بدھ , 26 ستمبر 2018

اب مذمت نہیں احتجاج ہوگا

(تحریر: عالیہ شمسی)
آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، داتا دربار پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، کوئٹہ مِیں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، تفتان باڈر کے راستے پر زائرین کے خون سے کھیلی گئی ہولی کی شدید مذمت کرتے ہیں، آرمی کے نوجوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے والے دہشت گردوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، پشاور میں ANP کی انتخابی مہم پر ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ میں کتنے واقعات کا ذکر کروں، ہر روز ایک نیا واقعہ، ہر روز کسی نہ کسی جگہ پر دہشت گردی۔ اے میری پاکستانی قوم تم کس کس کی مذمت کرو گے، کیا یہی بچا ہے کہ جب بھی کوئی واقعہ ہوا، بس مذمت کر دی، دو دن اخبارات میں سوشل میڈیا پر اور صحافیوں کے لائیو پروگراموں میں خوب مذمت کی جاتی ہے، لیکن تیسرے دن کسی کو خبر تک نہیں ہوتی:

یہ کس کا لہو ہے یہ کون مرا
اور تو اور یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، مجھے سمیت بہت سے لوگ سیاسی، سماجی اور مذہبی افراد اسطرح کے ملے جلے بیانات دے کر اپنی غیر اخلاقی ذمہ داری پوری کر دیتے ہیں، لیکن کوئی بھی جرأت کرکے اس حملے یا دھماکے کے پیچھےچھپے محرکات کا نہ تو ذکر کرے گا اور نہ ہی آواز اٹھائے گا۔

الیکشن کا مرحلہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ کچھ نادیدہ قوتیں چاہتی کہ ماضی میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور ان کے رہنماوں کو الیکشن لڑوا کر قومی دھارے میں شامل کیا جائے، پھر چند دن پہلے پتہ چلا کہ فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم جماعت کے مرکزی رہنما احمد لدھیانوی کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ سے نکال دیا گیا، یہ آرڈر الیکشن سے صرف چند روز قبل کس کے کہنے پر جاری ہوا؟؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔؟ پھر کان میں آواز پڑی کے کچھ نادیدہ قوتیں چاہتی ہیں کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں، جس پر پی پی پی، مسلم لیگ نون، اے این پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں نے ایک واضح پیغام دیا کہ الیکشن ہر حال میں اپنی مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے. پھر آج ایک کالعدم دہشت گرد جماعت ASWJ کے مرکزی صدر اورنگزیب فاروقی کی جانب سے اس کے آفیشل ٹیوٹر اکاونٹ سے ایک پیغام جاری ہوا کہ کالعدم دہشت گرد جماعت ASWJ پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

یہ کیا ہو رہا ہے، کل تک جن کے خلاف آپریشن ضرب عضب ہو رہا تھا، کل تک جو دہشت گرد تھے، کل تک جو پاکستان اور پاکستانی فوج اور عوام کے کھلے دشمن تھے، جو پاکستان کی امنیت کے دشمن تھے، وہ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی کس طرح سے پاک و پاکیزہ اور نیک بن گئے کہ الیکشن میں شرکت کے لئے ان کی درخواستیں بھی قبول کر لی جاتی ہیں اور ان کو فورتھ شیڈول سے بھی نکال دیا جاتا ہے، ان کی کالعدم جماعتیں جن پر گذشتہ کئی برسوں سے پابندیاں عائد تھیں، وہ فوراً ختم کر دی جاتی ہیں۔ ان سب کے پیچھے کون ہے اور وہ لوگ کیا چاہتے ہیں، جب تک ان سوالوں کا جواب نہیں ملے گا، تب تک اس ملک سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔! ذرا سوچئے! الیکشن سے صرف پندره روز قبل ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ 2012ء میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دی گئی جماعت پر سے پابندی اٹھالی گئی اور جب ایک دہشت گرد تنظیم پر سے پابندی اٹھائی جائے گی تو نتیجہ پشاور دھماکے کی صورت میں سامنے آئے گا اور دوسری طرف عین اسی دن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کالعدم سپاه صحابہ اور داعش کے رہنماوں سے ملاقات بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔؟؟

اب جاگنے کا وقت آگیا ہے، خدارا اپنے آپ کو بیدار کریں، جب تک ہم سب بیدار نہیں ہونگے، تب تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا ہماری فوج کے جوان اسی طرح قربان ہوتے رہیں گے، ہماری مائیں، بہنیں اپنے بچوں اور جوانوں کی لاشوں پر اسی طرح بین کرتی رہیں گی، جب تک پاکستان میں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے، یہ سلسلہ جاری رہے گا، خودکش حملے ہوتے رہیں گے!!!! آج یہ دہشت گرد جو الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب ہو جاتا تو پھر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کے خون کو مباح کرنے اور ان کے خون سے ہولی کھیلنے کے لئے کون کون سے قانون بنائیں گے، یہ خدا ہی جانتا ہے، اگر آج ان لوگوں کا راستہ نہ روکا گیا تو کل ان کو لگام دینا مشکل ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ناممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ حکومت بھی ان لوگوں کا ساتھ دے رہی ہے، لیکن وہ عوامی جماعتیں جو ان کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، ہمیں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے، جو لوگ دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور پرامن احتجاجی مظاہرے کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے۔ میری ان تمام لوگوں سے جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، گزارش ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں، خداوند ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

یہ بھی دیکھیں

بعد از کربلا

(سید نور اظہر جعفری) ہر نتیجہ کسی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہر ...