منگل , 20 نومبر 2018

درعا شام کا جنوبی صوبہ اور اس کی اہمیت

موک پلان کیا ہے ؟سن 2003سے درعا کا پیچھا کیوں؟
شام کے جنوب میں واقع صوبہ درعا جغرافیائی ،سیاسی،ڈیموگرافی اور شام میں جاری بحران کے تناظر میں اسٹریٹیجکلی حوالےسے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔تقریباً گذشتہ ماہ جون میں شام اور اس کے اتحادیوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب آپریشن کا رخ درعا کی جانب کیا جانا چاہیے ،تب سے لیکر اب تک بڑی آسانی کے ساتھ یکےبعد دیگرے یہ پورا علاقہ شدت پسندوں سے خالی ہوتا جارہا ہے اورشام کی افواج پیشقدمی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں ۔

درعا کی اہمیت اور موک یا حوران پلان کی ناکامی ۔جس طرح عراق اور شام کے سرحدی علاقے دونوں ملکوں کے لئے اہمیت کے حامل تھے اسی طرح اردن اور مقبوضہ جولان کے سرحدی علاقے بھی مزاحمتی بلاک اور شام کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔

جغرافیائی اعتبار سے درعا جہاں جنوب سے اردن کی سرحد کے ساتھ جاملتا ہے وہیں پر دوسری جانب شمال سے دارالحکومت دمشق تو قنیطرہ اور مقبوضہ جولان و اسرائیلی سرحد کے ملاپ کے سبب اس کی اسٹرٹیجک اہمیت مزید واضح ہوجاتی ہے ۔

بغور دیکھاجائے تو درعا زمینی اعتبار سے خلیجی مماک کے ساتھ جڑ نے کے لئے گیٹ وےکی پوزیشن بھی رکھتا ہے ،دارالحکومت سے صرف 100کلومیٹر دور ہونے کے سبب دارالحکومت میں داخلے کا جنوبی دروازہ اور اس کی strategic depth کی پوزیشن کو واضح کرتا ہے ۔

درعا تجارتی کوریڈور ۔
درعا میں موجود شفاف پانی کی کثرت اور زمین کی زرخیزی ،12کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم کہ جس میں 105ملین میٹر مکعب پانی کا زخیرہ اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے ۔

درعا کو شام میں گندم، زیتون اور سبزیوں،فروٹ، کا مرکز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اس صوبے کے مجموعی علاقے میںسے 60 فی صدعلاقہ انتہائی زرخیز زرعی زمین پر مشتمل ہے ۔جبکہ یہاں موجود مویشیوں سے سالانہ 5386 ٹن گوشت،چکن و اسی طرح دودھ ،پنیر اور دیگر اشیاخوردنوش ملک بھر میں اور بیرون ملک سپلائی ہوتی ہے ۔

درعا میں موجود زیتون کے تیل کے پلانٹ ،ٹماٹر پیسٹ اور دیگر سبزیوں سے تیار ہونے والی پروڈیکٹس کے کئی کارخانے ٹنوں کے حساب سے اشیاخورنودش کواسٹوریج، فیزنگ،اور پیکنگ کرکے ملک بھر کے علاوہ بیرون ملک بھی برآمد کرتے ہیں ۔

اس صوبے میں بحران سے پہلےبہت سے خلیجی ممالک کے تجاروں سمیت بیرون ملک سے ایک اچھی سرمایہ کاری کی گئی تھی اورزمینی طور پر اردن کی سرحدکے قریب اورفضائی اعتبارسے دمشق انٹرنیشل ائرپورٹ سے صرف 115کلومیٹر دور ہونے کے سبب عرب ممالک اور عالمی منڈی تک رسائی بھی انتہائی آسان ہے ۔
واضح رہے کہ خلیجی ممالک اپنی اشیاخوردنوش کو بیرون ممالک سے سے امپورٹ کرتے ہیں تو کیا اس علاقے کی اہمیت صرف مذکورہ حد تک ہے یا پھر کوئی ایسی بات پوشیدہ ہے جو ا سکی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے ؟

موک آپریشن روم کاحوران پلان ،حیفا سے کرکوک تک ۔
اس سے پہلے کہ ہم اس پلان کے بارے میں تفصیلات بیان کریں اس پہلی قسط میں اس اصطلاح کے پس منظر کو واضح کرنے پر اکتفا کرینگے ۔موک یا موم یعنی Military Operations Centerدرحقیقت سن 2013اور 2014کے درمیان امریکی قیادت میں تشکیل پانے والا وہ مشترکہ آپریشن روم ہے کہ جس میں اسرائیل فرانس ،برطانیہ ،اردن اور بعض خلیجی ممالک شامل تھے ،جبکہ شام کے قنیطرہ ،درعا،اور مضافاتی دمشق وحلب میں موجود نام نہاد فری سیرین آرمی اور دیگر مسلح گروہ اس پلان کی کٹ پتلیاں تھیں۔

واضح رہے کہ یہ پلان تاریخی اعتبار سے سن 2003میں تیار کیا گیا تھا کہ جہاں پہلے اسرائیلی وزیر اعظم شارون اور امریکی جارج ڈبلیوبش کے درمیان ایک مشترکہ کوارڈینیشن کیمٹی تشکیل پائی تھی کہ جس کا بنیادی ہدف اسرائیلی شہر حیفا کو عراق کے کردنشین علاقے کرکوک سے جوڑنا تھا ۔

البتہ بعد میں جاکر موک پلان کی مزید تفصیلات سامنے آنے لگی کہ جس پر ہم اس مضمون کی اگلی قسط میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کرینگے اور یہی سے ہمارے سامنے درعا کے حالیہ آپریشن اور اس کی کامیابی کی کی اہمیت اور سیاسی و عسکری میدانوں میں مزاحمتی بلاک کی برتری و بالادستی سمجھ میں آسکتی ہے ۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

لیڈر کا یو ٹرن

(مجیب الرحمن شامی) وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ ...