منگل , 20 نومبر 2018

ایران کے خلاف جنگ کی تیاری عروج پر، القاعدہ کو بہانہ بنانے پر غور

(تسنیم خیالی)
’’نیشنل انٹرسٹ‘‘ نامی امریکی رسالے نے اپنی تیار کردہ خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کشیدگی میں اضافہ کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اس غرض کے لیے امریکیوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ وہی راستہ ہے جس کے ذریعے عراق جنگ کی راہ ہموار ہوئی، رسالےکے مطابق 2003ء عراق کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے بلند ہونے والی آوازیں آج پھر سے وائٹ ہائوس اور دیگر امریکی اداروں میں بلند ہوتے سنائی دے رہی ہیں۔

رسالے کے مطابق عراق کے خلاف جنگ کےلیے القاعدہ کو بہانہ بنایا گیا تھا، 2003ء میں امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ اس وقت عراقی حکومت القاعدہ کے کمانڈرز اور اہم رہنمائوں کو عراق میں پناہ دیے ہوئے ہیں جس کے بعد عراق پر حملہ کردیا گیا، یہی بہانہ امریکی اب ایران کے خلاف استعمال کرنے پر غور کررہے ہیں تا کہ ایران پر حملے کےلیے جواز بن جائے جواب تک امریکی نہیں بنا سکے، دیکھا جائے تو امریکہ نے ایران کے خلاف اعلان جنگ اس وقت ہی کر دیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر پھر سے پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایران عراق نہیں ہے، علاوہ ازیں ایران میدان میں تنہا نہیں ہوگا اس کے اتحادی اس کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

آج مشرق وسطیٰ میں حالات 2003ء جیسے نہیں اور امریکہ کو علاقے میں نئی جنگ شروع کرنے سےقبل ہزار بار سوچنا ہوگا کیونکہ اس بار یورپی یونین بھی امریکی پالیسیوں کے خلاف ہے، خاص طور پر ایران کے متعلق امریکی رویے پر یورپی یونین امریکہ سے اتفاق نہیں رکھتی ، ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو عراق کی اشد ضرورت ہوگی، عسکری لحاظ سے ایران پر حملے کیلئے بہترین ٹھکانہ عراق ہے البتہ عراقیوں نے امریکہ کو قطعی طور پر اجازت نہیں دینی کہ وہ ایران پر حملے کےلیے عراقی سرزمین استعمال کرے۔

ایران کے خلاف جنگ امریکیوں کے لیے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہوگی ،جس میں یقیناً نقصان ایران سے زیادہ امریکہ کا ہوگا، آخری بات یہ ہے کہ ایران عسکری لحاظ سے طاقتور ممالک میں شمار ہوتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں تو ایران کا فی حد تک طاقتور ہے، ایران نے مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیج فارس میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کا نشانہ بنانا ہے ایسی حالت میں امریکہ کو ایسا نقصان ہوگا جس کا امریکیوں کو بھی اندازہ نہیں، میرے خیال میں امریکہ ایران کے خلاف جنگ کا منصوبہ ضرور بنا رہا ہے البتہ امریکہ ایران پر جارحیت کی بیوقوفی ہر گز نہیں کرے گا، امریکہ صرف زبانی جنگ اور پابندیاں عائد کرنے کی حدتک ہی رہے گا، ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونا تھا جو اس نے کردیا اس سے آگے وہ اور کچھ نہیں کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں کے قبلہ اول کی 500 کیمروں سے جاسوسی!

قابض صہیونی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کی جاسوسی اور وہاں پرآنے والے نمازیوں پر نظر ...