بدھ , 26 ستمبر 2018

عرب حکمران اپنے تخت و تاج کو بچانے کیلئے ایران مخالف امریکہ و صیہونی شیطانی مثلث میں شامل ہوئے ہیں

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی اردو خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے  انٹرویو میں قطر یونیورسٹی کے ایک معروف پروفیسر ’’علی الحیل‘‘نے کہا کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر اپنے تخت وتاج کو بچانے کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شیطان بزرگ امریکہ اور صیہونی رژیم میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ترکی اور ایران جیسے عالم اسلام کے اہم ترین ممالک قطر کے دوست اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ اسرائیل، عرب دنیا اور اسلام کا ازلی اور سب سے بڑا دشمن ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جیسی رجعتی حکومت کو قطر کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قطر اسلامی جمہوریہ ایران کو دشمن نہیں بلکہ اپنا دوست سمجھتا ہے ہمارا اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کا دشمن اسرائیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا دشمن اور حماس کو دہشتگرد تنظیم قرار دیکر امریکہ و اسرائیل کی اسلام دشمن پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا تاریخی ہمسایہ ہے عالم اسلام کے اس طاقتور ترین ملک کے ساتھ ہمارے گہرے اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر قابض صیہونیوں کے خلاف ہر طرح کی مقاومت کی حمایت کر رہا ہے دوحہ غزہ کی مختلف طریقوں سے حمایت جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ پٹی گذشتہ کئی سالوں سے صیہونی دشمن اور مصر کے ظالمانہ محاصرے کا شکار ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ السیسی کی کٹھ پتلی حکومت فلسطینیوں کے خلاف صیہونی رژیم کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے جبکہ قطر کا فلسطینیوں سے متعلق مؤقف اٹل ہے ہمارا ماننا ہے کہ فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے اور اس قبضے سے خود کو آزاد کرانے کیلئے فلسطینی قوم کی جدوجہد آزادی کی ہر طرح کی حمایت ضروری ہے۔

بحوالہ نیوز نور

یہ بھی دیکھیں

عراق میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد کا حشدالشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں گذشتہ چند ماہ کے دوران عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کا ...