پیر , 10 دسمبر 2018

صہیونی ریاست کے خلاف جاسوسی کرنے والے اسرائیلی!

حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے سابق وزیر ’گنون شگیو‘ کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اس خبر کے بعد عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے ان اہم اسرائیلی شخصیات کے تعارف پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی جس میں اسرائیل کے خلاف دوسرے ملکوں خفیہ معلومات فراہم کرنے کی تفصیلات جاری کی گئیں۔اخبار لکھتا ہے کہ سابق وزیر شگیو پہلی اہم شخصیت نہیں جس نے اسرائیل کے خلاف ایران کو جاسوسی کی خدمات مہیا کیں۔ اس فہرست میں کئی اور بھی نمایاں چہرے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

الیکذنڈر یسرائیل

موصوف اسرائیلی فوج میں افسر رہے۔ سنہ 1954ء میں انہوں نے رقوم کے بدلے مصری انٹیلی جنس کو خفیہ راز فراہم کرنا شروع کیے۔ اسے اسرائیل کے خفیہ ادارے’موساد‘ نے اسرائیل کے ایک ہوائی جہاز سے یورپ جاتے ہوئے اغواء کیا تاہم وہ راستے ہی میں نامعلوم وجووہات کی بناء پر انتقال کرگیا۔ اس کی لاش ہوائی جہاز ہی سے سمندر برد کردی گئی۔

زئیو ایونی

زئیو ایونی اسرائیل کا ایک سفارت کار تھ اور اسے سنہ 1956ء میں اسرائیل کے خلاف روس کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ سوویت یونین کے خفیہ ادارے’کےجی بی‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی عدالت نے اسے جاسوسی کےجرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی۔

الیکذنڈر یولین

الیکذنڈر یولین ایک اسرائیلی سرکردہ سیاسی لیڈر تھا جس پر سنہ1956ء میں یورپی ممالک کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیاگیا۔

کورٹ سیٹا

سنہ 1960ء میں اسرائیل نے پروفیسر کورٹ سیٹا کا ٹرائل شروع کیا اور اس پر الزام عاید کیا گیا کہ اس نے چیکو سلواکیا کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں۔ پروفیسر سیٹا طبیعات کے سائنسدان مانے جاتے۔ انہوں نے اسرائیل کی حیفا یونیورسٹی میں التخنیون انسٹیٹیوٹ قائم کیا اور اس کے سربراہ رہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی جوہری توانئی کمیٹی کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ چونکہ وہ چیکو سلواکیا کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا چاہتے تھے مگر اس میں کامیاب نہیں ہوئے اسے تین سال قید کی سزا کافی سمجھی گئی۔

یسرائیل بار

سنہ 1961ء میں اسرائیلی فوج نے اپنے ایک سینیر افسر یسرائیل بار کو گرفتار کیا۔ اس پر سوویت انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مراسم کا الزام عاید کیا گیا۔ اس کےخلاف ٹرائل کے لیے ایک بڑا پینل تشکیل دیا گیا اور عدالت نے بالآخر 10 سال قید کی سزا سنائی۔

اودی آدیب

اودی آدیب اسرائیل میں بائیں بازو کا ایک سرکردہ سماجی کارکن تھا۔ اسے سنہ 1973ء میں شام کے لیے جاسوسی کےالزام میں پکڑا گیا۔ اس پر شامی فوج میں بھرتی کی مہمات میں شامل ہونے اور اسرائیلی فوج کے اہم راز شام کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیاگیا۔ اسے یورپ سے گرفتار کرکے لایا گیا اور اس کے خلاف ٹرائل کے بعد 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں اس نے12 سال قید کی سزا پوری کی جس کےبعد سنہ 1985ء میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ساتھ قیدیوں کے ایک تبادلے میں اسے رہا کردیا گیا۔

مارکوس کلینبیرگ

مارکوس اسرائیل کی بائیولیجیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا اہم محقق تھا۔ بعد ازاں اس پر سوویت یونین کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیاگیا۔ سنہ 1983ء میں شاباک اسے بیرون ملک سے گرفتار کرکے اسرائیل لانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے خلاف جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا جس میں اسے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ رہائی کے بعد وہ فرانس چلا گیا جہاں ایک سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ درست تھا اور اسے اس پر کوئی ندامت نہیں۔

مرڈ خائی فعنونو

مرڈ خائی فعنونو اسرائیل کے دیمونا ایٹمی پلانٹ میں الیکٹریکل انجینیر تھا۔ اس پر جوہری پلانٹ کی تصاویر ایک برطانوی صحافی کو منتقل کرنے اور معلومات کو فروخت کرنے کے الزام میں روم سے گرفتار کیا گیا۔’موساد‘ اسے گرفتار کرکے اسرائیل لے آئی جہاں اس پر 1988ء میں مقدمہ چلایا گیا اور 18 سال قید کی سزا ہوئی۔ سنہ 2004ء میں اسے جیل سے رہا کیا گیا۔

شبٹائی کلمنوفیٹچ

سنہ 1979ء کے وسط میں اسرائیلی حکومت نے شبٹائی کلمنوفیٹچ پر ’کے جی بی‘ کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا اور دعویٰ کیا کہ فیٹچ سوویت یونین میں اپنے خاندان کے قیام کے بدلے میں کے جی بی کو انٹیلی جنس معلومات مہیا کررہا ہے۔ اس کے خلاف بھی اسرائیلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور نو سال قید کی سزا دی گئی۔ رہائی کے بعد وہ روس چلا گیا اور سنہ2009ء میں نامعلوم افراد نے اسے ماسکو میں گولیاں مار کر قتل کردیا۔

ناحوم منبار

منبار اسرائیل کی ایک کاروباری شخصیت ہے۔ سنہ 1990ء میں اس پر تین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ ایک الزام ایران کے لیے جاسوسی تھا۔ اسے سنہ 1997ء میں کاروباری سفر سے واپسی پر گرفتار کیا گیا اور سولہ سال جیل میں رکھا گیا۔

(مرکز اطلاعات فلسطین )

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...