بدھ , 12 دسمبر 2018

افغانستان میں امن ، خطے کی نا گز یر ضر و ر ت

(ڈاکٹر ابراہیم مغل)

ا فغا نستا ن کے بھا ر ت سے خصو صی تعلقا ت رو زِ رو شن کی طر ح عیا ں ہیں۔ یہی و ہ امر ہے جس کی بنا ء پر افغا ن حکومت اپنے ملک میں پا کستا ن کے خلا ف ہو نے والی دہشت گر د ی کو رو کنے میں نا کا م د کھا ئی دیتی ہے۔ چنا نچہ حا ل ہی میں شمالی و ز یر ستا ن کے سر حد ی علا قے شوا ل میں پا کستا نی چیک پو سٹ پر افغا ن سر زمین سے ہو نے وا لی دہشت گر دی کے نتیجے میں وطن، عز یز کے تین فو جی جو ا نو ں نے جا مِ شہا دت نو ش کیا۔ لیکن اسی بز دلا نہ کارروائی کے جو ا ب میں پا ک فو ج نے پا نچ د ہشت گر دو ں کو ہلا ک کر دیا۔ ا فغا نستا ن جس کی تا ر یخ جنگ و جد ال سے ا ٹی پڑ ی ہے،

ان د نو ں جس مخد و ش صو ر ت ِ حا ل کا شکا ر ہے، اس کی مثا ل تو اس کے ا پنے ما ضی میں بھی نہیں ملتی۔ نیٹو فو ر سز کی مو جو د گی کے با و جو د ا فغا ن طا لبا ن کے مسلسل خو د کش حملو ں او ر بم د ھما کو ں کی وجہ سے وہا ں امن آ خر کیو ں قا ئم نہیں ہو رہا،یہ و ہ سو ا ل ہے جس کا جو ا ب تلا ش کر نے کی غر ض سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں موجود اتحادی فوج کے کمانڈر اور امریکی جنرل جان نکلسن سے اہم ملاقات کی ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق در ا صل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چند رو ز پہلے افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کابل کا ایک روزہ دورہ کیا، اس دورے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ون آن ون ملاقات کی ، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ لا کھ کو شش کے با و جو د اس حقیقت پر پرد ہ نہیں ڈا لا جا سکتا کی اس تما م تر صو ر ت ِ حا ل میں اصل کردار خود افغان حکومت کا ہے جو خطے کی خوفناک صورت حال کے ادراک کی بجائے امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے الگ ہونے کو تیار نہیں۔

حالانکہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ افغان طالبان کی شورش کے تسلسل کے بعد اب داعش نے بھی وہاں اپنے خونیں پنجے گاڑ لیے ہیں۔ داعش بھی افغانستان میں اپنی کارروائیاں کر رہی ہے اور اس کا دائرہ کار مسلسل فروغ پذیر ہے جو افغانستان میں جاری لڑئی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بھی ہے۔ اس حقیقت کا عمل امریکہ اور یورپ کی قیادت کو بھی ہے اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے کمانڈروں کو بھی ہے۔ افغانستان میں طالبان کی قوت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں صوبہ فریاب کے ضلعی گورنر عبدالرحمن پناہ اور دیگر 8 افراد کو قتل کردیا اور اس کے بعد ضلع کوہستان کے مرکز پر قبضہ کرلیا۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبہ سرپل کے ضلع سید میں بھی لڑائی جاری ہے۔ دریں اثناء صوبہ غزنی میں خود کش حملے میں مزید 5 پولیس اہلکار جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے۔ ان کارروائیوں سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ افغانستان میں جنگجو گروپ پوری طرح فعال ہیں جبکہ افغانستان کی فورسز کی تربیت اور تکنیک میں کئی خامیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگ جیتنے کے قابل نہیں ہیں، ان کا زیادہ جانی نقصان ہورہا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ مذاکرات ہے، اس کے لیے جو کوششیں ہوئیں وہ ناکام ہوئی ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کی سرنگ کے پار ابھی تک روشنی کی کوئی کرن نہیں پھوٹی،

کثیر جہتی امدادی پروگرام اور قطری بات چیت بھی بے نتیجہ رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن بوجہ وہ بھی کامیاب نہیں ہوا۔ مری میں ہونے والے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوگئے جبکہ بنیادی المیہ افغانستان کی داخلی استقامت، سماجی و معاشرتی ترقی اور سیاسی استحکام کی بحالی کا ہے۔ افغانستان میں امن اور معیشت کی بحالی کی جو بھی کوششیں ہوئیں وہ خانہ جنگی کے سبب ناکامی سے دوچار ہوگئیں۔ جہاں تک افغانستان میں امن کوششوں اور امن کے قیام کے کلیدی کردار کا تعلق ہے،

دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کوششوں اور ثالثی و مصالحتی و دیگر مساعی میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے لیکن افغان حکام نے کبھی پاکستان کے اخلاص کا کشادہ نظری اور وسیع النظری سے جواب نہیں دیا یہی و ہ حقیقت ہے جس کا تواتر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ میں رکاوٹ بنا رہا۔ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہو یا افغان مہاجرین کی واپسی، افغان حکومت نے ہمیشہ منفی رویہ اختیار کیا اور مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اسے الجھانے کی کوشش کی ۔ اس تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ دورہ خوش آئند ہے اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاک افغان سرحد پر باڑ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ہے۔ افغان صدر نے دیرپا امن و استحکام کے لیے تعاون پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ داعش پر کڑی نگاہ رکھنے، منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردی کے خاتمے پر بھی بات چیت ہوئی۔ آرمی چیف نے کہا کہ امن و استحکام کے لیے پاک افغان ایکشن دو طرفہ تعاون کا پیش خیمہ ہوگا۔ دریں اثناء دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے حالیہ اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتاہے۔یہا ں یہ ذ کر کر نا بے جا نہ ہو گا کہ ا مر یکہ ہمیشہ ا لز ا م لگا تا آ یا ہے کہ د ہشت گر د ا فغا نستا ن میں حملو ں کی غر ض سے پا کستا ن کی سر ز مین استعما ل کر تے ہیں، جبکہ حقیقت با لکل اس کے ا لٹ ہے۔ کیو نکہ پا کستا ن میں د ہشت گر دی کے ا ڈے ختم ہو نے کے بعد یہا ں سے فر ا ر ہو نے وا لے د ہشت گر د افغا نستا ن میں بیٹھ کر پا کستا ن کے خلا ف کارروائیا ں کر رہے ہیں۔

پا کستا ن اس کا ثبو ت با ر ہا امریکہ ا و ر ا فغا نستا ن کو دے چکا ہے۔ اب جبکہ ا فغا نستا ن او ر امر یکہ کو اپنی ناکامی کا ا حسا س ہو چکا ہے ، تو انہو ں نے مسئلے کے حل کے لیئے پا کستا ن سے را بطہ کیا ہے۔ دیر آ ید در ست آ ید کے مصد ا ق پاکستان نے ا پنی نیک نیتی کے سا تھ اس کو شش کا خیر مقد م کیا ہے۔ تا ہم ا کیلے پا کستا ن کی نیک نیتی اس کا ر ِ خیر میں کا فی نہ ہو گی۔ لہٰذا ا مر یکہ او ر ا فغا نستا ن کو بھی اسی قسم کی نیک نیتی کا مظا ہر ہ کر نا ہو گا۔ ا گر خدا نخو ا ستہ ا یسا نہیں ہو تا تو حا لا ت اپنی پرانی ڈ گر پہ و ا پسی ا ختیا ر کر نے میں چند ا ں دیر نہیں لگا ئیں گے۔ کا ش ا س قسم کے خد شے کا ا ظہا ر اس مو قع پر نہ کر نا پڑتا، لیکن بلی کو د یکھ کر اسکی سر شت کو فر ا مو ش کر تے ہو ئے آ نکھیں بند کر لینا ، معصو میت نہیں ،یہا ں یہ ذ کر کر نا بے جا نہ ہو گا کہ ا مر یکہ ہمیشہ ا لز ا م لگا تا آ یا ہے کہ د ہشت گر د ا فغا نستا ن میں حملو ں کی غر ض سے پا کستا ن کی سر ز مین استعما ل کر تے ہیں، جبکہ حقیقت با لکل اس کے ا لٹ ہے۔ کیو نکہ پا کستا ن میں د ہشت گر دی کے ا ڈے ختم ہو نے کے بعد یہا ں سے فر ا ر ہو نے وا لے د ہشت گر د افغا نستا ن میں بیٹھ کر پا کستا ن کے خلا ف کارروائیا ں کر رہے ہیں۔ پا کستا ن اس کا ثبو ت با ر ہا امریکہ ا و ر ا فغا نستا ن کو دے چکا ہے۔ اب جبکہ ا فغا نستا ن او ر امر یکہ کو اپنی ناکامی کا ا حسا س ہو چکا ہے ، تو انہو ں نے مسئلے کے حل کے لیئے پا کستا ن سے را بطہ کیا ہے۔ دیر آ ید در ست آ ید کے مصد ا ق پاکستان نے ا پنی نیک نیتی کے سا تھ اس کو شش کا خیر مقد م کیا ہے۔ تا ہم ا کیلے پا کستا ن کی نیک نیتی اس کا ر ِ خیر میں کا فی نہ ہو گی۔ لہٰذا ا مر یکہ او ر ا فغا نستا ن کو بھی اسی قسم کی نیک نیتی کا مظا ہر ہ کر نا ہو گا۔ ا گر خدا نخو ا ستہ ا یسا نہیں ہو تا تو حا لا ت اپنی پرانی ڈ گر پہ و ا پسی ا ختیا ر کر نے میں چند ا ں دیر نہیں لگا ئیں گے۔ کا ش ا س قسم کے خد شے کا ا ظہا ر اس مو قع پر نہ کر نا پڑتا، لیکن بلی کو د یکھ کر اسکی سر شت کو فر ا مو ش کر تے ہو ئے آ نکھیں بند کر لینا ، معصو میت نہیں ، بلکہ بیو قوفی کے ز مر ے میں آ تا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...