پیر , 16 جولائی 2018

امریکہ کا اربیل میں قونصلیٹ بنانے کے پیچھے کیا مقصد؟

(تسنیم خیالی)
تمام عراقی سیاسی جماعتوں کے منہ پھیرنے کے بعداور عراق میں تاریخی عسکری شکست سے دوچار ہونے کے بعد امریکیوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ عراق میں پھر سے کس دروازے سے داخل ہوں ، تبھی تو امریکہ نے عراق کردستان کے مرکزی شہر اربیل میں دنیا کے سب سے بڑے امریکی قونصلیٹ بنانے کا اعلان کیا ہے، آخر امریکہ اس اقدام کے ذریعے کیا کرنا چاہتا ہے؟

قونصلیٹ کا پروجیکٹ:
امریکہ نے اربیل میں پہلی مرتبہ 2007ء میں ’’ڈپلومیٹک نمائندگی کے غرض سے ایک دفتر کھولا ، چار سال بعد امریکہ نے اس دفتر کو چھوٹے قونصلیٹ میں تبدیل کیا، اور ایک سال قبل امریکہ نے اربیل میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی قونصلیٹ بنانے کا اعلان کیا آج اس پروجیکٹ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جس کی وجہ سے عراقی بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں ، خاص طور پر وہ عراقی جن کا امریکہ پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے، اس امریکی پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت 600ملین ڈالر ہے اور اس کی بنیاد رکھنے کی تقریب میں کردستان کے وزیر اعلیٰ ۔۔بارزانی، عراق میں متعین سفیر ڈاگلاس سلیمان اور اربیل میں متعین امریکی قونصل شریک تھے، عراقیوں کو یہ پریشانی لاحق ہوگئی ہے کہ مستقبل میں یہ قونصلیٹ ’’ریاست کردستان‘‘ میں امریکی سفارت میں تبدیل نہ ہوجائے، خاص طور پر کہ امریکہ آزاد کرد ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے امریکی قونصلیٹ بنانے سے کیا اشارے ملتے ہیں؟
۱۔ امریکہ سات سال قبل عراق سے شکست زدہ ہو کر نکلا تھا جس کے بعد عراق میں اس کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی، اب امریکی عراق میں پھر سے داخل ہونے کے لیے کردستان کا دروازہ استعمال کررہے ہیں ، یہ بھی واضح رہے کہ کردوں کو امریکہ نے ہمیشہ سے دھوکہ دیا اس کے باوجود امریکیوں اور کردوں کو ایک دوسرے کی اشد ضرورت ہے، آخر الذکر تو امریکہ شدید محتاج ہے، کیونکہ عراق سمیت کردوں کے گرد تمام ممالک عراق میں آزاد کرد ریاست کے قیام کے مخالف ہیں۔

۲۔ امریکہ کو اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ عراق میں موجود سیاسی ماحول اس کے مفاد میں نہیں خاص طور پر کہ عراقی انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتیں امریکہ کی مخالف ہیں۔

۳۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ عراقی اربیل میں بڑےامریکی قونصلیٹ کے قیام سے پریشان ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ امریکہ عراق کو تقسیم کرنے کیلئے بے تاب ہے اور اب اس کوشش میں تیزی لارہا ہے، کیونکہ عراق میں اقتدار امریکہ سے نفرت کرنیوالوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔

۴۔ آج کرد ستان علیحدگی ریفرنڈم سے قبل کی طرح طاقتور نہیں، اس ریفر نڈم کے نتائج نے کردوں پر منفی اثرات مرتب کیے ، اس طرح کردوں کا امریکیوں کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعاون اور اتحاد سب سے پہلے خود کردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

۵۔ امریکہ نے عراقی انتخابات میں امریکہ مخالف جماعتوں کے جیت جانے کے بعد اب یہ کوشش کرنی ہے، کہ عراقی حکومت اور کردوں کے درمیان ہونے والے کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت اس کے ہی ذریعے ہو اور و ہ ان مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرے۔

بہرحال امریکہ کی ڈپلومیٹک راہوں سے عراق میں واپسی عراقی معاملات کو مزید پیچیدہ کردے گی لہٰذا عراقی عوام بشمول کردوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ امریکی دخل اندازیوں کو روکیں کیونکہ ان دخل اندازیوں سے تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا اور گذشتہ کئی مہینوں سے امریکہ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان کردوں کو ہی لاحق ہورہا ہے خواہ یہ کرد عراق کے ہوں یا پھر شام کے ۔

یہ بھی دیکھیں

دو مزید سانحات اور چند تلخ سوالات

  (حیدر جاوید سید) کل جب نابالغ الیکٹرانک میڈیا ایون فیلڈ کیس میں سزا پانے ...