جمعرات , 19 جولائی 2018

آپ بھلے لے آئیں شہباز یا عمران کو

( وسعت اللہ خان )
ووٹر یا اسٹیبلشمنٹ تو عمران نواز یا نواز شریف نواز ہوسکتے ہیں مگر مسائل غیر سیاسی ہوتے ہیں، ہمیشہ جوڑی میں آتے ہیں اور حل ہوئے بغیر دفعان نہیں ہوتے۔ مسائل کو نہ تقریروں سے کوئی دلچسپی ہے، نہ کسی نظریے سے دلبستگی، نہ کسی منشور سے آنکھ مٹکا، نہ سہانے خوابوں سے فلرٹ کی عادت اور نہ ہی وعدہِ فردا سے خواہشِ وصل۔ مسائل تو نقد آتے ہیں اور ادھار پر ٹالا جائے تو بوٹی کے بدلے بکرا لے کر ٹلتے ہیں۔پاکستان میں آج تک شاید ہی کوئی جمہوری و غیر جمہوری، وردیانہ یا سفید پوش سرکار آئی ہو جس نے آتے ہی نوید نہ سنائی ہو کہ جب ہمیں اقتدار ملا تو خزانہ خالی تھا اور جب ہم رخصت ہو رہے ہیں تو بھرا خزانہ چھوڑ ے جا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی رخصتی کے صرف نوے دن کے اندر اندر پانچ برس سے بھرے خزانے کو ایسی کیا موت پڑ جاتی ہے کہ جیسے ہی نیا وزیرِ اعظم خزانے کے گودام میں قدم رکھتا ہے تواندرجھاڑو پھری ہوتی ہے۔ بائیں جانب سے بین الاقوامی قرض خواہ کا بھوت دھم سے آن کھڑا ہوتا ہے ” ہا ہا ہا ہا کہاں ہے میری اگلی قسط ”، چھت سے لٹکی امپورٹ نامی چڑیل چیختی ہوئی کود پڑتی ہے ” ہی ہی ہی ہی میں کب ایکسپورٹ بنوں گی ”، لوڈشیڈنگ کا جن دانت نکوستے ہوئے کشکول آگے بڑھا دیتا ہے ” ہوہا ہو ہا سرکولر ڈیٹ بے باق کرتا ہے یا تجھ پر بھی اندھیرے چھوڑوں”، کرنسی ٹانگوں سے لپٹ جاتی ہے ”نہیں چھوڑوں کی تجھے کم بخت جب تک تو مجھے ڈالر کے گڑھے سے نہیں نکالتا ‘‘۔

غرض مسائل نئی نویلی حکومت کے دولہاِ اعظم کو یوں گھیرتے ہیں جیسے شکرانے کی چادر چڑھائی کے بعد مزار سے نکلنے والے زائر کو پیشہ ور بھکاری۔مسئلہ دراصل اقتدار ملنے کے بعد نہیں بلکہ انتخاب جیتنے سے بھی پہلے سے شروع ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں یہ رواج تو ہے نہیں کہ جانے والی حکومت بند کمرے میں تمام ممکنہ وزرائے اعظم کو جمع کر کے ایک ایماندارانہ بریفنگ دے کہ بھائیو ہم آئے تو داخلہ، خارجہ اور معاشی کھاتہ یہ یہ ملا، فلاں فلاں مسائل کلی یا جزوی حل ہوئے اور یہ یہ مسائل حل نہیں ہو سکے اور یہ یہ مسائل نئے ہیں جنھیں ہم آپ کے لیے چھوڑ ے جا رہے ہیں۔ اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو۔

چنانچہ اقتدار کی دوڑ میں حصہ لینے والے ہر قابل ِ ذکر کھلاڑی بریفنگ کا خلا علمِ نجوم، زائچہ جات اور خوابوں سے بھرنے کی کوشش میں ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ہر وہ اوچھا اور غیر اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرتا ہے جس سے ووٹ کی پرچی پٹ جائے اور نکاح ہو جائے۔ اور جب جیت کے نشے سے چور انتخابی سہاگ رات کے بعد علی الصبح کوئی سنگین بدتمیز مسئلہ کواڑ پر دستک دیتا ہے تونشہ ہرن ہونے لگتا ہے، موڈ پر اوس پڑتی چلی جاتی ہے۔وزارتِ عظمیٰ کاجوامیدوارپولنگ سے پہلے مسکراہٹ کا ماسک سوتے میں بھی چہرے سے نہ اتارتا تھا، حلف اٹھاتے ہی کہانی کا اصل رخ جب اس پے آہستہ آہستہ کھلنے لگتا ہے تو پھر دکھ، بے بسی،

