بدھ , 26 ستمبر 2018

پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ کتنا سنگین ہے اور کیا چندہ جمع کر کے ڈیم بن سکتا ہے؟

(عابد حسین)
پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر آنے والی ایک رپورٹ کے بعد حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر فوری شروع کی جائے اور اسی سلسلے میں انھوں نے عوام سے چندے کی اپیل بھی کی۔اس مقصد کے لیے چیف جسٹس نے فنڈ بنانے کا حکم دیا اور ’دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018‘ کے نام سے قائم کیے گئے بینک اکاؤنٹ میں خود دس لاکھ روپے دیے۔

ثاقب نثار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے 15 لاکھ روپے اس فنڈ میں ڈال دیے۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی اعلان کیا کہ فوج کے افسران دو دن اور سپاہی ایک دن کی تنخواہ اس ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری افسران نے تین دن جبکہ پمز ہسپتال، سٹیٹ بینک وزارتِ خارجہ اور واپڈا کے اہلکاروں نے بھی اپنی تنخواہوں سے رقم اس فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیلات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 جولائی کی شام تک تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی رقم جمع ہو چکی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا چندہ جمع کر کے کوئی ڈیم بنایا گیا ہے یا ایسا ممکن بھی ہے؟

دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم
دیامیر بھاشا ڈیم کے قیام کا منصوبہ فوجی آمر اور صدر، جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے۔لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم ابھی تک صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔

4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ دریاؤں کے تحفظ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ریورز کے مطابق دنیا بھر میں بڑے ڈیم بنانے کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ ڈیم کی تعمیر کے لیے لگائے گئے ابتدائی تخمینے میں مسلسل اضافہ ہونا ہے۔

حکومت پاکستان کو بھی دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایے کی رہی جس کے لیے انھوں نے مختلف عالمی مالیاتی ادارے جیسے ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمینٹ بینک، آغا خان فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں لیکن ان تمام اداروں نے سرمایہ دینے سے معذرت کر لی اور اس کی وجہ ڈیم کی متنازع علاقے میں موجودگی بتائی۔یاد رہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم پاکستان کے گلگت بلتستان علاقے میں ہے لیکن انڈیا اسے ابھی بھی اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

گذشتہ سال پاکستان نے کوشش کی کہ پاک چین اقتصادی راہدراری کے مختلف منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کر لیں لیکن چین کی جانب سے رکھی گئی شرائط کی سختی کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔

اس سال مارچ میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سے 370 ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔ بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے جائیں گے۔

حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔

ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔

مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ
یہ ڈیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دریائے سوات پر بنایا جائے گا۔ واپڈا کی دی گئی معلومات کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر 2012 میں شروع ہونا تھی اور اسے 2016 میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک صرف پی سی ون ہی مکمل ہوا ہے۔

اس ڈیم کی تعمیر سے 800 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور 12 لاکھ ایکٹر سے زائد پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ڈیم کی پی سی ون کی لاگت 93 کروڑ روپے تھی جس میں امدادی ادارہ بھی رقم دے گا۔

کیا چندے سے ڈیم بن سکتا ہے؟
اس فنڈ کے تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا ڈیم جس کی تعمیر کا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر کا ہو اور تعمیر کا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو، کیا وہ محض چندے کی رقم سے بن سکتا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے شروع کیے گئے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے قائم کیے گئے اس فنڈ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی افادیت پر سوال اٹھائے۔

کالم نویس اور لندن کے کنگز کالج سے وابستہ دانش مصطفیٰ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے اس فنڈ نے انھیں نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سکیم ’قرض اتارو ملک سنوارو‘ کی یاد دلا دی ہے۔’دنیا میں کسی ملک نے ایسے منصوبے پر کام شروع نہیں کیا جس کی مالیت اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً دس فیصد حصے کے برابر ہو۔‘

پانی کے امور کے ماہر حسن عباس نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق دنیا میں کہیں بھی اتنا بڑا منصوبہ چندے کی مدد سے تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور ان منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے ہیں۔

’دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کے لیے اگر آپ پاکستان کے تمام شہری، بشمول نوزائیدہ بچے، اگر اس فنڈ کے لیے 30000 روپے دیں تو شاید کچھ بات بنے۔ لیکن کیا ہمارے ملک میں اوسط تنخواہ اتنی ہے؟ اس فنڈ بنانے کا خیال ناقابلِ عمل لگتا ہے۔‘

ماحولیاتی امور کے ماہر وکیل رافع عالم نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات میں پاکستان میں آج تک ایسا کوئی ڈیم تعمیر نہیں ہوا ہے جس کے لیے عوام سے چندہ لیا گیا ہو۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ لوگوں نے سپریم کورٹ کے عزم پر سوالات اٹھائے تھے اور امید کا اظہار کیا کہ قوم اسی فراخدلی کا مظاہرہ کرے گی جیسے 1965 کی جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ اس فنڈ میں ضرورت سے زیادہ رقم آجائے۔‘

لیکن حصار فاؤنڈیشن سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ سے ڈیمز کی تعمیر کی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔

ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔

’عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی فیصلہ لگتا ہے، نہ کہ کوئی سنجیدہ مشورہ۔‘

پانی ذخیرہ کرنے کے اہلیت اور پانی کا ضیاع
پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور 1967 میں مکمل ہوئے تھے۔حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تربیلا ڈیم ’ڈیڈ لیول‘ پر پہنچ گیا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں اب صرف آٹھ لاکھ ایکڑ فیٹ پانی رہ گیا ہے۔ ارسا نے مزید کہا کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی اسی سال آنے والی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔

ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے۔

گذشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ...