منگل , 20 نومبر 2018

شہداء یکہ توت پشاور کی یاد میں

(عرفان علی)
سانحہ یکہ توت پشاور افسوسناک ضرور ہے لیکن حیران کن ہر گز نہیں۔ ہارون بلو ر کے باپ بشیر احمد بلور کو بھی اسی تکفیری دہشتگرد گروہ نے قتل کیا تھا۔ تب اس گروہ کا ترجمان احسان اللہ احسان تھا۔ دس جولائی 2018ء کو جب عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے ایک چھوٹے جلسے کے شرکاء پر جب خودکش حملہ کیا گیا تو پاکستانی طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے بیان جاری کرکے اس کی ذمے داری قبول کی۔ قوم جان گئی کہ تکفیری دہشت گردوں کی نہ کمر ٹوٹی اور نہ ہی حوصلے پست ہوئے۔ کیا اسکا سبب آپکو نہیں معلوم کہ دہشت گردی کیوں نہیں رکی؟! توجہ کیجیئے کہ بشیر بلور کی شہادت جس سانحے میں ہوئی اس کی ذمے داری قبول کرنے کا اعلان کرنے والا احسان اللہ احسان کہاں ہے؟ کیا اس پر مقدمہ چلا؟ کیا اسے سزا ہوئی؟ کیا وہ جیل میں دیگر عام قیدیوں کی مانند سختیوں اور مشکلات سے دوچار ہے؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں تو احسان اللہ احسان کے جانشین محمد خراسانی کو ’’انجام‘‘ کا خوف کیوں ہوگا؟ اسی لئے اس ناچیز نے یہ جسارت کردی اور لکھ دیا کہ سانحہ یکہ توت پشاور حیران کن ہر گز نہیں۔

قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) نے پچھلے دنوں خبردار کرنے کے لئے ایک درجن تھریٹ الرٹ جاری کئے تھے۔ اس ادارے نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی اور امیر حیدر خان خان ہوتی، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام (متحدہ مجلس عمل) کے اکرم خان درانی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور حافظ سعید کے بیٹے پر دہشت گردانہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ نیکٹا نے خبردار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے اعلٰی عہدیداران پر بھی حملوں کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود سانحہ یکہ توت وقوع پذیر ہوگیا؟ پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں اور ناکامی یتیم کہلاتی ہے، اس لئے کوئی ادارہ اپنی ناکامی، نالائقی و نااہلی قبول نہیں کرے گا، لکھ کر رکھ لیں! کیونکہ ’’وہ‘‘ کہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم ہو چکی ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، ملک میں امن بحال ہو چکا ہے۔ اس ’’موقف‘‘ کی روشنی میں دیکھیں تو سانحہ یکہ توت پشاور کا وقوع پذیر ہو جانا،کم از کم دہشت گردی نہیں، کسی اور نوعیت کا جرم ہے!؟

سال 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے بھی کم از کم تین جماعتیں تکفیری دہشت گردوں کا کھلا ہدف تھیں اور انکے اجتماعات میں دھماکے یا خودکش حملہ آور پھٹا کرتے تھے۔ 27دسمبر 2007ء کو پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو بھی انتخابی مہم کے دوران ہی دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ خیبر پختونخواہ حکومت کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور کو دسمبر 2012ء میں دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ تیسری جماعت متحدہ قومی موومنٹ تھی جس کے انتخابی دفاتر پر اپریل اور مئی 2013ء میں دھماکے ہوئے تھے۔ قبل از انتخابات دہشت گردی کے متعدد واقعات 2013ء بھی پیش آئے تھے، تب چونکہ مخالفین کی نظر میں زرداری کی نااہل و نالائق حکومت کے پانچ سال گذرچکے تھے، اس لئے ملک سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکی لیکن نواز لیگی حکومت کے پانچ برس گذرتے ہی یہ سانحہ پھر کیسے ہوگیا؟ نواز لیگی حکومت سے ملکی سلامتی کے ضامن اداروں تک ہر سطح پر دہشت گردی ختم کرنے کا کریڈٹ لیا جا رہا تھا لیکن سانحہ دس جولائی نے کبوتروں اور شتر مرغوں کو پیغام دیا کہ آنکھیں بند کرنے سے بلی کا خطرہ نہیں ٹلا، سر زمین کے اندر ڈال دینے سے آفت نہیں ٹلی۔ کسی صحافی نے کہا کہ یہ خود کش دھماکہ دراصل پیغام تھا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس نے کس کو پیغام دیا؟۔

یہ حقیر پچھلے ڈیڑھ عشرے سے مختلف فورمز پر مستقل و مسلسل یہ عرض کرتا آیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی نے ہرگز نہیں رکنا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، دہشت گردی کو روکنے کے لئے بنیادی کام آج تک کسی نے شروع ہی نہیں کیا۔ پاکستان میں متشدد، نفرت پر مبنی تکفیری یعنی مذہبی انتہاپسندی ایجاد کرنے والا ایک ٹولہ پنجاب سے جنرل ضیاءالحق کے مارشل لائی دور میں ظہور پذیر ہوا تھا۔ اس تکفیری دہشت گرد ٹولے نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر انہیں اور ان کے ہم مسلکوں کو کائنات کا کالا کافر کہہ کر دیواریں کالی کردیں، کتابیں شائع کیں، کھلے عام اجتماعات کرکے تقاریر کیں۔ پاکستان کے اثناء عشری شیعہ مسلمانوں پر کفر کا فتوٰی لگا کر ان کی نسل کشی کا آغاز کیا۔ اس کے بانی کے نام سے ایک ذیلی دہشت گرد گروہ نے اس بانی دہشت گرد گروہ کی سرپرستی میں بے جرم و خطا پاکستانی شیعہ مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا، مساجد و امام بارگاہوں میں، ماتم و مجلس کے اجتماعات میں، شیعہ نمازیوں اور عزاداروں کی نسل کشی کی اور یوں پاکستان میں تکفیری ’’دہشت گردی کی ماں‘‘ کے عنوان سے بدنام زمانہ یہ ٹولہ پھلتا پھولتا رہا۔ اسکو حاصل ریاستی پروٹوکول پوری دنیا کے سامنے آشکار تھا۔ جیلیں توڑنا، شیعہ کمشنر سرگودھا کو شہید کرنا، سنی پولیس افسر اشرف مارتھ کو شہید کرنا، کارپوریٹ سیکٹر کے نامور شیعہ بزرگ کو شہید کرنا تو پاکستانیوں کی حد تک کے معاملات تھے، ایرانی سفارتکاروں، زیر تربیت فوجی کیڈٹس اور انجینیئرز کو شہید کرنے کے باوجود انہیں سزا تو درکنار ریاست نے غصے اور ناپسندیدگی کی نظر سے بھی نہیں دیکھا۔

اس کے برعکس ’’دہشت گردی کی ماں ‘‘ کو نوازا جاتا رہا، قانون ساز اداروں میں بھیجا جاتا رہا۔ اس وقت کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں دہشت گردی کی ماں پر پابندی کے باوجود اس کے سرغنہ کو قومی اسمبلی کا رکن بنوایا گیا۔ دنیا دکھاوے کے لئے وہ جیل میں تھا لیکن پھر بھی رکن قومی اسمبلی بن گیا اور مشرف کی جرنیلی سرکار کی چھپر چھاؤں میں میر ظفر اللہ خان جمالی کی وزارت عظمٰی کے تحت جو حکومت بنی اس کو صرف ایک ووٹ کی برتری حاصل تھی اور وہ ایک ووٹ دہشت گردی کی ماں کے اس سرغنہ کا تھا۔ کہنے کو امریکا مردہ باد تھا اور پرویز مشرف امریکی پٹھو حکمران تھا لیکن دہشت گردی کی ماں اور مشرف کے گٹھ جوڑ سے پاکستانیوں کو واضح پیغام دیا گیا کہ ’’سب چائنا ہے!‘‘ کہاں کا امریکا، کہاں کا امریکی پٹھو! تکفیریت کی سرپرستی کون کرتا آیا ہے اور کون کر رہا ہے، یہ حقیقت جو کوئی جانتا ہے، اس کے لئے پاکستان میں طالبانائزیشن اور اس فکر کا شجرہ خبیثہ کا موجود ہونا، بالکل بھی حیران کن نہیں ہے بلکہ طالبان تو خود ان تکفیریوں کے فکری فرزند ہیں۔ دہشت گردی کی ماں کے موجودہ سرغنہ کی تو وڈیو موجود ہے جس میں کہہ رہا ہے کہ فوج میں اب نعرہ حیدری نہیں لگے گا! نام سپاہ صحابہ رکھنے کے باوجود نعرہ حیدری سے بغض بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان کے پیٹ کا درد کچھ اور نوعیت کا ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہوگا کہ یہ تحریر اپنے آغاز سے بے ربط ہو چکی ہے لیکن ایسا سوچنا غلط ہے کیونکہ احسان اللہ احسان سے محمد خراسانی تک اور پاکستان طالبان سے کالعدم سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی تک سبھی کا ایک دوسرے سے نہ ٹوٹنے والا ربط ہے۔

سنی و شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دینے والانعرہ جس نے بھی ایجاد کیا اور جو کوئی بھی اس فکر کا حامل ہے خواہ وہ کوئی بھی نام رکھ لے یا نام تبدیل کرلے، ان سے دھوکا مت کھایئے، یہی وہ لوگ ہیں جو ایک طویل عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ شہید کا نام علامہ حسن ترابی شیعہ ہو، مفتی سرفراز نعیمی بریلوی ہو یا مفتی حسن جان دیوبندی، ان تینوں کا قاتل ایک ہی گروہ سے تعلق رکھتا ہے یعنی تکفیری، اور بشیر احمد بلور ہو یا انکا بیٹا ہارون بلور، بے نظیر بھٹو ہو یا کسی اور سیاسی جماعت کا کوئی قائد و رہنما، انکا قاتل بھی وہی ہے جو علامہ ترابی، ،مفتی نعیمی و حسن جان کا قاتل ہے۔ یہ پوری مملکت ایک ہی طرح کی دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس لئے ہم سب کا دکھ ایک ہے اور مشترکہ دکھ کا مداوا مشترکہ حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔ آج صرف متحدہ مجلس عمل پر انگشت نمائی کرکے اس سراب میں کیوں غلطان ہوا جا رہا ہے کہ ’’ہم‘‘ گنگا جل اشنان کرکے پاک پوتر ہو گئے جبکہ حقیقت کی دنیا میں آئیں تو پاکستان تحریک انصاف کا کوئی امیدوار بھی کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ کے دفاتر کا چکر کاٹتا آپ کو نظر آ ہی جائے گا جو منت سماجت کر رہا ہوگا کہ کسی طرح ان تکفیریوں کی حمایت مل جائے، چند ووٹ مل جائیں۔ یہ صرف جماعت اسلامی جھنگ کے رہنما نہیں ہیں بلکہ ملک کے سابق وزیراعظم نواز لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی بھی ہیں جو دہشت گردی کی ماں سے انتخابات میں حمایت کے طلبگار ہیں۔ اس منافقانہ سوچ کے ذریعے یہ مملکت تکفیریت سے نجات حاصل نہیں کرسکتی۔

تکفیری دہشت گرد گروہ کالعدم طالبان نے ہارون بلور کو شہید کرکے ایک اور مرتبہ یہ نکتہ اہلیان پاکستان کو باور کروایا ہے کہ نہ و ہ ختم ہوئے ہیں، نہ ہی انکی کمر سمیت کوئی بھی چیز ٹوٹی ہے۔ ملا فضل اللہ یا خراسانی جیسوں کے مارے جانے کی خبروں سے دل بہلانے والی اس قوم کو سمجھ جانا چاہیئے کہ ان کے سرغنہ مارے جائیں یا تبدیل کر دیئے جائیں، اس سے انکی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اپنی مرضی کی ٹائمنگ پر ہی کارروائی کرتے ہیں۔ کسی میں دم ہے تو روک کر دکھا دے! وہ یہ کرسکتے ہیں کیونکہ پاکستان وہ عجیب و غریب مملکت ہے جہاں کسی کو بھی حتٰی کہ بابائے قوم محمد علی جناح کو کافر کہنا نہ کوئی جرم ہے نہ عیب! یہ وہ الف لیلوی طلسم ہوشربا ہے کہ جہاں ریاست خود اگر کسی گروہ، تنظیم یا جماعت کو دہشت گرد قرار دے کر پابندی لگا دے تب بھی اس کا سرغنہ قانون ساز اداروں کا الیکشن لڑ سکتا ہے، جیت سکتا ہے، پارلیمنٹ کو تکفیری مناظرے کا اکھاڑا بنا سکتا ہے۔ اور یہ بھی صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ اسی کالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ کا نام فورتھ شیڈیول میں ڈالنے کے باوجود اس کو ریاستی اداروں کی طرف سے سکیورٹی پروٹوکول بھی دیا جاتا ہے، حتٰی کہ ایوان صدر میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا ہے اور اسی پر کیا موقوف، نشست بھی مشیر برائے امور قومی سلامتی ریٹائرڈ فوجی جرنیل کے برابر میں دی جاتی ہے اور تقریب کا عنوان ہوتا ہے (دہشت گردی کے خلاف) پیغام پاکستان!

اور یہ ہی وہ عجیب و غریب مملکت ہے کہ جہاں کالعدم دہشت گرد گروہ کو ریاستی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود ریاست کے آئینی و قانونی ادارے خود سے نااہل قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے لئے کسی راشد رضوی، کسی گل زہرا، کسی علامہ ساجد نقوی کے وکلاء کو یا پھر مخالف انتخابی امیدوار یا ووٹر کو عدالت میں جاکر ’’مائی لارڈ‘‘ کی خدمت میں عرضی پیش کرنا پڑتی ہے اور اس کے بعد بھی ’’مائی لارڈ ‘‘ کے موڈ پر منحصر ہے کہ وہ عرضی قبول کرے یا مسترد کر دے۔ جو ادارہ پابندی لگاتا ہے، جو قومی منصوبہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) بناتا ہے، جو انتخابی قوانین پر عمل کرنے والے ادارے ہیں، جو آئین کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس لینے کے ذمے دار ادارے ہیں، دیکھا یہ گیا ہے وہ خود کو ان ساری ذمے داریوں سے مستثنٰی قرار دے چکے ہیں اور جب باشعور سیاسی ورکر ’’نادیدہ قوتیں‘‘، ’’ ایجنسیاں ‘‘، "خلائی مخلوق” یا "محکمہ زراعت” کہہ کر متوجہ کرتا ہے تو وہ غدار وطن قرار پاتا ہے۔ میاں افتخار تم نے اپنا بیٹا کھویا، اے بلور خاندان تم نے اپنے دو لعل کھوئے، تمہارا اور ہمارا دکھ مشترک ہے۔ ہم پاکستان کے وہ بیٹے ہی جن کے خلاف تکفیریت کی شدھی تحریک چل رہی ہے ، ہاں ہم اس مادر وطن کے وہ بیٹے ہیں جن کو غیر اعلانیہ طور دلت و شوہر قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ پچھلے چار عشروں سے یہ جناح و اقبال کا پاکستان نہیں بلکہ سعودی بادشاہت کی کالونی ہے۔ جس آئیڈیالوجی کے پیروکاروں نے جنت البقیع کے مزارات اقدس کو خاک کا ڈھیر بنا دیا، اس سے خیر کی توقع؟!۔ ہارون بلور تو مجھ جیسا کوئی گناہگار آدمی ہو گا، اس طلسم ہوشربا میں تو داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی، بری سرکار، پاک پتن سرکار، لعل شہباز قلندر، مخدوم بلاول نورانی اور رحمان باباجیسے بزرگان کے مزار ات تک خودکش بمباروں کی دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں، ہم کس گنتی میں ہیں!

یہ بھی دیکھیں

لیڈر کا یو ٹرن

(مجیب الرحمن شامی) وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ ...