بدھ , 26 ستمبر 2018

سپرپاور کا سفینہ ڈوبنے کا وقت آن پہنچا ؟

(عامر رضا گجر)
امریکہ کے منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد سے اب تک ٹرمپ نے جو فیصلے کیے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کو سیاسی وسفارتی معاشی واقتصادی اور اسلحہ کی جنگ کی طرف لے کر جارہی ہے اور ایک پُرامن دنیا کے خواب سے عالمی معاشرہ بہت تیزی سے دور ہوتا جارہا ہے۔ امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بھلے ہی ٹرمپ کو ذہنی صحت کے حوالے سے مشکوک وشہبات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہولیکن ٹرمپ کی پالیسیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ان میں ذہنی توازن کا فقدان ہے اور اس کی سزاامریکہ سمیت پوری دنیا کوبھگتنی پڑسکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ امریکی صدر کی تجارتی اوراقتصادی پالیسیاں نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تجارت کے میدان میں لڑی جانے والی جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا ۔اس کا نقصان تمام متعلقہ فریقوں کو ہوتا ہے ۔آئی ایم ایف کا یہ بیان ٹرمپ کے اس فیصلے کے تناظر میں آیا تھا جس میں انہوں نے چین سے درآمد ہونیوالی 50 بلین ڈالر مالیت کی سالانہ اشیاء پر اضافی ٹیکس لگانے کی بات کی ۔ظاہر ہے ٹرمپ اس فیصلے سے دنیا کو تاثردینا چاہتے تھے کہ انہوں نے چینی معیشت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔لیکن اس کے بعد جوعالمی سطح پر ہوا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادی جنگ میں امریکہ کو بھی بہت نقصان ہوگا اورٹرمپ کے فیصلے کے فوراً بعد ہی چین نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے امریکہ پر بھی اتنے ہی ٹیکس لگادئیے، ٹرمپ نے صرف یہی نہیںکیا بلکہ انہوں نے چین کے ساتھ ایک اور طفلانہ حماقت کی وُہ چینی اشیاء پرمزید200 ارب کا اضافی ٹیکس لگائیں گے ۔اس کا جواب میں چین نے کہا کہ امریکہ کو جواب اس کی زبان میں ہی دیا جائے گا۔

دوسری طرف ٹرمپ نے یورپی یونین اوردیگرممالک کے خلاف بھی اسی طرح درآمدتی ٹیکسوں میں اضافہ کرکے غیرضروری تجارتی جنگ کا آغاز کردیا اس کے جواب میں یورپی یونین اور ترکی نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کا اثرعالمی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ترکی نے امریکی مصنوعات پر 267 ملین ڈالر کا اضافی درآمدتی ٹیکس لگانے کو کہا ہے اس تجارتی جنگ نے کئی بڑی کمپنیوں کیلئے پریشانی کھڑی کردی ہے کیونکہ ان نئے ٹیکسوں کی وجہ سے غیر ملکی خریداروں میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس کے علاوہ امریکی صارفین کو بھی مہنگی اشیاء ملیں گے اور ان کی جیب پر وزن بڑھ جائے گا۔ ٹرمپ اور ان کے مشیر اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ان کی اقتصادی اور معاشی داداگیری چین یورپی یونین کی معیشت کو ہی نقصان دے گی۔

ٹرمپ امریکہ کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے نام پر ہی احمقانہ فیصلے نہیں کررہے بلکہ ان کی نئی امیگریشن پالیسی بھی امریکہ اوردوسرے ممالک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔امریکی سرحدوں اورروزگاروں کی حفاظت کے نام پر انہوں نے جو پالیسی بنائی ہے اس کا خمیازہ میکسیکو کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔ان لوگوں کو سرحد پر نہ صرف گرفتار کرلیا جاتا ہے بلکہ ان کے بچّوں کو ان سے الگ کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود امریکہ خاتون اول میلانیہ ٹرمپ نے بھی ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پوری دنیا ٹرمپ کے اس فیصلے پرشدید تنقید کررہی ہے اور اب ٹرمپ نے اس پر فیصلہ واپس لے لیا ہے ۔ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی امریکہ کیلئے نقصان دہ ہے کیونکہ ان آنیوالے لوگوں کی وجہ سے امریکہ کوسستی لیبر میّسر تھی۔ٹرمپ کی حماقتوں سے صرف عالمی معیشت کو ہی خطرہ نہیں بڑھا بلکہ ان پالیسیوں نے عالمی امن کے سامنے سخت چیلنج پیدا کردیئے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر بات کریں توٹرمپ نے خلا میں میدان جنگ بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ایک فیصلے کے تحت ٹرمپ نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی خلائی فورس تیار کرے اور یہ امریکی فوج کی چھٹی شاخ ہوگی۔ اس کا صاف مطلب ہے ٹرمپ خلا میں بھی امریکہ کی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کے موڈ میں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ خلا میں بھی امریکہ کی صرف موجودگی کافی نہیں ہوگی بلکہ وہاں بھی امریکہ کوغلبہ حاصل ہونا چاہئے ۔ دراصل امریکہ عرصہ دراز سے اس مشن پر کام کررہا ہے کہ مستقبل میں خلا میں ہتھیار نصب کئے جائیں اس کے علاوہ امریکہ مصنوعی زلزلے ،سیلاب لانے کی HARP ٹیکنالوجی پر بھی کررہا ہے اور اس کے بارے کئی امریکی سابق خفیہ اہلکار اپنی کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ روس نے خلائی فورس کی سخت مخالفت کی ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یہ بات خلا میں جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے ۔یاد رہے کہ روس دنیا کا واحد ملک ہے جس کی خلائی فورس موجود ہے ۔جو انٹرنیشنل سپیس سنٹر کی حفاظت کیلئے ہے۔ 1950ء سے 1970تک بھی روس اور امریکہ خلا میں غلبہ کی ریس لگا چکے ہیں، جس میں روس نے امریکہ کو ہرادیا تھا کیونکہ خلا میں پہلا انسان یوری کگار بن روسی تھا خلا میں سب سے پہلا سیٹلائیٹ بھی روس نے بھیجا تھا اور اس کے بعد امریکہ نے انسان کو چاند پر اُتاراتھا۔

ٹرمپ کے فیصلے ان کے مزاج کے عدم توازن کا ثبوت ہیں ۔جس کیوجہ سے دنیا پر ایک نیاخطرہ منڈلا رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیاں پوری دنیا کیلئے بڑاخطرہ ہیں۔اس میں خود امریکہ بھی شامل ہے جس کو مزید طاقت وربنانے کے چکر میں ٹرمپ مسلسل غلط فیصلے کررہے ہیں۔ لگتا ہے سپرپاور کا سفینہ ڈوبنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بعد از کربلا

(سید نور اظہر جعفری) ہر نتیجہ کسی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہر ...