپذیر ہیں اور وہ جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے نظر آئیں گے اور موجودہ لڑائی کو اس سے زیادہ سخت اور شدید جنگ کی طرف تبدیل کریں گے اور وہ کوہستانی جنگ ہے جس میں حوثی مجاہدین مثالی مہارت رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو وہ اس سلسلے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ثانیا یمن کی عوامی سطح پر ـ بالخصوص کوہستانی علاقوں میں ـ انہیں وسیع حمایت حاصل ہے۔

جان لینا چاہئے کہ حوثیوں نے کچھ علاقوں سے اس وقت پسپائی اختیار کی جب انہیں معلوم ہوا کہ ان علاقوں کا تحفظ ان کے لئے ممکن نہیں ہے، اور ممکن ہے کہ اسی بنا پر الحدیدہ سے بھی پسپائی اختیار کریں لیکن وہ شہری جنگ میں بہت ماہر اور کہنہ مشق ہیں اور جانتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں الحدیدہ صنعا کے لئے بہت اہم اور مؤثر لکیر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...