جمعرات , 18 اکتوبر 2018

امریکہ کی ہٹ دھرمی اور سفارتی جگ ہنسائی

(ڈاکٹر اے آر خالد)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جو تاریخی سفارتی جگ ہنسائی ہوئی ہے وہ بھی اسکی ہٹ دھرمی کو ختم کرنے میں بے ثمر ہی رہی۔ دو اڑھائی ہفتے پہلے میں اس عمارت کے سامنے تصویریں اتروا رہا تھا اور اپنے بیٹے سے اس عمارت کے اندر کے ماحول کے بارے میں استفسار کر رہا تھا کیونکہ وہ پچھلے ہی سال اگست میں چودھویں عالمی انسانی حقوق کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے اس عمارت میں گیا تھا اس لئے وہ میرے مقابلے میں اندر کے ماحول سے محدود سطح پر ہی سہی زیادہ واقف تھا میرا انداز یہاں ہونے والی ناانصافیوں اور بالخصوص کشمیر کے بارے میں پاکستان کی قراردادوں کو ویٹو کرنے اور انصاف کی دھجیاں اُڑانے کے حوالے سے انداز تاریخی سچائیوں سے جڑا ہوا تھا۔ مگر میرے بیٹے مصطفیٰ خالد کو جان ہاپکن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد تاریخی سچائیوں کو جذباتی انداز سے پیش کر کے اپنا نقصان کرانے کی بجائے دلیل و منطق میں جذبات کی بجائے حقیقت پسندانہ طرز عمل کواس انداز سے پیش کرنے کی تعلیم اور تربیت مل چکی تھی کہ آپکے موقف کے کٹر مخالف غیر جانبدار ہو جائیں اور آپکے موقف پر غیر جانبداری ظاہر کرنیوالے آپکے مسئلہ کو پیش کرنے کے حوالے سے آپکے حامی ہو جائیں۔

بات میں وزن بھی تھا اور میں ماضی میں اس وقت اس کا تجربہ کر چکا تھاجب اسی اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل بطروس غالی سے لاہور کے گورنر ہائوس میں مرحوم گورنر چودھری الطاف حسین نے میری اس سے ملاقات کا اہتمام کرایا تھا۔میرے ساتھ دو بہت ہی سینئر اور محب وطن پاکستانی صحافی مجید نظامی صاحب اور زید اے سلہری تھے ان کی حب الوطنی سے بھرپور گفتگو کا جب بطروس غالی پر چنداں اثر نہ ہوا تو میں نے جونیئر ہونے کی حیثیت کو ایک طرف رکھ کر پہلے تو اپنے فل برائٹ سکالر کے طور پر تعارف کرایا اور پھر جو ایک سو ڈالر اقوام متحدہ کو 1998ء میں عطیہ بھیجا تھا اس رقم کا ذکر کئے بغیر بتایا کہ میں آپکے ادارہ کو عطیہ دینے والوں میں شامل ہوں اور ساتھ ہی وہ چیک جو عطیہ وصول کرنے کی مہر کے ساتھ بطور رسید ہی سمجھ لیں واپس مجھے بھیجا گیا تھا۔ بطروس غالی کو پیش کر دیا اس نے چیک اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا میرا شکریہ ادا کیا اور اب اپنے دائیں کان پر دایاں ہاتھ رکھ کر یہ ابلاغ کرایا کہ وہ بات کو بڑے غور سے سُن رہا ہے چند منٹ پہلے کی گفتگو کو جذباتی انداز کی گفتگو سمجھ کر نظر انداز کرنیوالا اس بات پر لاجواب تھا کہ کشمیر کے متعلق منظور کی گئی قراردادیں عملدرآمد کی توثیق چاہتی ہیں، بھارتی وزیراعظم نہرو کے اقوام متحدہ میں کشمیر میں استصواب کے وعدے ابھی تک اس عالمی ادارے کی توجہ حاصل نہیں کر سکے اور کشمیر کا مسئلہ نامکمل ایجنڈے میں سرفہرست ہے، جسے اقوام متحدہ اپنے ریکارڈ سے حذف نہیں کر سکی، نہ کر سکتی ہے۔ اس وقت روس بھارت کی شکست کو ویٹو کر کے بے اثر کر دیتا تھا اور اب امریکہ نے دنیا کی واحد سپرپاور بننے کے بعد اپنی پالیسی بدل لی ہے۔

تازہ ترین صورتحال اس اعتبار سے بہت دلچسپ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی سفیر غزہ میں انسانی خون کی ہولی کھیلنے والے درندوں کو انسانیت سکھانے کیلئے اور وہاں کی شورش اور بدامنی کے تدارک کیلئے کویت کے مقابلے میں اپنی قرارداد لے آئی۔ کویت نے غزہ کے نہتے شہریوں کی زندگی ، مال ، جان اور آبرو کی حفاظت کیلئے اقدامات کرنے کی قرارداد پیش کی تھی امریکہ کی پرکشش اور جوان سفیر نکی ہیلی نے کویت کی قرارداد کو مسترد کر کے امریکہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کیلئے بھرپور سفارتی تیاری کی تھی وہ ایک ایک سفیر کے پاس جا کر اپنے لئے ووٹ مانگ رہی تھیں اپنے ازلی غلام اسرائیل کے سفیر کے ساتھ مغربی بے تکلفی اور مشرقی بے حیائی آج صرف ایک ووٹ حاصل کرنے کیلئے تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کویت کی قرار داد مسترد کر کے امریکہ کی قرارداد پر ہی ووٹنگ کرائی جائے پہلی ناکامی تو امریکی سفیر نکی ہیلی کو اس وقت ہوئی جب سلامتی کونسل کے صدر روس نے اسکی یہ درخواست مسترد کر دی ، غیر رسمی گفتگو میں گرما گرم بحث بھی ہوئی اس نے حماس کے تحفظات کو نظرانداز نہ کرنے کی جو اپیل کی وہ بھی کارگر ثابت نہ ہوئی کویت کی قرارداد کے حق میں دس ووٹ آئے اور قرارداد کی منظوری کو امریکہ کی سفیر نے اپنے ویٹو سے نامنظور کے پلڑے میں ہی رہنے دیا۔ اب سلامتی کونسل میں امریکی سفیرکی قرارداد کا مسودہ پیش کیا گیا۔ نکی ہیلی ویٹو کرکے انسانیت کی بقا اور تحفظ کی جدوجہد میں اس عالمی ادارے کو اپنی ویٹو پاور سے بلڈوز کر چکی تھی اور اسے شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ابھی امریکہ کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد پر ووٹنگ میں سلامتی کونسل کے ارکان بدلہ لے سکتے ہیں۔ وہ اتنا تو جانتی تھی کہ ابھی کویت کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے اسی نشست میں امریکہ کی لائی ہوئی قراردادکو سپورٹ نہیں کرینگے البتہ رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے ممالک کے مندوبین سے اسے مکمل حمایت کی توقع تھی اور یہ بھی توقع تھی کہ شاید کویت کی قرارداد کی حمایت کرنیوالا ایک آدھ رکن ملک امریکہ کی ناراضی کے خوف سے یا اسکی سفارتی بھاگ دوڑ کی وجہ سے امریکی قرارداد کی حمایت کرنے یا مخالفت کرنے کی بجائے رائے شماری میں حصہ نہ لیکر فی الحقیقت امریکہ کی حمایت ہی کرنیوالوں میں ہو گا لیکن جونہی نکی ہیلی نے قرارداد پیش کر کے اسکے حق میں ہاتھ کھڑا کیا تو شدید دھچکا لگا جبکہ امریکی قرارداد کی حمایت میں صرف ایک ہی ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔ اور وہ ہاتھ نکی ہیلی کا ہی تھا۔

سلامتی کونسل کی تاریخ میں اس نوع کی رائے شماری کی آج تک ایک بھی مثال نہیں جس میں قرارداد کا محرک اپنے علاوہ ایک بھی ووٹ حاصل نہ کر سکے۔ امریکہ کی اس تاریخی پسپائی جگ ہنسائی اور سفارتی ناکامی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ناانصافی کا ساتھ دینے اور ہٹ دھرمی ترک نہ کرنے کی سزا امریکہ کو دیکر سلامتی کونسل کے وقار اور امریکہ کی بے وقاری میں اضافہ کیا ہے۔ فلسطینی مندوب نے تو اپنی تقریر میں واضح کر دیا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ اور سلامتی کونسل کی تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی ملک نے قرارداد پیش کی ہو اور اسے صرف ایک ووٹ ملے اور وہ بھی قرارداد پیش کرنیوالے ملک کا اپنا ہی ہو۔ اگر یہ ناکامی نہیں تو پھر مجھے بتائیں کہ ناکامی کیا ہوتی ہے۔ نکی ہیلی کی سفارتی زندگی میں اس طرح کی پسپائی اور بے عزتی کا مرحلہ بھی نہیں آیا تھا یہ دن اس کیلئے منحوس ثابت ہوا اور کیوں نہ ہوتا نحوست کو تحفظ دینے اور اپنے تکبر سے اقوام عالم میں فیصلے کرانے کی کہیں نہ کہیں حد تو آنی تھی۔ وہ حد آ گئی امریکہ رسوا ہوا مگر ہٹ دھرمی نے اسے معذرت کرنے سے مسلسل روکے رکھا۔

یہ بھی دیکھیں

‘ہڑتال’ جس نے فلسطینیوں کو اسرائیل کےخلاف متحد کر دیا!

اگرچہ فلسطینیوں کے درمیان المناک تفریق پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجود ایک وسیلہ ...