پیر , 16 جولائی 2018

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو فوجی اتحاد

(سید رحیم نعمتی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے دن سے ہی نارتھ ایٹلنٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یا نیٹو کے بارے میں اچھا موقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے وائٹ ہاوس میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ یہ فوجی اتحاد ابھی پرانا ہو چکا ہے اور امریکہ اس میں باقی رہ کر اس کے بجٹ کی فراہمی اور رکن ممالک کی سکیورٹی کیلئے مزید اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ اگرچہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس بارے میں کم بات کی ہے اور یہی بات نیٹو کے رکن ممالک کیلئے اس معاہدے کے باقی رہنے کیلئے امید کا باعث بنی ہے لیکن حال ہی میں ان کی جانب سے نیٹو کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ان کا موقف زیادہ سنجیدگی سے سامنے آیا ہے۔ یہ خط ایسے وقت لکھا گیا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک سربراہی اجلاس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ نیٹو کے رکن ممالک اس خط کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شدید ٹکراو کی توقع رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض سربراہان مملکت گذشتہ ماہ جی 7 اجلاس میں ٹرمپ سے ٹکراو کا تجربہ کر چکے ہیں۔

اس شدید ٹکراو کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خط میں جرمنی کی صدر انگیلا مرکل کو مخاطب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: "انگیلا مرکل، میں اب مزید تمہارا اور جرمنی کا دفاع نہیں کر سکتا۔ سب کو مساوی طور پر اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے۔” ٹرمپ نے ایسے وقت یہ حقارت آمیز لہجہ استعمال کیا ہے جب انگیلا مرکل نے گذشتہ ہفتے ہی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران نیٹو کا بجٹ بڑھانے کے حق میں بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ شام، افغانستان اور مشرقی یوکرائن میں بحرانی صورتحال کے تناظر میں نیٹو کے فوجی بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اسی تناظر میں جرمنی نے آئندہ برس اپنے دفاعی بجٹ میں چار ارب یورو کا اضافہ کرتے ہوئے 90.42 ارب یورو کا بجٹ پیش کیا ہے۔ جرمنی کے فوجی بجٹ میں اس اضافے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ راضی نہیں ہوئے اور جرمنی سے یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اس نے 2014ء کے معاہدے میں یہ عہد کیا تھا کہ نیٹو کو دی جانے والی اپنی امداد میں اضافہ کرے گا لیکن اس پر عمل پیرا نہیں ہوا۔ امریکی صدر کہتے ہیں کہ جرمنی کے اس اقدام نے نیٹو کی سکیورٹی کو دھچکہ پہنچایا ہے کیونکہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک جرمنی کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہیں جس کے باعث وہ بھی اپنے وعدوں پر عمل کرنا چھوڑ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے بھی کینیڈا، بیلجیم اور ناروے کے حکام کو خط لکھ چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا واحد مسئلہ جرمنی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی ہیں اور صدارتی مہم سے پہلے انہوں نے نیٹو کے بارے میں جو کچھ کہا تھا اب اس پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف یورپی ممالک کی جانب سے 2014ء معاہدے کے تحت نیٹو کے بجٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جس سے یہ احتمال مزید قوی ہو جاتا ہے کہ امریکہ نیٹو فوجی اتحاد ترک کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپی ممالک اپنی معیشتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نیٹو کو دیئے جانے والا بجٹ بڑھانے کا فیصلہ کریں گے۔ یورپی ممالک میں جرمنی ایسا ملک ہے جس کی معیشت سب سے زیادہ طاقتور تصور کی جاتی ہے۔ جرمنی نے بھی 2025ء تک نیٹو کو دی جانے والی مالی امداد میں صرف ڈیڑھ فیصد اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس قدر اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہیں کیونکہ امریکہ اس وقت نیٹو کا دو تہائی بجٹ یعنی 686 ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ مستقبل قریب میں 28 یورپی ممالک کی سربراہی کانفرنس میں کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاموشی اختیار کریں گے۔ اسی طرح نیٹو کے سیکرٹری جنرل استولٹن برگ نے تین ہفتے پہلے برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا تھا: "کوئی اس بات کی گارنٹی فراہم نہیں کر سکتا کہ دو طرفہ نیٹو فوجی اتحاد ہمیشہ کیلئے باقی رہے گا۔”

یہ بھی دیکھیں

یہ کیسا امریکی مہمان تھا؟

(آصف جیلانی) بلا شبہ برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے اپنے آپ کو کوستی ہوں گی ...