بدھ , 26 ستمبر 2018

انہدام جنت البقیع تاریخی عوامل اور اسباب

بسم اﷲ الرحمن الرحیم اَدْع الیٰ سبیل ربک بالحکمتہ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالّتی ہی احسن

” لوگوں کی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو اوران سے بہترین انداز میں استدلال اور مباحثہ کرو۔” سورہ نحل: آیت 125

ہم ہر سال 8 شوال بطور یوم غم مناتے ہیں ۔ آج سے تقریباً 80 سال قبل یعنی 1344ھ/ 1926ء میں اسی تاریخ مدینہ منورہ میں جنت البقیع اور مکہ معظمہ میں جنت المعلیٰ کے مقبروں اور مزارات کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ مزارات جناب فاطمۃ الزہرا (ع)، امام حسن (ع)، امام زین العابدین(ع) ، امام محمد باقر (ع)، امام جعفر صادق(ع) اور دیگر اولاد، ازواج، اصحاب اور اقربائے پیغمبر اور شہدائے راہِ حق کے تھے۔ سب کو تعجب ہوتا ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں کے فرمانروا ” خادم حرمین شریفین” کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کس طرح اس مذموم حرکت کو گوارا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ ہمارا تعلق 20ویں صدی سے ہے اور یہ واقعہ بھی اسی صدی سے متعلق ہے اس وجہ سے انہدام جنت البقیع کے محرکات کو صحیح تناظر میں سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ تفصیلات میں جانا ہو گا جن کو ہم 5 حصوں میںتقسیم کر سکتے۔ (1) جنت البقیع مورخین کی نظر میں ۔ (2) وہابیت کی ابتدا اور فروغ (3) تحریک خلافت اور جنت البقیع (4) انہدام جنت البقیع اور اسلامی رد عمل(5) خلاصہ کلام ہماری ذمہ داریاں۔

جنت البقیع مورخین کی نظر میں

بقیع کے لفظی معنی درختوں کا باغ ہے اور تقدس کی خاطر اس کو جنت البقیع کہا جاتا ہے یہ مدینہ میں ایک قبرستان ہے جس کی ابتدا 3 شعبان 3ھ کو عثمان بن مزون کے دفن سے ہوئی، اس کے بعد یہاں آنحضرت کے فرزند حضرت ابراہیم کی تدفین ہوئی ۔ آنحضرت(ص) کے دوسرے رشتہ دار حضرت صفیہؓ، حضرت عاتکہؓ اور حضرت فاطمہ بنت اسد (ع) ( والد امیر المومنین (ع) بھی یہاں دفن ہیں۔ تیسرے خلیفہ عثمانؓ جنت البقیع سے ملحق باہر دفن ہوئے تھے لیکن بعد میں اس کی توسیع میں ان کی قبر بھی بقیع کا حصہ بن گئی۔ بقیع میں دفن ہونے والوں کو آنحضرتﷺ خصوصی دعا میں یاد کرتے تھے اس طرح بقیع کا قبرستان مسلمانوں کے لئے ایک تاریخی امتیاز و تقدس کا مقام بن گیا۔

