جمعرات , 19 جولائی 2018

بن سلمان کے وژن 2030 پرایک نظر

(تسنیم خیالی)

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جب 21جون 2017ء میں اپنے اس منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے’’وژن 2030‘‘ کے نام سے سعودی عرب میں انقلابی اور فقیدالمثل ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ایک منصوبے کا اعلان کیا، منصوبے میں تمام قسم کے پہلو خواہ وہ سیاسی ہو، اقتصادی ہو، سماجی ہو یاپھر ثقافتی سبھی کوشامل کیا گیا، اب بن سلمان کو ولی عہد بنےایک سال مکمل ہوچکا ہے، اسی طرح وژن 2030 کے اعلان کو بھی ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بن سلمان نے وژن 2030 کے متعلق کیا کیا ہے،وژن 2030 کے متعلق اقدامات دراصل دو حصو ں پر مشتمل ہیں ایک حصہ بیرونی اور دوسرا ندرونی۔

بیرونی اقدامات کی بات کی جائے تو سب سے پہلے بن سلمان نے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا جوآج بھی جاری ہے، اس جارحیت نے یمن کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کردیا، اس اقدام کے بعد سعودی عرب نے اپنے پڑوسی ملک قطر کے بائیکاٹ کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے، اپنے اس وژن کے تحت بن سلمان نے اسرائیل کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کوترجیح دی جبکہ مظلوم فلسطینیوں کو فراموش کردیا، بن سلمان نے بیرونی طور پر ایک اور اقدام کرتے ہوئے مکمل طور پر سعودی عرب کو امریکہ کا تابع بنادیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے سعودی خزانے سے سینکڑوں ارب ڈالر وصول کیے،

اندرونی طور پر بھی بن سلمان نے اپنے وژن کو لے کر کئی اقدامات کیے، سب سے پہلے انہوں نے مذہبی سکالرز، مفکرین، کاروباری شخصیات اور حتیٰ کہ حکمران خاندان آل سعود کے کئی افراد (جو بن سلمان کے قریبی رشتہ دار ہیں) کو گرفتار کرکے قیدی بنایا اور ان کی آزادی کے بدلے اربوں ڈالر انہی سے وصول کیے۔اندرونی طور پر بن سلمان نے اپنے وژن کو چار چاند لگانے کیلئے خواتین کو مزید حقوق دینے کا اعلان کیا جیسا کہ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی البتہ دوسری جانب بن سلمان نے حال ہی میں متعدد خواتین کو گرفتار بھی کیا،

جنکا یہ ماننا ہے کہ خواتین کواب بھی مزید حقوق ملنے چاہیے اور اب تک جو کیا گیا وہ خواتین کیلئے بہت کم ہے، بن سلمان کے وژن 2030 میں انٹرٹینمنٹ کے شعبے کو کافی اہمیت دی جاری ہے جس کے تحت بن سلمان نے سعودی عرب میں سینما گھروں پر عائد پابندی ہٹادی، علاوہ ازین ملک میں میوزیکل کنسرٹ، ماڈلنگ شوز، اور رقص کے پروگرامز کی اجازت دے دی گئی، دیکھا جائے تو بن سلمان نے اپنے وژن میں جتنے بھی اقدامات اٹھائے ہیں خواہ وہ بیرونی ہوں یا پھر اندرونی، سبھی بے تکے اور سعودی عرب کے پہلے سے مسخ شدہ چہرے کو مزید بھیانک بنادیا ہے، اپنے اس وژن کیلئے بن سلمان اسلامی اقدار،

عرب ثقافت اور اصولوں کو فراموش تو دور کی بات ان سب کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے اور اب تک ان قدامات سے سعودی عرب کو کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ نقصان کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی فوجی وفد کا دورہ پاکستان، داعش کا سدباب ہو سکے گا؟؟

(تحریر: ابو فجر لاہوری) ایران کے ایک اعلیٰ عسکری وفد نے آرمی چیف جنرل قمر ...