جیت کا راستہ ہموار کرنے والوں کے نہ ختم ہونے والے مطالبات اور ووٹر کی پرامید نگاہیں لیڈر کی قبل از جیت مسکراہٹ کے ماسک میں دراڑیں اور جھریاں ڈالنے لگتے ہیں۔کہاں قبل از جیت کے یہ دعوے کہ ہم اقتدار میں آتے ہی پہلے سو دن میں سڑکیں شیشے کی، آسمان سونے کا، گھر چاندی کے بنا دیں گے، کوئی اہل یا پڑھا لکھا مزید بے روزگاری نہیں بھوگے گا، غیر ملکی قرضے کا کشکول قرض دینے والے کے منہ پر دے ماریں گے، ایسی انقلابی حکمتِ عملی متعارف کروائیں گے کہ ہماری برآمدات درآمدات سے دوگنی ہو جائیں، پاکستان کو پانچ برس میں ایشین ٹائیگر بنا دیں گے، ایسا اقتصادی چمتکار ہوگا کہ روپے کی قیمت ایک ڈالر کے برابر آ جائے گی،

سمندر کے کنارے کھارے پانی کو میٹھا کرنے والے اتنے پلانٹ لگائیں گے کہ ہمسایہ ممالک کو بھی یہ پانی ایکسپورٹ کریں گے، اتنے روزگاری مواقع پیدا ہوں گے کہ نوجوان یورپ کی طرف جانا ہی ترک کر دیں الٹا روزگار کے متلاشی گورے ہمارے سفارتخانوں کے باہر قطار بنائیں گے، سب بچے اسکول جانا شروع کر دیں گے، سب کی ہیلتھ انشورنس ہو گی اور بائی پاس سے کینسر تک ہر علاج ہیلتھ کارڈ پر مفت ہوگا۔اور پھر پھولوں کے بدلے ووٹر کو وعدوں کے ہار پہنا کر جب ہمارا دائیں یا بائیں بازو کا لیڈر حلف اٹھا لیتا ہے اور ہر محکمے کا سیکریٹری اسے ہر شعبے کی اصلی باتصویر بریفنگ دیتا ہے تو ارمانوں کے طوطے جھنڈ کی شکل میں اڑنے لگتے ہیں۔ یور ایکسیلینسی! قرض کی قسط اتنی، دفاعی اخراجات جتنے، انتظامی اخراجات وتنے اور ترقیاتی بجٹ کدو۔ ۔ ۔

مگر لیڈر تو لیڈر ہے۔ نہ وہ کھل کے اندر کے احوال کا اعتراف کر سکتا ہے، نہ ووٹروں کو حقائق بتا سکتا ہے اور نہ ہی مایوس کر سکتا ہے۔ بس اتنی تبدیلی آتی ہے کہ جیتنے سے پہلے کے خوابناک بیانات کی جگہ قدرے سنجیدہ اور احتیاطی لہجہ اپنا لیا جاتا ہے۔ دیکھئے ہم سب وعدے آپ کے تعاون سے پورے کریں گے۔ پچھلی حکومت نے جو مسائل ورثے میں چھوڑے انھیں سمیٹنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہم کڑی چھان بین کریں گے کہ خزانہ خالی کیوں ہے، ہم لوٹی دولت واپس لائیں گے تاکہ آپ سے کیے گئے وعدے پورے ہو سکیں۔ جہاں آپ نے اتنا صبر کیا ہے وہاں کچھ اور دن سہی۔ آپ نے ہم پر جو اعتماد کیا ہم اسے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے مگر ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ ستر برس میں جمع ہونے والے مسائل راتوں رات حل ہوجائیں۔

البتہ اگلے پانچ برس میں اس ملک کو ایک ایسی سمت ضرور دینے کی کوشش کریں گے کہ اس کے بعد آنے والے پانچ برس کے لیے اگر آپ نے اسی طرح ہمارا ساتھ دیا تو انشاء اللہ تعالی دس سال بعد پاکستان میں کوئی شخص رات کو بھوکا نہیں سوئے گا، کوئی ماں دورانِ زچگی نہیں مرے گی، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرحِ اموات ہم زیرو پر لے آئیں گے، غیر ملکی قرضے کی پائی پائی واپس کر دی جائے گی۔ کوئی بچہ ناخواندہ نہیں ملے گا، کوئی بیرونی دشمن بلا بلو بلم بلوگ بنا بھشو پھمن گلو فٹا فٹی نفو بکو پھٹو جپھا جپھم پھٹاک۔اب آپ لے آئیں عمران خان کو یا شہباز شریف کو یا آصف زرداری کو یا کسی کو بھی اگلے پانچ برس کے لیے بے دھڑک، بن داس۔ ۔ ۔

(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...