جمعرات , 19 جولائی 2018

’پاکستان پر دباؤ ڈال کر امریکی مطالبات منوانے کی پالیسی کامیاب نہیں رہی‘: ایلس جی ویلز

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کو یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ اسے ابھی بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے مزید کام کرنا ہے۔

تاہم اس بیان کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کچھ عرصے کے دوران آنے والی پیچیدگیوں کے برعکس اب معاملات کچھ بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکا کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز، ایلس جی ویلز نے یہ بیان گانگریس کو گزشتہ ایک سال کے عرصے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے دیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 2001 میں افغانستان میں طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان میں پناہ لینے والے طالبان کے ٹھکانوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی توقع ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کو مزید کام کرنا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ اربوں ڈالر لینے کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا اوراس بیان کے 2 روز بعد ہی امریکا نے پاکستان کی سیکیورٹی امداد میں 2 ارب ڈالر کی کٹوتی کر دی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے امریکا کے لگائے گئے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالے۔

اس ضمن میں کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے ایلس ویلز نے تسلیم کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر امریکی مطالبات منوانے کی پالیسی کچھ خاص کامیاب نہیں رہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی کے اعلان کے 10 ماہ بعد بھی محض چند مثبت چیزوں کے علاوہ، پاکستان کی جانب سے خاطر خواہ ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے جن کی ہمیں توقع تھی۔

امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہے اوراس کے جائز مفادات بھی وابستہ ہیں جن کا وہ امن عمل کے ذریعے کا تحفظ چاہتا ہے، امریکا نہ صرف پاکستان کے مفادات سے آگاہ بلکہ اپنے خدشات دور کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ جو مذاکرات کیے اس میں افغانستان کے ساتھ امن کے قیام کی کوششوں کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

خیال رہے کہ امریکی عہدیدار کے حالیہ بیان سے یہ گمان ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی اس بات کو تسلیم کر رہی ہے جسے ان کے پیش رو سالوں بعد افغانستان میں رہنے کے بعد سمجھے یعنی کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ناممکن ہے۔ امریکی عہدیدار نے اپنے بیان میں تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ طالبان بار بار ابھرنے کی صلاحیت رکھنے والے دشمن ہیں، اور افغان فوج کو اب بھی افغانستان کے مضافاتی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سخت مشکلات درپیش ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے انہوں نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے اور جو عناصر امن مذاکرات کا حصہ بننے کو تیار نہ ہوں انہیں گرفتار یا نکال باہر کرے۔ ایلس ویلز نے مزید بتایا کہ ایران سے لے کر روس ، بھارت، چین اور وسطی ایشیا کے ممالک سمیت افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک بارہا افغانستان میں امن عمل کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلا چکے ہیں، جنہیں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی افغان پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی میں اس قسم کے اقدامات سے افغانستان میں مکمل امن کے قیام میں کامیابی نہیں ملی جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے حالت جنگ میں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی میں 2 سال سے جاری ایمرجنسی کا خاتمہ

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان کی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں ایک ...