ساتویں صدی ہجری میں عمر بن جبیرؓ نے اپنے مدینہ کے سفر نامہ میں جنت البقیع میں مختلف قبور پر تعمیر شدہ قبوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (ع) ( فرزند آنحضرت (ص) عقیل ابن ابی طالب (ع)، عبداﷲ بن جعفر طیار(ع)، امہات المومنینؓ، عباس ابن عبدالمطلب(ع) کی قبور شامل ہیں۔ قبرستان کے دوسرے حصہ میں حضرت امام حسن (ع) کی قبر اور عباس ابن عبدالمطلبؓ کی قبر کے پیچھے ایک حجرہ ، موسوم بہ بیت الحزن ہے جہاں جناب سیدہ (س) جا کر اپنے والد کو روتی تھیں۔ تقریباً ایک سو سال بعد ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامہ میں بقیع کا جو خاکہ بنایا ہے وہ اس سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ سلطنت عثمانی نے بھی مکہ اور مدینہ کی رونق میں اضافہ کیا اور مقامات مقدسہ کے فن تعمیر اور زیبائش میں اضافہ کیا اور1778ء کے دوران دو انگریزی سیاحوں نے بھیس بدل کر ان مقامات کا دورہ کیا اور مدینہ کو استنبول کے مشابہ ایک خوبصورت شہر قرار دیا۔ (حوالہ شیعہ نیوز، ڈات کام) اس طرح گزشتہ 12 سو سال کے دوران جنت البقیع کا قبرستان ایک قابل احترام جگہ رہی جو وقتاً فوقتاً تعمیر اور مرمت کے مرحلوں سے گزرتی رہی۔

وہابیت، ابتدا اور فروغ

13 ویں صدی ہجری کے اوائل میں حجاز کے سیاسی حالات ، نے پلٹا کھایا اور جنت البقیع بھی ان کی زد سے محفوظ نہ رہ سکی، اس کی بنیادی وجہ وہابیت ہے۔ وہابیت کا پس منظر کیا ہے؟ اس کی اتبدا نجد میں ہوئی، اس وقت جزیرہ نمائے عرب میں دو طاقتیں تھیں ایک نجد میں اور دوسری حجاز کے شمال میں ترکی کی سطلنت عثمانیہ قائم تھی جس میں شام ، عراق، اردن اور فلسطین بھی شامل تھے۔

1115ھ (1703ء) نجد میں محمد بن عبدالوہاب نامی شخص پیدا ہوا، وہ مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بصرہ، بغداد، ہمدان اور قم گیا اور حصول علم کے ساتھ ساتھ درس و تدریس میں مصروف رہا، پہلے اس نے حنبلی نظریات کو قبول کیا پھرحنبلی بیعت سے آزاد ہو کر احادیث میں اس خود استباط ( یعنی تفسیر بالرائے) کا دعویٰ کیا۔ نتیجتاً اس کو مخالفانہ نظریات کے پر چار کی پاداش میں بستی سے نکال دیا گیا ۔ اس وقت نجد میں محمد بن سعود نامی شخص کے زیر اثر قبیلوں کا دارو مدار ہمسایہ بستیوں میں لوٹ مار کرنا اور اپنے علاقہ کی حدود بڑھانا تھا۔ محمد بن سعود نے محمد بن عبدالوہاب کو اپنے قبیلے میں پناہ دی اور دونوں کے درمیان وہابیت کے فروغ اور پر چار کرنے کا معاہدہ ہوا۔ محمد بن عبدالوہاب نے جاہل عربوں کو اپنی طرف مائل کرنے وہابیت کے نام جو عقیدہ یا Doctrine دیا اس کے رو سے اسلام میں قبر پرستی شرک ہے ۔ قبور پر سائبان چھت ، قبہ، گنبد بنانا ناجائز ہی نہیں بلکہ کفر ہے اور زیارت قبور کے لئے جانا ناجائز ہے ۔معاہدہ کی رو سے محمد بن عبدالوہاب لوگوں کو وہابیت کی طرف مائل کرتا اور ان کو ابن سعود کی حمایت پر تیار کرتا اور یہ لوگ ابن سعود کی سرکردگی میں ہمسایہ علاقوں پر حملہ کرتے۔ اس طرح ابن سعود نے حجاز کے وسیع علاقہ پر قبضہ جما لیا اور محمد بن عبدالوہاب کو اپنا قاضی مقرر کیا۔ خود محمد بن سعود نے بھی وہابی نظریات کو قبول کر لیا اور اس طرح وہابیت کو حجاز میں سر کاری مذہب کا درجہ مل گیا۔ محمد بن سعود کے انتقال پر ان کے بھائی عبدالعزیز بن سعود نے بھی وہ معاہدہ بر قرار رکھا اور اس طرح لشکر کشی جاری رہی۔ ( سید علی حیدر نقوی ۔ ادیان عالم اور اسلام) یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ زیارت قبور کے جواز کے ضمن میں حدیث رسول (ص) اور توسل صحاب کی 36 روایات موجود ہیں، مذاہب اربعہ کے 40 علماء نے زیارت قبر نبی(ص) کے آداب اور زیارتیں نقل کی ہیں۔ سارے عالم اسلام میں انبیاءؑ صحابہؓ، تابعینؓ ، علماء اور اولیاء کرام کی قبریں مختلف جگہ موجود ہیں اور مرجع خلائق ہیں۔ ( علامہ طالب جوہری)

