منگل , 25 ستمبر 2018

یمن میں قائم اماراتی جیلوں میں کیا ہورہا ہے؟

(تسنیم خیالی)

یمن پر جارحیت کے کچھ عرصے بعد اماراتی افواج یمن کے بعض حصوں پر قابض ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں اپنی جیلیں قائم کرچکی ہیں، جہاں قیدیوں کے ساتھ ایسے مظالم ہورہے ہیں جن سے انسانیت شرم کے مارے پانی پانی ہوچکی ہے، اس حوالے سے عالمی شہرت یافتہ نیوز ایجنسی ’’ایوشییٹدپریس‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں قائم اماراتی جیلوں میں امارات والے یمنیوں کے خلاف بدترین تشدد کا استعمال کررہے ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح امریکی عراقیوں کے ساتھ بدنام زمانہ’’ابو غریب‘‘ جیل میں کرچکے ہیں اور بعض اوقات اماراتی امریکیوں سے بھی کئی گنا آگے نکل جاتے ہیں،

رپورٹ کے مطابق اس وقت یمن میں ایک نہیں بلکہ 5اماراتی قید خانے قائم ہیں، اور سبھی میں یمنی بدترین تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کو جہاں بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہیں ان قیدیوں کو ’’جنسی تشدد‘‘ کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، اس حوالےسے یمنی شاہدین اور بعض قیدیوں کی باتیں نقل کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان جیلوں میں قیدیوں کو برہنہ کرکے مار دہاڑنے کے بعد ان کی آبروریزی کی جاتی ہے اور اس گھنائونے فعل کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جاتی ہے،

علاوہ ازین برہنہ قیدیوں پر خونخوار کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں جو انکے جسم کے کسی بھی حصے کو نوچے بنا نہیں چھوڑتے، رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے حساس اعضاء کو بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں نیز ان اعضاء بڑےپتھروں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تشدد کا یہ سلسلہ یہاں پر اختتام پذیر نہیں ہوتا، یمنی شاہدین کے مطابق اماراتی بے عزتی کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے قیدیوں کے ’’دُبر‘‘ میں لوہا یا پھر فولاد ی سریے ڈال کر انہیں مرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں ٹھیک اسی طرح جس طرح یورپ میں قرون وسطیٰ میں ہوا کرتا تھا،

یمن پر جارحیت کی قیادت تو سعودی عرب کررہا ہے مگر اس ظلم کی چنگاری امارات نے جلائی تھی، اماراتیوں نے ہی یہ سب کچھ کروایا اورآج اماراتی ہی یمن میں سعودی عرب سے بھی بدتر کارروائیاں اور مظالم کا ارتکاب کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی) ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر ...