بدھ , 26 ستمبر 2018

دس ہزار مسلمانوں کا قتل

(سید اسد عباس)

دنیا میں انسانوں کی ایک کثیر تعداد بے حسی کی حدوں کو عبور کر چکی ہے، کچھ اس سرحد کے گرداگرد گھوم رہے ہیں۔ کبھی احساس کرتے ہیں تو کبھی وہ بھی بے حس۔ کہیں جانوروں کے لئے احساس پایا جاتا ہے تو کہیں انسانوں کے معصوم بچوں کے لئے بھی دل سے کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کیونکر اپنی پاکیزہ فطرت سے اس قدر دور چلا گیا ہے؟ اس میں کچھ میڈیا کے کمالات ہیں تو کچھ ہماری مصروفیات، دلچسپیاں اور کہیں تعصبات۔ میڈیا پر اس قدر حقیقی و غیر حقیقی کشت و خون دکھایا جاتا ہے کہ ہم بڑے سے بڑے ظلم اور حقیقی واقعات کو بھی بس سرسری سی نظر سے ہی دیکھتے ہیں اور آگے گزر جاتے ہیں۔ مصروفیات اور دلچسپیوں نے بھی ہمیں یوں جکڑ رکھا ہے کہ ہمیں اپنے اردگر ہونے والے واقعات کا علم ہی نہیں اور نہ ہی کوئی دلچسپی ہے۔

فٹ بال کا بخار چڑھا تو پوری دنیا اسی بخار کا شکار ہوگئی، کرکٹ کی وبا اٹھی تو اکثریت اسی میں گم۔ کوئی مر رہا ہے، کوئی جیتا ہے، کسی کو کیا پرواہ۔ بے حسی کا یہ مرض تو اب گھروں اور قریبی رشتوں تک سرائیت کر چکا ہے۔ بچا بھوک سے بلک رہا ہے، ذرا وٹس ایپ پر میسیج کر لوں، ماں پانی مانگ رہی ہے، امی ابھی پوسٹ لگا کے آئی، باپ درد سے کراہ رہا ہے، بابا یہ ویڈیو ختم ہوتی ہے تو آتا ہوں۔ باقی رشتوں کا تو تذکرہ ہی کیا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس صدی نے ہمیں معلومات کے سمندر میں پھینک کر اپنے آپ سے ہی بیگانہ کر دیا ہے۔ گھنٹوں فیس بک، وٹس ایپ، یوٹیوب پر بیٹھے رہو، خون ٹخنوں میں جمتا ہے تو جمتا رہے،پوسٹ ہاتھ سے نہ جائے۔

یہ جنون بھی ہے اور نشہ بھی۔ بہت ہی کم ایسے افراد ہوں گے، جو اس آفت سے محفوظ ہوں۔ معلومات کی اس قدر بہتات ہے کہ ضروری معلومات سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنے اختیار سے اپنی زندگی گزارتے، سوشل میڈیا نے ہماری زندگی جینی شروع کر دی ہے۔ نماز کے دوران فرصت ملی تو فوراً وٹس ایپ پر نظر کہ کہیں کوئی اہم میسیج تو نہیں آیا۔ تلاوت قرآن کی اول تو فرصت ہی نہیں، اگر مل گئی تو مسلسل فون سامنے، اللہ کے کلام کی تلاوت اور ساتھ ساتھ دوستوں کے جوابات۔ تعصب بھی ہمارے اعصاب پر بری طرح سوار ہے، علاقائی، قومی، مذہبی، لسانی، نسلی تعصبات نے انسانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ بڑے سے بڑا ظلم انسانیت کی آنکھ سے نہیں،

اسی تعصب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے اور اس پر ردعمل بھی اسی غریضے کے تحت کیا جاتا ہے۔ اسی لئے امام حسین ؑ کربلا کے میدان میں لشکر یزید پر جب ہر طرح سے حجت تمام کر چکے، انہیں اپنا تعارف کروایا، انہیں اللہ کے احکامات بتائے، عرب روایات کا تذکرہ کیا اور وہ نہ مانے تو آخر میں کہا کہ اگر کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے تو کم از کم تعصب سے تو نکل آؤ، آزاد انسانوں کی طرح ہی سوچو۔اگر ہم اس وقت کی یزیدی فوج اور اپنے معاشرے کا موازنہ کریں تو ہمیں زیادہ فرق نہیں نظر آئے گا۔ اس تعصب نے ہمارے معاشرے کو انسانیت کے درجے سے ہی گرا دیا ہے۔ اب ہم یہ نہیں دیکھتے کہ انسان کا بچہ بے جرم و خطا قتل ہوا،

