بدھ , 26 ستمبر 2018

یمن میں انسانیت لہولہان اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

( محمد حسن جمالی)

اسلام کی نظر میں حقیقی مسلمان وہ ہے، جو فقط اپنے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ مسلمانان جہاں کے بارے میں فکرمند رہتا ہے، وہ اس وقت تک سکون محسوس نہیں کرتا، جب تک سارے مسلمان امن اور سکون کے گہوارے میں نہ ہوں، وہ دوسرے مسلمانوں کی خوشی، غمی، دکھ اور درد میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے غافل رہنے کی اجازت نہیں دی ہے، اس نے مسلمانوں کو جسم واحد قرار دیا ہے، جس طرح جسم کے کسی ایک حصے میں درد ہو تو انسان پورے اعضاء بدن میں درد محسوس کرتا ہے، ویسے ہی دنیا کے جس گوشہ و کنار میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو، اسلامی تعلیمات کے مطابق ضروری ہے کہ دوسرے مسلمان اسے اپنے اوپر ہونے والے مظالم سمجھ کر ان کی نصرت کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کریں۔ یہاں تک کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد (ص) نے واضح طور پر کھلے الفاظ میں فرمایا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں، نیز فرمایا اگر کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کے لئے پکارے، لیکن وہ لیت و لعل اور اگر مگر سے کام لیتے ہوئے اس کی مدد نہ کریں تو وہ مسلمان نہیں۔

آج کرہ ارض پر یوں تو جگہ جگہ مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن امریکہ و إسرائيل اور ان کے نوکر آل سعود آل یہود کائنات میں مسلمانوں کا گھیرا تنگ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس ہدف کی تکمیل کے لئے انہوں نے یہ نقشہ کھینچ رکھا ہے کہ پہلے تلوار اور بندوق دکھا کر مسلمانوں کو خوفزدہ کریں، انہیں خوب ڈرا، دھمکا کر اپنا غلام مطلق بنائیں، پھر ان کے ملکوں کے منابع دونوں ہاتھوں سے لوٹیں، ان کی دولت سے عیاشی کریں۔ چنانچہ بہت سارے ممالک میں اسلام دشمن قوتیں اپنے اس مزموم غیر انسانی ہدف میں کامیاب ہوئیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج اکثر اسلامی ممالک امریکہ و إسرائيل کی غلامی پر افتخار کرتے نہیں تھکتے اور ایسے ملکوں میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان ذلت، حقارت اور فقر و تنگدستی میں اپنی زندگی کے لمحات گزارنے پر مجبور ہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے پہلے مسلمانان جہاں مغربی طاقتوں کے سامنے سرتسلیم خم رہنے کو اپنی تقدیر سمجھتے تھے، ان کا یہ پکا عقیدہ بنا ہوا تھا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے مقابلہ کرکے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا حماقت کی علامت ہے۔ وہ امریکہ کی غلامی سے نجات پاکر استقلال اور آزادی سے زندگی کزارنے کو ایک ناممکن امر سمجھتے تھے، لیکن زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی عظیم علمی شخصیت امام خمینی (رہ) نے ایران کی سرزمین پر امریکہ کے پٹھو رضا شاہ کی طاقتور حکومت کا تختہ الٹ کر دنیا کے مجبور و مقہور مسلمانوں کو یہ ثابت کر دکھایا کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی ذات ہے، جس نے دنیا کی ساری طاقتوں کو وجود بخشا ہے، اس کی طاقت کے سامنے دنیا کی طاقتوں کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انقلاب اسلامی دنیا کی مظلوم اقوام کی بیداری کے لیے منارہ نور ثابت ہوا۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کی بدولت انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ اگر ہم اللہ کی طاقت پر بھروسہ کرکے میدان میں استقامت کا مظاہرہ کریں تو کامیابی ہمارا مقدر بن کے رہے گی۔

اسلامی انقلاب سے بہت سارے اسلامی ممالک میں بیداری آئی، جس سے الہام لیتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ انہوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے میدان میں نکل کر جدوجہد کی اور اس راہ میں موجود موانع کا پوری جوانمردی سے مقابلہ کیا اور کر رہے ہیں، جس کی مثال بحرین، یمن، شام اور فلسطین میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، ان ملکوں میں مسلمان بیدار ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مسلم بیداری انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے مسلسل پھیلتی جا رہی ہے، جسے سپر طاقت کے مدعی امریکہ و إسرائيل اپنے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اس کے سدباب کے لیے وہ بھاری مقدار میں سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔ امریکہ نے کافی سرمایہ خرچ کرکے داعش کے نام سے دنیا کے وحشی صفت انسان نما درندوں کو جمع کیا، انہیں مکمل طور پر جنگی اور درندگی کی تعلیم دلوائی، انہیں باقاعدہ منظم طریقے سے ٹریننگ کے مراحل سے گزارا، پھر اسلحے سے انہیں لیس کرکے ان تمام ملکوں میں روانہ کر دیا گیا، جن میں مسلم بیداری عروج پا رہی تھی، لیکن پوری دنیا کے علم میں ہے کہ ہر جگہ داعش کو کمر شکن شکست ملی، جس سے امریکہ و إسرائيل کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے، لیکن شیاطین نے اس سے عبرت لینے کے بجائے اپنی شیطانی طاقتوں کو یکجا کرکے ایک بار پھر گذشتہ تین سالوں سے آل سعود آل یہود کے ذریعے یمن کے مظلوم مسلمانوں پر مسلط کردہ جنگ کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس وقت یمن کے مسلمان آل سعود کی بربریت اور آتش ستم میں جل رہے ہیں۔ وہ انسانی بنيادی ضروریات جیسے پانی، خوراک، ادویات، بجلی سے محروم ہوکر زندگی اور موت کے درمیان سانس لے رہے ہیں۔ یمن کی ستر فیصد آبادی امداد پر زندہ ہے، جس کی ترسیل کا اہم راستہ الحدیدہ ہے، مگر اس وقت آل سعود، امریکہ و إسرائيل کے اشارے سے اس امدادی راہ کو بھی منقطع کرنے کے لئے الحدیدہ جیسی اہم بندرگاہ پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اسے نشانہ بناکر مسلسل میزائل داغے جا رہے ہیں، جس سے یمن کی سرزمین پر انسانیت لہولہاں ہے، ہزاروں لوگ شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، بہت سارے مقامات کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں، بے شمار گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ہزاروں بچے یتیم اور ہزاروں عورتیں بیوہ و بے سرپرست ہوچکی ہیں۔ تین سال سے یمنیوں کے کاروبار اور معیشتی فعالیت معطل ہے، جس کی وجہ سے ان کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور انتہائی بے سروسامانی و کسمپرسی کی حالت میں یمنی مسلمان مرد، عورت اور بچے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