قرآن کے سورہ حج کی 32ویں آیت میں شعائر اﷲ کی تعظیم سے متعلق صریح احکام موجود ہیں ۔ ان تمام دلائل کے باجود بفرض محال عقیدہ وہابیت کو قابل قبول سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گزشتہ 14 صدیوں میں سارے عالم اسلام میں جہاں جہاں قبور کی زیارت، احترام، تعمیر مرمت اور دیکھ بھال کی گئی وہ تمام اعمال شرک، کفر اور بدعت کے زمرہ میں شمار ہوںگی۔ یعنی یہ کریڈٹ محمد بن عبدالوہاب کو جائیگا کہ 14 سو سال میں پہلی دفعہ اس نے اس بدعت کی نشاندہی کی۔ ایک اور قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ محمد بن عبدالوہاب نے ان نظریات کو اپنے والد کے نام کی نسبت سے وہابیت کا نام دیا جبکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ خود ان کے اپنے نام یعنی محمد کی نسبت سے یہ عقیدہ محمدیہ کہلاتا ظاہر ہے ایسا کرنے سے ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔ ایک اور اہم نکتہ قابل ِغور ہے کہ 19ویں اور 20ویں صدی میں اسلامی دنیا میں ایک ہلچل مچی رہی یہ ایک اتفاق ہے کہ عین اس زمانہ میں جب حجاز میں وہابیت جڑ پکڑ رہی تھی دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی احیائے اسلام کے نام پر اور تحریکیں بھی کار فرما تھیں بطور مثال سوڈان میں مہدویت، لبیا میں سنوسی، نائیجریا میں فلافی، انڈونیشیا میں پادری اور ہندوستان میں احمدیہ یا قادیانیت قابل ذکر ہیں۔ بظاہر احیائے اسلام کے نام پر یہ تحریکیں اسلام سے مرکز گریزی میں زیادہ مصروف تھیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اس مسئلہ کو اسلام کے خلاف یہودیوں کی سازش کہ کر ختم کر دیں ضروری ہے کہ اس معاملہ میں تحقیق کریں اور ان تحاریک کے منبع اور مقاصد تک پہونچیں۔ (اکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ۔ص: ١٣)

مسلم ممالک میں فکری انتشار اور بد نظمیوں کے حوالے سے حکومت برطانیہ کے ایک جاسوس ہمفری کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ وہابیت کے پھیلاؤ اور تبلیغ کے سلسلہ میں اس کی کار روائیاں سر فہرست ہیں جو ”ہمفری کے اعترافات” کی صورت میں قلمبند ہیں۔ ان اعترافات میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ہمفری سے روابط کا تفصیلی ذکر ہے کہ کس طرح اس نے شیخ محمد کو اسلامی عقائد سے منحرف کیا۔ ساتھ ساتھ وہ برطانوی وزارتِ نو آبادیات کو عراق کے واقعات سے بھی آگاہ کرتا رہا اور وہاں کے لئے ایک 6 نکاتی لائحہ عمل مرتب کیا۔ ان دستاویزات کی استناد سے قطع نظر یہ بات قابل غور ہے کہ اغیار کس طرح ہماری اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے دوران یہ دستاویزات جرمنوں کے ہاتھ لگیں تو انہوں نے برطانیہ کے خلاف پروپگنڈے کے لئے جرمنی رسالہ اسپیگل میں شائع کیا بعد میں ایک فرانسیسی رسالے نے ان کو شایع کر دیا۔ ایک لبنانی دانشور نے ان یاداشتوں کے عربی ترجمہ کو رفاہ عام کی غرض سے چھاپ دیا۔ انجمن نوجوانوں پاکستان نے گارڈن ٹاؤن لاہور سے اردو مین شایع کروایا ہے (بشکریہ سید محمد افتخارعلی )۔

عرب عجم کشمکش اور تحریکِ خلافت

حجاز میں وہابیت کی تحریک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی افرا تفری میں مغربی طاقتوں نے ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیا۔ عربوں اور عجمیوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر برطانیہ اور فرانس نے 1916ء اور 1918ء کے درمیان کرنل لارنس ( جو عام طور پر لارنس آف عریبیا کہلاتا ہے) کی قیادت میں شام اور عراق کے عربوں کو ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف صف آراء کر دیا مگر جنگ کے اختتام پر ( جو عرب انقلاب سے موسوم ہوئی) برطانیہ اور فرانس نے عربوں کو دھوکہ دیکر شام، عراق، فلسطین اور اردن کو باہم تقسیم کر لیا، عراق، فلسطین اور اردن برطانیہ کے تسلط یا نگرانی میں دیدیئے گئے اور شام پر فرانس کو غلبہ مل گیا۔ یمن اور نجد نیم آزاد حکومتیں بن گئیں۔ حجاز میں جس کا نجد کے ساتھ دیرینہ جھگڑا چل رہا تھا شریف حسین ایک چھوٹی سی مملکت کا حکمران تھا۔ جب عبدالعزیز ابن سعود کو اطمینان ہو گیا کہ برطانیہ کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ ہو گی تو نجدیوں نے حجاز پر حملہ کر دیا اور سارے جزیرۃ العرب کو اپنے خاندانی حوالہ سے سعودی عرب کا نام دیدیا جو اب تک رائج ہے۔ وہابیت کے فروغ میں نجدیوں کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی کیونکہ ان کی عالم اسلام کے مرکز مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ تک رسائی آسان ہو گئی۔

اب ترکی میں ایک نئی سیاسی صورت حال پیدا ہوئی ۔1934ء میں ترکی رہنما مصطفی کمال اتاتر ک نے عربوں کے معاندانہ رویوں سے تنگ آ کر اور اپنی سلطنتی مصالح کے تحت سلطان محمد کی معزولی کے ساتھ عہدہ خلافت کو بھی ختم کر دیا۔ گو کہ ترک حکمرانوں کے لئے ایک رسمی عہدہ تھا لیکن یہ عالم اسلام کے اتحاد اور آفاقیت کی علامت تھا اور قرن اول کی خلافتوں سے اپنا تسلسل باقی رکھا تھا۔ مسلمانان ہند کے لئے جن کو ترکی میں خلافت سے ایک ذہنی ہم آہنگی تھی ترک حکومت کا یہ فیصلہ ناگوار گزرا اور ترکی میں خلافت کے احیا کے لئے تحریک خلافت کا آغاز کیا۔ لیکن جب اس مہم میں نا کام رہے تو خلافت کمیٹی نے اپنی توجہ حجاز پر مرکوز کر دی جہاں اب عبدالعزیز ابن سعود کی حکومت تھی۔

اکتوبر 1924ء کو مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں تحریک خلافت کمیٹی کی جانب سے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کو ایک تار بھیجا گیا جس میں اس بات پر زور دیاگیا تھا کہ چونکہ حجاز دنیائے اسلام کا مرجع ہے وہاں کوئی انفرادی شاہی قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی جمہوریت قائم ہو جو غیر مسلم اغیار کے اثر سے پاک ہو۔ اس کے جواب میں سلطان ابن سعود نے لکھا کہ حجاز کی حکومت حجازیوں کا حق ہے لیکن عالم اسلام کے جو حقوق حجاز سے متعلق ہیں ان کے لحاظ سے حجاز عالم اسلام کا ہے اور اس ضمن میں یقین دلایا کہ آخر ی فیصلہ دنیائے اسلام کے ہاتھ میں ہو گا۔ یہ تو تاریخ ہی ثابت کریگی کہ اس وعدہ میں کتنی صداقت تھی۔ ( سید محمود الحسن رضوی)

انہدام جنت البقیع

عالمِ اسلام میں افراتفری کے متذکرہ تاریخی عوامل نے عبدالعزیز ابن سعود کو حجاز پر پیش قدمی کا موقع فراہم کر دیا اور تمام یقین دہانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جنوری 1926ء میں سلطان ابن سعود نے حجاز پر اپنی حاکمیت کا اعلان کر دیا۔ وہابیت جو اب ریاستی مذہب بن گئی تھی بزور شمشیر اہل حجاز پر تھوپی جا رہی تھی سعودی حملہ آور جب مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے جنت البقیع اور ہر وہ مسجد جو ان کے راستہ میں آئی منہدم کر دی اور سوائے روضہ نبویﷺ کے کسی قبر پر قبہ باقی نہ رہا۔ آثار ڈھائے گئے اکثر قبروں کی تعویز اور سب کی لوحیں توڑ دی گئیں ۔ انہدام جنت البقیع کی خبر سے عالم اسلام میں رنج و غم کی ایک لہر پھیل گئی ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاجی جلسے کئے اور قراردادیں پاس کیں جس میں سعودی جرائم کی تفصیل دی گئی۔ آنے والے سالوں میں عراق، شام اور مصر سے حج اور دیگر امور کے لئے آنے والوں پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ وہابیت قبول کریں گے ورنہ ان کو نکال دیا جائیگا۔ ہزاروں مسلماں وہابیوں کے مظالم سے تنگ آ کر مکہ اور مدینہ چھوڑ نے پر مجبور ہو گئے۔ مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر سعودی حکمرانوں نے مزارات کی مرمت کی یقین دہانی کی یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔ اس ضمن میں تحریک خلافت کمیٹی کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ مسلکی اختلافات کی وجہ سے خلافت کمیٹی کوئی مضبوط موقف نہیں اختیار کر سکی اور یوں یہ کمیٹی پاش پاش ہو گئی اور یہ معاملہ ختم ہو گیا ۔( سید حسن ریاض، کراچی یونیورسٹی)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنت البقیع کے مزارات کی تعمیر کی تحریک کو جس میں ابتداً شیعہ سنی سب برابر کے شریک تھے وقت گزر نے کے ساتھ گزشتہ 7 دہائیوں یعنی 70 سال میں میں ہمارے سنی بھائیوں نے بھلا دیا اور بالآخر یہ صرف اہل تشیع کی ذمہ داری بن کر رہ گیا ہے۔ اور یوں گزشتہ 70 سال سے ہر سال8 شوال کو ہم یوم انہدام جنت البقیع منا کر اہلیبت (ع) سے مؤدت کا فریضہ اور اجر رسالت ادا کرتے ہیں۔

خلاصہ کلام : ہماری ذمہ داریاں 

جنت البقیع اور عالم اسلام کے حوالے سے ہمیں ایک منظم مہم چلانی ہو گی۔ دنیائے عرب میں مراکش سے عراق تک اور عجم میں ترکی سے انڈونیشیا تک کونسی مملکت ہے جہاں بزرگان دین، سیاستدان اور عامتہ المسلمین کے مزارات مرجع خلائق نہیں ہیں۔ بقیع کوئی عام قبرستان نہیں ہے بلکہ یہاں بلا اختلاف فرقہ ہر مسلمان کے لئے قابل احترام شخصیتیں دفن ہیں۔