یہ نہیں سوچتے کہ کوئی ملک کسی غریب ملک پر ظلم روا رکھے ہوئے ہے، ہماری نظر ہمیشہ یہ دیکھتی ہے کہ حملہ آور کون ہے اور جس پر حملہ ہو رہا ہے، وہ کون ہے۔ اگر مظلوم ہمارے معیار حمایت یعنی تعصباتی وابستگی پر پورا اترتا ہے تو ہم جیسا حق گو، جری و بہادر کوئی نہیں اور اگر مظلوم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں یا ظالم سے کوئی نسبت ہے تو پھر ہماری خاموشی بھی دیدنی ہوتی ہے۔ اس مرض کا شکار ہماری اکثر دینی و مذہبی جماعتیں ہیں۔ افغانستان پر روس حملہ کرے تو ہم لشکر کے لشکر وہاں جاتے ہیں اور بے جگری سے اہل کفر کا مقابلہ کرتے ہیں، برما میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو تو ہماری غیرت ایمانی بیدار ہوتی ہے اور ہم لاکھوں کی تعداد میں برما کے حق میں مظاہرے کرتے ہیں۔

حمص و ادلب پر بمباری ہو تو اپنی پوری قوت ایمانی کے ساتھ ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، تاہم دنیا میں بہت سے ایسے مقامات ہیں، جہاں ہونے والا ظلم و بربریت نہ تو ہمیں نظر آتا ہے اور نہ ہماری بے حسی کو کم کرتا ہے۔اس کی ایک تازہ ترین مثال عرب دنیا کا پسماندہ ملک یمن ہے۔ جہاں کی ساٹھ فیصد آبادی 2015ء میں عرب ہمسایوں کی مسلط کردہ جنگ سے قبل ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ زرو جواہر میں گردن تک دھنسے مسلمان ہمسایوں کے جوار میں ایسی غربت کہ الامان و الحفیظ۔ پانی، بجلی، ایندھن، خوراک، ادویات، لباس ہر ضرورت زندگی پیسوں کے عوض ملتی ہے اور وہ بھی مہنگے داموں، جو ہر کسی کی دسترس میں نہیں۔ آپ یمنیوں کی تصاویر گوگل پر سرچ کریں کوئی بھی شخص پورے لباس میں نہیں ملے گا،

اکثر پا برہنہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کہتے ہیں کہ یمن کی ستر فیصد آبادی امداد پر زندہ ہے، تین لاکھ بچوں تک اگر امدادی سامان نہ پہنچا تو ان کی جانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ بیماری کا آغاز ہوتا ہے تو وبا کا خطرہ جنم لے لیتا ہے۔ کوئی سڑک، عمارت، ہسپتال، خوراک کا مرکز، بازار، کھیل کا میدان سعودی و اتحادی طیاروں کی بمباری سے محفوظ نہیں۔ عرب اتحادیوں کی اس جارحیت کا سلسلہ گذشتہ تین برس سے جاری ہے۔ ہم سے بہتر بھلا کون جان سکتا ہے کہ اگر کسی ملک پر فقط گیارہ روز کے لئے جنگ مسلط کر دی جائے تو اس ملک کی معیشت دہائیوں تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتی، کجا یہ کہ تین سال سے ایک ملک کو جنگ کا سامنا ہو۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب وہ روشندان جہاں سے ہوا اور روشنی کی آمد کا امکان تھا، کو بھی اپنے قبضے میں کرنے کے لئے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ کر دیا گیا ہے۔

الحدیدہ جو یمن کی اہم بندرگاہ ہے، اس پر سعودی، اماراتی اور ان کے پشت پناہوں کے لشکر اتارے جا چکے ہیں، تاکہ اس بندرگاہ پر قبضہ کرکے یمنی عوام سے حق خودارادیت اور آزادی سلب کرکے انہیں اپنا کاسہ لیس بنا لیا جائے، ان پر وہ حاکم مسلط کئے جائیں، جو ہمسایوں کی جوتیاں اٹھا کر ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہیں۔ بلا چون و چرا ان کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر لیں۔ ان کے فیصلوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کریں، ان کے موقف کے برخلاف کوئی موقف نہ اپنائیں۔ قطر کو بھی اسی بناء پر خود سے جدا کیا گیا کہ وہ ہمارے سامنے بولتا ہے۔ قطر کی معیشت نے اس دھچکے کو برداشت کیا، وہ ایک امیر ملک تھا،

گیس کے ذخائر اس کا اثاثہ ہیں۔ عرب ریاستیں قطر کو کوشش کے باوجود تنہا نہ کر سکیں۔ یمنیوں کے پاس ایسا کچھ نہیں، ان کا واحد اثاثہ ان کا خدا پر ایمان ہے، جو انہیں کسی بھی انسان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے روکتا ہے۔ وہ فقر میں بھی اپنی آزادی کا سودا کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ برما، حمص، ادلب، فلسطین، کشمیر، بحرین کے لئے آواز بلند کرنے والوں کا حق بنتا ہے کہ وہ یمن کے مظلوموں کے حق میں بھی آواز بلند کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آل سعود اور جارح عرب حکمران بھی اب ہمارے مقدسات کا حصہ بن چکے ہیں، جن کے خلاف بولنا ہمارے دین سے متصادم ہے۔؟؟

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...