تین سالوں سے یمنی مظلوم مسلمان حالت جنگ میں ضرور ہیں، لیکن ایمانی طاقت کے بل بوتے پر وہ مایوسی کا شکار ہوئے بغیر میدان میں استقامت دکھا رہے ہیں، آل سعود کے وحشی درندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس بات میں شک نہیں کہ جلد ان کی استقامت رنگ لائے گی اور انصار اللہ یمن نوکر آل سعود اور اس کے مددگاروں کو یمن میں بھی تاریخی شکست سے دوچار کراکے سوگ کی نیند میں سلاکر ہی دم لیں گے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کے حوالے سے مسلمانان جہاں کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا مسلمانوں کو مسئلہ یمن پر خاموش تماشائی بنے رہنا چاہیے یا اس حوالے سے ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب بالکل واضح ہے کہ یمنی مسلمانوں پر آل سعود کفار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مظالم کے پہاڑ گرائے جا رہے ہیں۔ بلاشبہ آل سعود ظالم اور یمنی مسلمان مظلوم ہیں اور ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت کرنا ضروری ہے۔ پس مسلمانان جہاں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی طاقت و توان کے مطابق یمنی مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں۔ وہ جس شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، یمن کے مسلمان بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دیں، کیونکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ظالم سے نفرت اور مظلوم کی نصرت کرنا ضروری ہے۔

اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سارے مسلمان یمن جاکر یمنی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ظالم سعودی کے درندوں سے مقابلہ تو نہیں کرسکتے تو وہ کیسے اور کس طرح ان کی مدد و حمایت کرسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مظلوم کی نصرت اور حمایت فقط یمن میں جاکر یمنی مسلمانوں کے ساتھ ملکر جہاد کرنے میں منحصر نہیں ہے بلکہ مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی رہتے ہوں، وہ اپنی صلاحیت کو ان مظلوموں کی حمایت میں استعمال کرکے ان کی حمایت کرسکتے ہیں۔ اگر آپ خطیب یا امام جمعہ ہیں تو آپ اپنے خطبے میں آل سعود کی مذمت اور یمنی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی و ہمدردی کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔ اگر آپ اہل قلم ہیں تو اپنی قلمی تلوار سے زیادہ موثر طاقت کو آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف استعمال کریں اور یمن کے مسلمانوں کی مظلومیت کے بارے میں لکھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ اگر آپ سماجی شخصیات ہیں تو ترجیحی بنیاد پر معاشرے کے افراد کو یمن کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں۔ اگر آپ کا تعلق تحقیقی میدان سے ہے تو یمن کی موجودہ صورتحال کو اپنی تحقیق کا موضوع بنائیں اور یمن کے مسلمانوں پر آل سعود کی طرف سے ہونے والی جارحیت، ظلم و بربریت کے اسباب وعلل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں۔

اگر آپ میڈیا سے وابستہ ہیں تو مسئلہ یمن کو میڈیا پر اٹھائیں اور اس مسئلے کے حوالے سے دنیا کو تفصیل سے بتائیں۔ اگر آپ ان میں کوئی ایک بھی نہیں تو سوشل میڈیا، فیس بک، واٹس ایپ، ٹیوٹر وغیرہ بھی اہل یمن کی مظلومیت اور آل سعود کا منحوس و مکروہ ظالمانہ چہرہ دنیا والوں کے سامنے نمایاں کرسکتے ہیں۔ ہمیشہ کے لئے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دوسروں کے لئے دل میں دکھ درد رکھنا ہی انسانیت کی نشانی ہے۔ اگر سینے میں دل اور دل میں درد ہے تو آو ملکر رنگ، نسل فرقہ، علاقہ، زبان کے تعصبات سے بالاتر ہوکر یمن کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں سوشل میڈیا پر مہم چلا کر دنیا کے میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہیں، کیونکہ یمن میں انسانیت لہولہاں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...