پیر , 16 جولائی 2018

الیکشن کے بعد جمہوریت کا جنازہ

(تحریر: نذر حافی)
الیکشن کسے کہتے ہیں!؟ کیا یہ الیکشن ہے کہ آپ تمام ملک دشمن کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو سیاست میں داخل کریں!؟ کیا یہ الیکشن ہے کہ ظالموں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بجائے انہیں اسمبلیوں میں بھیجا جائے!؟ کیا یہ الیکشن ہے کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں سمیت لاکھوں بے گناہ افراد کے قاتلوں کو سیاسی پشت پناہی فراہم کی جائے!؟ اگر یہی الیکشن ہے تو پھر اس کا نتیجہ ابھی سے معلوم ہے کہ صرف چہرے بدلیں گے اور باقی کسی قسم کی کوئی عملی تبدیلی وجود میں نہیں آئے گی۔ یہ ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ دہشت گرد کبھی بھی پاکستان اور پاکستانی قوم سے مخلص نہیں ہیں۔ چنانچہ الیکشن کے فوراً بعد تین اہم مسئلے ہمارے سامنے کھڑے ہو جائیں گے:

1۔ حکومت چاہے کسی کی بھی بنے، یہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے دہشت گرد سیاسی لٹھ لے کر لال مسجد کی طرح عوام کی ناکہ بندی کریں گے اور ملک میں سیاسی انارکی پھیلائیں گے۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا ہی پاکستان اور جمہوریت کو کمزور کرنا ہے، لہذا وہ اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ دہشت گردوں کی تربیت ہی سیاسی نہج پر نہیں کی جاتی، لہذا ان سے سیاسی توقعات وابستہ کرنا دراصل ملک و ملت کے ساتھ دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دہشت گردوں کو خوش کرنا پوری ملت کو سوگ میں بٹھانے کے مترادف ہے، کسی کے بقول بھیڑیے پر رحم دراصل بھیڑوں پر ظلم ہے۔

2۔ دوسرا مسئلہ پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کا ہے۔ اس وقت پوری دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو سیاسی طور پر سپورٹ کیا جا رہا ہے، ان کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دیئے گئے ہیں اور وہ سیاسی و قومی لیڈر بن کر میدان میں اتر آئے ہیں۔ ہمارے مقتدر ادارے جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں، چونکہ کل کو جب دہشت گردوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جائے گا تو ساری ذمہ داری نئی اور نوزائیدہ جمہوری حکومت پر ڈال دی جائے گی۔
3۔ تیسرا مسئلہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی اور فعالیت کا ہے۔ غیر ملکی پٹھووں کو اب یہ یقین ہو جائے گا کہ لاکھوں پاکستانیوں کے قاتل بھی اسمبلیوں تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ سیاست میں وارد ہونے کا شارٹ کٹ ہے، لہذا غدار عناصر اپنے بیرونی آقاوں کے اشارے پر مزید منظم ہو کر دہشت گردی کریں گے۔ اس طرح نئی حکومت دیگر امور انجام دینے کے بجائے دہشت گردوں کے ساتھ ہی الجھی رہے گی۔

راہِ حل یہی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بغیر کسی تفریق کے تمام دہشت گردوں کو نکیل ڈالنی چاہیے، تاکہ الیکشن بھرپور اور شفاف طریقے سے انجام پائیں اور الیکشن کے بعد وجود میں آنے والی کسی بھی جمہوری حکومت کو مذکورہ بالا مسائل کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ اگر دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ اپنایا جاتا ہے تو دراصل جمہوریت کی پشت بلکہ سینے میں خنجر اتارنے کے مساوی ہے، ظاہر ہے کہ متشدد اذہان، پرتشدد افکار اور کشت و کشتار کے عادی کبھی بھی اس ملک میں جمہوری اقدار کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔ جمہوریت کی فصل کو پروان چڑھنے سے روکنے کے لئے آسان طریقہ کار یہ ہے کہ متشدد گروہوں اور ٹولوں کو سیاست میں دھکیل دیا جائے اور ان کے کشت و خون کو سیاسی پرمٹ دیدیا جائے۔ جن کے نزدیک آئین پاکستان غیر اسلامی، ملت پاکستان کافر اور بانی پاکستان کافراعظم ہیں، ان کے نام فورتھ شیڈول سے نکالنے اور انہیں سیاست میں داخل کرنے سے ہمیں واضح طور پر یہ پیغام ملتا ہے کہ اس الیکشن کے بعد کا پاکستان بھی پہلے کی طرح ہی کمزور جمہوریت کی بیساکھیوں کے سہارے لڑکھڑاتا رہے گا اور ہمیشہ کی طرح ملک دشمن عناصر اس ملک کے سیاسی اداروں کو تگنی کا ناچ نچاتے رہیں گے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اس الیکشن کے بعد ہمارے ہاں، تعلیم، صحت، رفاہِ عامہ، انسانی حقوق، پینے کے پانی، ڈیموں کی تعمیر، پبلک ٹرانسپورٹ۔۔۔ جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن الیکشن کے لئے جو فضا بنائی جا رہی ہے، وہ خود اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ الیکشن سے تبدیلی کی توقعات وابستہ کرنے والے محض خوش فہمی کے شکار ہیں، عوام کے حق میں کسی طرح کی کوئی اچھی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں چونکہ کمزور جمہوری حکومت اپنے آپ کو بچائے گی یا عوام کے مسائل پر توجہ دے گی، یہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین انتخابات ہیں کہ جب ملت پاکستان کے قاتلوں کو ہی پاکستان کی اسمبلیوں میں پہچنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ ایک تو ویسے بھی پاکستان میں جمہوریت کمزور ہے اور پھر جب جمہوریت کو کفر اور نجس سمجھنے والوں کو نیز اصلاً جمہوری شعور نہ رکھنے والوں کو زبردستی پاکستانی سیاست میں داخل کر دیا جائے گا تو پھر جمہوریت کا جنازہ خوب دھوم سے نکلے گا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ سے کشیدگی اور بہتر ہوتے چینی جاپانی تعلقات

(محمد مہدی)  جاپان اور چین ایشیاء کی دو ایسی طاقتیں ہیں جن کے باہمی تعلقات ...