انہدام جنت البقیع کے واقعہ کے باوجود، حضرت سرور کائناتﷺ کے روضہ کا وجود خود ایک معجزہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ جنت البقیع کا انہدام کوئی فقہی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی جس کی بنیاد خانوادہ اہلیبت (ع) سے دیرینہ عداوت تھی۔

دنیا میں تمام متمدن اقوام اپنے آبا و اجداد کے آثار کی حفاظت کے انتظامات کرتے ہیں ( آل محمد رزمی)۔ مصر میں اسوان ڈیم بنایا گیا تو اس سے متاثر ہونے والے آثار قدیمہ کے کھنڈرات کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے یونیسکو نے کثیر رقم خر چ کی۔ افغانستان کے شہر بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کی توڑ پھوڑ پر ساری دنیا بشمول توحید پرستوں نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ لیکن ہمارے آزاد میڈیا کے لئے انہدام جنت البقیع کوئی قابل توجہ مسئلہ نہیں ہے۔ آثار قدیمہ کی حفاظت حقوق انسانی کے زمرہ میں آتی ہے ہمیں سر نامہ کلام کی آیت: ”اُدع الیٰ سبیل ربک ”کے رہنما اصول پر عمل کرتے ہوئے جذبات سے بالاتر ہو کر جنت البقیع کی بحالی کے لئے قابلِ عمل پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس کے چند بنیادی خطوط یہ ہیں۔

1۔ بین القوامی تنظیم مثلاً یونیسکو ، عرب لیگ، موتمر عالم اسلامی ، تنظیم اسلامی کانفرنس (OIC ) اور عالمی انسانی

حقوق کمیشن کو متوجہ کیا جائے۔

2۔ اخبارات میں آئے دن اسلام کے حوالے سے جدیدیت کشادہ دلی اور صبر و تحمل کی پالسی اپنانے کی تلقین کی جاتی ہے اس پر

عمل بھی کیا جائے۔

3۔ ماضی کے سیاسی سماجی اور جنگی جرائم پر مواخذہ اعتراف اور معافی اب ایک بین الاقوامی” طریقہ تلافی” کے طور پر

قابل قبول اصول بن گیا ہے اس اصول کا اطلاق انہدام جنت البقیع کے مرتکبین پر بھی کیا جائے۔

4۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمراں اپنے پیشرؤں کے برخلاف ایک روشن خیال رہنما ہیں اور اتحاد عالم اسلام

کے پر جوش حامی ہیں۔ ان سے جرات مندانہ فیصلہ کی اپیل کی جائے۔

5۔ ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام عقیدہ کے سنجیدہ اور انصاف پسند مسلمان بھائیوں کے تعاون سے

سعودی حکمرانوں سے درخواست کی جائے کہ وہ ان مزارات کو خود بنا دیں یا پھر عالم اسلام کو اس کی اجازت

دیے دیں۔ خدا تمام مسلمانوں کی اس کار خیر میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔

حوالے:

١۔ شیعہ نیوز ڈاٹ کام، ویب سائٹ

٢۔ سید علی حیدر نقوی ، ادیان عالم اور اسلام۔

٣۔ علامہ طالب جوہری ، مصمون ، ماہنامہ اصلاح۔٨

٤۔ آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ۔

٥۔ سید محمود الحسن رضوی، مضمون ماہنامہ اصلاح ۔٨

٦۔ سید حسن ریاض، پاکستان نا گزیر تھا۔ کراچی یونیورسٹی۔

٧۔ آل محمد رزمی ۔ مضمون ، ماہنامہ صلاح۔٨

٨۔ استاد جعفر سلمانی۔ آئین وہابیت ، دار الثقافتہ لاسلامیہ کراچی۔ ١٩٨٨ئ

٩۔ ہمفری کے اعترافات ۔ انجمن نوجوانان پاکستان ، گارڈن ٹاؤن ، لاہور

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...