منگل , 17 جولائی 2018

انسان کسے کہتے ہیں؟

(نذر حافی)

ہر کسی کی اپنی مصلحتیں ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت زار دیکھیں، سرکاری ہسپتالوں پر نگاہ ڈالیں، تھانے کچہریوں کی صورتحال کا جائزہ لیں، بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالیں، یمن پر ہونے والی بمباری پر لب کھولیں، آپ کو ہر طرف ایک طبقہ ملے گا، جو خاموش خاموش کا راگ الاپ رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں سے ایک لکھاری کا کیا کام، بس چلتی کا نام گاڑی ہے، لہذا چلنے دو، اگر آپ نے اس مسئلے کو اٹھایا تو گویا آپ ملکی اداروں کے خلاف ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے صحافیوں کا کیا تعلق!؟ جو ہو رہا ہے، اسے ہونے دیں، باقی کونسا ادارہ ٹھیک چل رہا ہے۔ تھانوں اور کچہریوں کے معمولات سے کون آگاہ نہیں، لہذا یہ کوئی نئی بات نہیں، اس سے میڈیا کا کیا واسطہ، بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا کیا کردار ہے!؟ اس سوال کو کریدنے والے اپنے کردار کو چیک کریں اور پاکستان کی جان چھوڑیں، ایسے سوالات تو ریٹنگ بڑھانے کے لئے کئے جاتے ہیں، یمن پر بمباری ہو رہی ہے تو کیا دنیا میں یہ کوئی پہلی بمباری ہے، خواہ مخواہ اس مسئلے کو اچھالنے کا کیا فائدہ!

ہم مصلحتوں کے حصار میں، مسلکوں کی طرفداری میں، ملکوں کی جنگوں میں، فرقوں کی تقسیم میں اس طرح اندھے ہو چکے ہیں کہ ہمارے سامنے جو بھی ظلم ہو، ہم اسے ظلم ہی نہیں سمجھتے بلکہ ظلم کے خلاف بولنے والے کو حسبِ توفیق ڈراتے اور دھمکاتے بھی ہیں۔ ہم نے انصاف کو اپنے ہاتھوں سے دے دیا ہے، ہم نے عدل کو نایاب بنا دیا ہے، ہم نے مساوات کو کھو دیا ہے اور ہم نے حق اور سچ کو جھٹلا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی گوالا دودھ میں صرف پانی، مٹی اور گارا ہی نہیں ملاتا بلکہ مکمل دودھ ہی کیمیکلز سے تیار کرکے فروخت کیا جاتا ہے، ہسپتالوں میں صرف ڈاکٹر ہی گردے نکال کر نہیں بیچ دیتے بلکہ دوائیاں بھی دو نمبر فروخت ہوتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں صرف کرایوں کی مد میں ہیرا پھیری نہیں کی جاتی بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی مشینری خود چیخ چیخ کر اپنی حالت کا نوحہ سنا رہی ہوتی ہے۔ ہمارا قومی کردار بین الاقوامی برادری پر اثرانداز ہوتا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر ہم بحیثیت قوم کیسے جانے اور پہچانے جاتے ہیں، اس کا اندازہ تب ہوتا ہے، جب کسی ائیر پورٹ پر ہمارے کسی حکمران کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔

یاد رکھئے! انسان کو جب تکلیف ہوتی ہے تو وہ بولتا ہے، درد کا اظہار انسان کی زندگی کی علامت ہے۔ جس طرح بدن کے کسی حصے میں کوئی زخم یا پھوڑا ہو اور اس میں درد نہ ہو تو یہ کینسر اور لاعلاج مرض ہونے کی علامت ہے، اسی طرح اگر سماج میں برائیاں ہوں، مسائل ہوں، مشکلات ہوں اور لوگ خاموش ہوکر سب کچھ برداشت کرتے جائیں تو ایسے مسائل اور مشکلات لا علاج ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو مسائل کے حل کے لئے عوام کی آواز بننے کے بجائے عوام کو خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ شعوری یا لاشعوری طور پر سماج دشمن عناصر کے آلہ کار ہوتے ہیں اور جو سماج دشمن ہو، اسے انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔ انسانیت، ہر ظلم کے خلاف بولنے، ہر ظالم کے ساتھ الجھنے اور ہر فرعون کے ساتھ ٹکرانے کا نام ہے۔ جو قومیں ظالموں سے الجھ جاتی ہیں اور فرعونوں سے ٹکرا جاتی ہیں، وہ وقتی طور پر مغلوب بھی ہو جائیں، بالآخر فتح انہیں ہی نصیب ہوتی ہے۔

ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے سے اس ملک کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا نقصان سماجی و بین الاقوامی مسائل پر قلمکاروں کے قلم روک دینے سے ہوتا ہے۔ یہ بڑے شرم اور دکھ کی بات ہے کہ اس وقت یمن میں انسانی ہلاکتیں زوروں پر ہیں اور پاکستانی قلمکار خاموش ہیں، کیا میاں عبدالرزاق اور ذیشان اشرف بٹ جیسے شہید صحافی دوستوں سے وفاداری کا یہی چلن ہے!؟ کیا یمن میں کوئی انسان نہیں رہتا یا ہم میں انسانی ہمدردی کی جگہ مصلحتوں نے لے لی ہے!؟ کیا انسان صرف وہی ہے، جو امریکہ و مغرب کی تابعداری کرے؟ کیا خوددار اور غیرت مند قوموں کو اب ہمارے ہاں بھی انسان نہیں سمجھا جاتا!؟ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر کسی کی اپنی مصلحتیں ہیں، لہذا یمن پر خاموش ہی رہیئے، اگر کوئی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کہیں بات کرے بھی تو فوراً بالکل بھولے بادشاہ بن جایئے اور بچوں کی طرح پوچھئے! بھائی میرے یمن کہاں واقع ہے؟ اور یہ انسان انسان کی کیا رٹ لگا رکھی ہے، یہ انسان کیا ہوتا ہے؟ میں کچھ بھول سا رہا ہوں کہ یہ انسان کسے کہتے ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

کیا ایران میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی طاقت ہے؟؟؟

ایران کی تیل برآمد کو صفر تک پہنچانے کی امریکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ...