منگل , 25 ستمبر 2018

ادائیگی بحران میں پٹرولیم، زرعی مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور دھاتوں کا ہاتھ نکلا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو درپیش ادائیگیوں کے بحران کی وجہ بننے والے درآمدی بل میں پٹرولیم مصنوعات، زرعی اشیا، ٹرانسپورٹ آئٹمز اور دھاتوں کا ہاتھ نکلا۔پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مئی تک درآمدی بل 14.12 فیصد کے اضافے سے 55ارب 23کروڑ 26لاکھ 48 ہزار ڈالر رہا جس میں پٹرولیم گروپ 12ارب 92کروڑ81لاکھ 71 ہزار ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا، پٹرولیم مصنوعات 9.54 فیصد بڑھ کر6ارب 80 کروڑ،

83لاکھ 49 ہزار ڈالر، خام تیل 60.35 فیصد کے اضافے سے 3ارب73کروڑ86 لاکھ 65 ہزار ڈالر، ایل این جی 84.59 فیصد بڑھ کر 2ارب12کروڑ 30لاکھ 2 ہزار ڈالر اور ایل پی جی 20.30 فیصد کے اضافے سے 25 کروڑ 79 لاکھ 57 ہزار ڈالر کی منگوائی گئی۔دوسرا نمبر مشینری گروپ کا رہا جس کی درآمدات 2.19 فیصد کم ہوجانے کے باوجود 10ارب 63 کروڑ 24لاکھ58 ہزار ڈالر رہیں جبکہ کھاد، زرعی ادویہ، پلاسٹک دانہ ودیگر آئٹمز درآمدات بڑھنے سے زرعی و کیمیکل سیکٹر کی امپورٹ 17.46 فیصد بڑھ کر 8ارب 13 کروڑ 75 لاکھ 87 ہزار،

ڈالر اور خوراک کی درآمدات معمولی اضافے سے 5ارب 71کروڑ 53لاکھ 85 ہزار ڈالر ہوگئیں۔سونے آئرن واسٹیل سمیت دھاتوں کی درآمدات 22.12 فیصد کے اضافے سے 4ارب 91 کروڑ 79لاکھ 27 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں،ٹرانسپورٹ گروپ کی امپورٹ27.88 فیصد بڑھ کر 3ارب 82کروڑ 16لاکھ 72 ہزار ڈالر رہی اور ٹیکسٹائل گروپ کی درآمدات بھی 20 کروڑ ڈالر بڑھ کر 3ارب29کروڑڈالر تک پہنچ گئیں۔ بیورو شماریات کے مطابق گزشتہ 11ماہ میں ٹیکسٹائل اورخوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔واضح رہے۔

دسمبر سے اب تکایکسٹرنل سیکٹر کے مسائل حل کرنے کے لیے روپے کی قدر میں 16 فیصد کے قریب کمی کی جاچکی ہے۔ جس کے نتیجے میں برآمدات کو سپورٹ ملی، جولائی سے مئی تک ٹیکسٹائل بشمول روئی، سوتی کپڑے، نٹ ویئر، بیڈویئر، ریڈی میڈ گارمنٹس اور سنتھیٹک ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ 9.82 فیصد بڑھ کر 12ارب 33 کروڑ 61 لاکھ 38 ہزار ڈالر ہوگئی جبکہ خوراک کی ایکسپورٹ 30.80 فیصد کے نمایاں اضافے سے 4ارب47کروڑ99لاکھ61 ہزار ڈالر ہوگئی۔پٹرولیم گروپ کی ایکسپورٹ بھی 126.16 فیصد بڑھ کر 37کروڑ 71لاکھ6 ہزار ڈالر کی سطح پر جا پہنچی، دیگر مینوفیکچرنگ گروپ کی برآمدات،

11.36 فیصد کے اضافے سے 3 ارب 11کروڑ 28لاکھ 4 ہزار ڈالر رہیں۔جولائی سے مئی تک پاکستان سے مجموعی طور پر 15.28 فیصد کے اضافے سے 21ارب34کروڑ59لاکھ49 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ مدت میں تجارتی خسارہ بھی 13.40 فیصد بڑھ کر 33 ارب 88 کروڑ 60لاکھ ڈالر ہوگیا جسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ادائیگیوں کے بحران کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عدم ادائیگی پرپی ایس او نے قومی ایئرلائن کو ایندھن کی فراہمی بند کردی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پی ایس او نے قومی ایئر لائن کو ایندھن کی فراہمی بند کردی، ...