جمعرات , 18 اکتوبر 2018

نواز شریف کی واپسی پر کیا ہو گا؟

(سید مجاہد علی) 
مریم نواز نے لندن سے پاکستان واپسی کے سفر کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ ان کے مطابق مریم اپنے والد نواز شریف اور ہمدردوں کی بڑی تعداد کے ساتھ جمعرات کو لندن سے روانہ ہو کر جمعہ کی شام کو لاہور ائیر پورٹ پر اتریں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز کے ساتھ اس جلوس کی قیادت کریں گے جو نواز شریف اور مریم نواز کےاستقبال کے لئے لاہور ائیر پورٹ پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ بات بھی طے دکھائی دیتی ہے کہ ملک کی نگران حکومت بھی عدالتوں کی طرح کوئی رعایت کرنے یا نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وزیر قانون سید علی ظفر نے لاہور ہی میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نیب عدالت کے حکم کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس طرح یہ یقینی بنایا جائے گا کہ دونوں باپ بیٹی باہر نکل کر جلوس سے خطاب کرتے ہوئے اس جلتی آگ پر تیل کا کام نہ کرسکیں جو جمعہ کے روز نیب کے فیصلہ کے بعد سے سیاسی طور پر بھڑکی ہوئی ہے۔ تاہم اس بات کا احساس مریم اور نواز شریف کے علاوہ بھی سیاست اور حکومتی انتظام کے سب کرداروں کو ہے کہ ان دونوں باپ بیٹی کی پاکستانی جیل میں موجودگی سیاسی ماحول میں تلخی میں اضافہ کرے گی، مسلم لیگ (ن) کا کارکن زیادہ پرجوش ہو گا، سیاسی عمل میں تیزی آئے گی اور 25 جولائی کو ہونے والے انتخاب کے روز غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کے اعلان سے عمران خان سمیت ان سب افراد اور اداروں کو بھی پریشانی لاحق ہے جنہوں نے سیاست سے نواز شریف کو باہر کرنے کے کھیل کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔

سیاست پر بات کرتے ہوئے انسانیت اور بنیادی رشتوں اور ان سے وابستگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ نواز شریف کی واپسی کے بارے میں کئے جانے والے تبصروں میں ہر طرح کے جملے استعمال کئے جارہے ہیں۔ اور یہ بنیادی انسانی پہلو نظر انداز ہو رہا ہے کہ تمام دوسری حقیقتوں کے باوجود نواز شریف اور مریم نواز، بیگم کلثوم نواز کوزندگی اور موت کی کشمکش میں چھوڑ کر پاکستان واپس آرہے ہیں۔ یہ فیصلہ ایثار اور قربانی کا فقیدالمثال نمونہ ہے۔ لوگ بیمار اعزہ کے قریب رہنے کے لئے دور دراز کا سفر کرتے ہیں لیکن نواز شریف اور مریم نواز سیاسی ذمہ داری کی تکمیل کے لئے اپنی علیل بیوی اور ماں سے دور جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن لاہور کا ایک انگریزی اخبار اسے نواز شریف کی سیاسی بہادری کی بجائے مجبوری بتانے پر مصر ہے۔ اس انگریزی روزنامہ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’ اسے خواہ جیسے چاہے پیش کیا جائے لیکن نواز شریف اور مریم نواز کے لئے نیب عدالت کے فیصلہ کے بعد ملک واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اگر وہ واپس نہ آتے تو یہ دونوں اور ان کی پارٹی سیاسی طور پر ختم ہوجاتے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکام انٹر پول کے ذریعے بھی انہیں واپس لانے کا اہتمام کر سکتے تھے۔ یہ واپسی نواز شریف کے لئے زیادہ ذلت آمیز اور تکلیف دہ ہوتی۔‘ ایک اداریہ کے ان جملوں میں تبصرے کی صداقت سے زیادہ سیاسی رویہ کی سفاکی پوشیدہ ہے۔ کوئی مدیر یا صحافی نہ سفاک ہو سکتا ہے اور نہ معاملات کے انسانی پہلوؤں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ نواز شریف واپس نہ آنے کا فیصلہ کرتے تو انہیں سیاسی طور سے شدید نقصان ہوتا لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہوئے یہ قرار دینا کہ ایک معاملہ پر کمزوری کا مظاہرہ کرنے والا سیاست دان ملکی سیاست میں غیر متعلق ہو سکتا ہے قرین از قیاس رائے نہیں ہو سکتی۔

اسی طرح نواز شریف اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں سیاستدانوں کو پناہ دینے اور انہیں اپنی ہی حکومتوں کے استبداد سے بچانے کی طویل روایت موجود ہے۔ متعدد بلوچ قوم پرست رہنما برطانیہ میں رہتے ہیں لیکن حکومت پاکستان تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود انہیں واپس نہیں لاسکی۔ ایم کیو ایم کے بانی لیڈر الطاف حسین کا معاملہ بھی ان سے مختلف نہیں ہے۔ وہ صرف منی لانڈرنگ ہی نہیں قتل اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی مطلوب رہے ہیں لیکن برطانیہ نے کبھی انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا عندیہ نہیں دیا۔ پاکستانی حکومتوں نے خود بھی برطانیہ کی سرزمین پر جرائم میں ملوث افراد کو فوری طور سے برطانیہ کے حوالے کرنے کی کوئی درخشندہ روایت قائم نہیں کی ہے۔ اس لئے یہ توقع کرنا اور رائے دینا کہ انٹر پول کے ذریعے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو طلب کرنے پر برطانوی حکومت فوری طور ان دونوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کردے گی، ایسا ہی ہے جیسا کی اسلام آباد نیب عدالت کے فیصلہ میں لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس قرق کرنے کے ’حکم‘ کے بعد یہ پرجوش اعلانات کئے گئے ہیں کہ اب ان یہ املاک پاکستان کی ملکیت ہو گئی ہیں اور جلد ہی ان کی نیلامی سے حاصل ہونے والی دولت سے پاکستان کے دلدر دور ہو جائیں گے۔

ممتاز صحافی عارف نظامی کی ادارت میں شائع ہونے والے ’پاکستان ٹو ڈے‘ کی یہ ادارتی رائے اس بدنما تصویر کی صرف ایک مثال ہے جو پاکستان کی سیاست میں میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کے بیشتر میڈیا ہاؤسز، مدیر، صحافی اور کالم نگار اس وقت ملک میں نافذ بالواسطہ ادارتی سنسر شپ پر مہر بلب ہیں۔ ملک کا سب سے قابل قدر انگریزی اخبار ڈان گزشتہ دنوں اپنے اداریہ میں اخبار کی تقسیم میں حائل کی جانے والی مشکلات اور عملہ اور صحافیوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر احتجاج کرچکا ہے لیکن پاکستان میں اس احتجاج پر غور کرنے اور انتخابات سے پہلے اخبارات اور صحافیوں کی خود مختارانہ رائے کو متاثر کرنے کے مختلف ہتھکنڈوں کے بارے میں کوئی طاقت ور آواز سننے میں نہیں آتی۔ ملک کے اخباروں کو خاص طرح خبریں اور تبصرے شائع کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بعض آرا شدید سنسر شپ کا شکار ہیں اور بعض صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو ایک خاص طرح کے سیاسی مشن پر کام کرنے کے لئے آمادہ کر لیا گیا ہے یا مجبور کیا گیا ہے۔

اس ماحول میں ملک کے چیف جسٹس ثاقب نثار کےبقول ’شفاف اور منصفانہ‘ انتخابات کیسے اور کیوں کر منعقد ہوں گے۔ لیڈروں کو گرفتار کرکے، سیاسی پارٹیوں کے خلاف اداروں کو سازشیں کرنے کی اجازت دے کر اور آزادانہ رائے پر قدغن لگا کر منعقد ہونے والے انتخابات نہ آزاد ہو سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں منصفانہ سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ تلخ سچ بھی اس افسوسناک تصویر ہی کا ایک رخ ہے کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے بے تاب سپریم کورٹ بھی ملک میں آزادی رائے کی پامالی پر خاموش ہے۔ ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں سو موٹو ایکشن لے کر ہفتہ اتوار کو کام کرنے والے چیف جسٹس ملک میں ڈیم بنوانے کے منصوبوں کی نگرانی کرنے اور سپریم کورٹ کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں شاید یہ سوچنے کا بھی وقت نہیں ملتا کہ ملک کے جس آئین کے تحت انہوں نے حلف لیا ہے اور جس کی حفاظت کے دعوے وہ ریمارکس اور خطابات میں کرتے رہتے ہیں، اس کے تحت اختیارات کی تقسیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ملک کا انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی ان فرائض میں شامل نہیں ہے جو ملک کا آئین سپریم کورٹ کو عطا کرتا ہے۔

اب اسی آئین کی ایک شق 184 (3) کو بنیاد بنا کر چیف جسٹس ملک پر حکمرانی کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں اور قوم کے مسائل کا حل اپنےنازک کندھوں پر اٹھانا چاہتے ہیں۔ تاہم انتخابات سے چند ہفتے پہلے سپریم کورٹ کے ان اقدامات کو انتخابات میں براہ راست مداخلت کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ڈیم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جب چیف جسٹس سیاسی حکومتوں کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم جوئی میں جب یہ بتاتے ہیں کہ عطیہ دینے والے پاکستان کی حکومت پر اعتبار نہیں کرتے تو یہ کسی آفیسر آف دی لا کی قانونی موشگافی نہیں ہوتی بلکہ ملک کے سیاسی انتظام کے بارے میں براہ راست رائے زنی ہے۔ عدالت عظمی ٰ کی طرف سے اس قسم کی رائے کا اظہار انتخابات سے پہلے دھاندلی نہیں ہے تو اسے کیا نام دیا جائے۔

یہ تبصرے اور اقدامات لوگوں کو یہ باور کروانے کی منظم کوشش ہیں کہ وہ سیاست دانوں پر اعتبار نہ کریں کیوں کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پہلے فوج ان مسائل کو حل کرنے کے لئے براہ راست اقدام کرتی تھی ، اب یہ ’ناگوار فرض‘ سپریم کورٹ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ نہ فوجی مداخلت کو آئین کی بے حرمتی قرار دیا جاسکا اور نہ سپریم کورٹ کے احکامات کو آئین کی روح کے مطابق تولا جا رہا ہے۔ کیوں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار خود ہی آئین کے پاسبان ہیں اور انہی کو اس کی تشریح کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ فی الوقت انہیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ تاریخ ان کے اقدامات کو کس طرح دیکھے گی یا ملک کی سیاست یا نظام عدل پر اس کے کون سے منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ نظام کو مجہول اور غیر مؤثر کرنے کے لئے کئے جانے والے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اثر صرف موجودہ انتخابی نتائج تک محدود نہیں ہو گا بلکہ ان کی ضرر رسانی طویل عرصہ تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

اس تلخ حقیقت کے باوجود ماضی میں جس طرح ملک کی اعلیٰ عدالتیں اور ان میں بیٹھے ہوئے فاضل ججوں کی اکثریت فوجی بغاوتوں اور جرنیلوں کی آئین شکنی کو قبول کرنے کے علاوہ اس کی توثیق کرتی رہی ہے۔ اب فوج بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ’نیک مقاصد‘ میں ہاتھ بٹانے کا اعلان کر رہی ہے۔ اسی لئے مسلح افواج کے جوان ایک دن اور افسران دو دن کی تخواہ ملک میں ڈیم بنانے کے لئے سپریم کورٹ کے فنڈ میں عطیہ کریں گے۔ فوج کے اس اعلان کے ساتھ اس سازش کے تانے بانے اب منظر عام پر آنے لگے ہیں جن کا ذکر نواز شریف کرتے رہے ہیں اور جس کے بارے میں ان سے یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ سازش کون کر رہا ہے اور وہ اس سازش میں شامل لوگوں یا اداروں کے نام کیوں نہیں بتاتے۔ اب کسی کو نواز شریف سے یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ 2014 کے دھرنے سے شروع ہونے والا جمہور یت دشمن مارچ جیپ کی سواری سے ہوتا ہؤا اب آنکھوں پر انصاف کی پٹی باندھے ججوں کے ہاتھ میں قانون کے ہتھوڑے کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔ عسکری قیادت نے قومی فلاح کے عدالتی منصوبہ کی تائید کرکے واضح کردیا ہے کہ ملک پر کس قسم کا انتظام مناسب، ضروری اور قابل قبول ہوگا۔ نواز شریف کی واپسی سے اس انتظام میں خلل پیدا ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ اسی لئے ان کی واپسی سے شریف خاندان سے زیادہ ان اداروں کو پریشانی لاحق ہے جو اب بھی اس ملک کو اپنے اصولوں پر چلانے کی ضد کرتے ہیں۔ 25 جولائی کو یہی فیصلہ ہونا ہے کہ عوام اس سازش کو سمجھ کر ووٹ دے پاتے ہیں یا ایک بار پھر ان کی رائے کو مسترد کرنے کا پیشگی بندوبست مؤثر ثابت ہو گا۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟

(وسعت اللہ خان)  نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن ...