پیر , 10 دسمبر 2018

مہاتیر نے سعویوں کو آئینہ دکھادیا

(تسنیم خیالی)
ملائیشیا کے اقتدار میں سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی واپسی اور پھر سے 92سال کی عمر میں وزیراعظم بننا سعودی عرب کیلئے ایک زور دار جھٹکے سے کم نہیں تھا اور جس چیز کا سعودیوں کو ڈرتھا وہ چیز آخر ہوہی گئی، مہاتیر محمد اور ان کی کابینہ یمن پر جاری سعودی اتحاد سے ملائیشیا کی دستبرداری پر غور کررہے ، ملائیشیا اس اتحاد میں سعودی عرب کی درخواست پر شامل ہوا تھا اور شامل ہونے کا فیصلہ سابق وزیراعظم نجیب عبدالرزاق نے کیا تھا نجیب عبدالرزاق دراصل سعودی نواز شخص تھے اور مشرقی ایشیا کے علاقے میں سعودیوں کے اہم اتحاد ی بھی ، عبدالرزاق نے وہی کرنا ہوتا تھا جو سعودیوں کہتے تھے،

پس سعودیوں کے حکم پر عبدالرزاق نے ملائیشیا کے فوجی دستے یمن جارحیت کے آغاز میں ہی سعودی عرب بھیج دیے جو ابھی تک وہیں موجود ہیں اس وقت عبدالرزاق بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث پائے جانے پر سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ نئی حکومت کی طرف سے چل رہا ہے۔یمن جارحیت میں ملائیشی افواج کے کردار کی بات کی جائے تو اب یہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی کہ یہ فوجی دستے یمن کے اندر کسی بھی فوجی کارروائی میں ملوث ہیں، یہ فوجی سعودی عرب میں متمرکز ہیں۔

اور دفاعی لاجسٹک قسم کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، مگر اب مہاتیر کے نزدیک یہ تماشا ملائیشی فوجیوں کی وطن واپسی کے ساتھ ختم ہوجانا چاہیے، مہاتیر کے نزدیک ملائیشیا کی فوج کو عربوں کے آپسی اختلافات اور جنگوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے علاوہ ازیںمہاتیر کے مطابق یمن ایک اسلامی برادرملک ہے اور اس کے خلاف ملائیشیا کو کسی بھی قسم کی کارروائی یا جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

ملائیشیا کے اس موقف کے بارے میں ملائیشی وزیر دفاع ’’محمد سابو‘‘ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو عرب ممالک کےباہمی جھگڑے میں کوئی دلچسپی نہیں اور ناہی حکومت کو یمن جیسے اسلامی ملک کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کا حصہ بنے رہنے میں دلچسپی ہے، سابو کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ملائیشیا کی حکومت سعودی اتحاد سے دستبردار ہونے پر زیادہ دیر غور نہیں کرے گی اور بہت جلد اپنے فوجی دستوں کو واپس آنے کا حکم جاری کردے گی، ایسا کرنے پر مہاتیرایک ذمہ دار ، امن پسند اور انتہائی عقلمند شخصیت کے طور پر نمایاں ہوں گے،

سعودی عرب کا یہ اتحاد انتہائی کمزور ثابت ہورہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شامل ممالک یکے بعد دیگرے اتحاد کو خیر باد کہہ رہے ہیں یا کہنے پر غور کررہے ہیں ، قطر پہلے سے ہی اتحاد سے نکل چکا ہے، ملائیشیا اب نکلنے جارہا ہے ، سوڈان نکلنے پر غور کررہا ہے اور وہاں کی حکومت پر پارلیمنٹ اور عوام کی طرف دبائو بڑھتا جارہا ہے علاوہ ازین مراکش بھی اس اتحاد کو خیر باد کہنے پر غور کررہا ہے اور قوی امکان ہے کہ کسی بھی وقت مراکش کی طرف سے یہ اعلان کردیا جائے، سعودی اتحاد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ اس اتحاد میں صرف سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور چند دیگر ممالک رہ جائیں گے،

باقی واپسی کی راہ اختیار کریں گے جو کہ سعودیوں بالخصوص شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان کے منہ پر زوردار طمانچے کے مترادف ہوگا جو یمن میں نہتے شہریوں، چھوٹے بچوں اور خواتین کے قاتل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...