منگل , 25 ستمبر 2018

کالعدم جماعتیں، ریاستی حکمت عملی اور ہماری ذمہ داری

(محمد امین شہیدی)

ایک عرصے سے ہماری عسکری اسٹیبلشمنٹ ان خطوط پر کام کر رہی تھی کہ ملک کے اندر موجود کالعدم فرقہ پرست اور دہشت گرد تنظیموں اور ان کے ملکی سہولت کاروں کو ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں کردار دیا جائے اور ان کو دہشت گردی اور فرقہ وارانہ شدت پسندی سے الگ کیا جائے اس حوالے سے گذشتہ دس سالوں میں جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے ایک مرکزی کردار ادا کیا۔

دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم کی تشکیل کے متعدد اہداف میں سے ایک اہم ہدف جماعت الدعوہ کے ساتھ ساتھ سپاہ صحابہ جیسی کالعدم تکفیری جماعتوں کو سیاسی میدان میں کردار دینا بھی تھا اگرچہ بعد میں سپاہ صحابہ دو حصوں لدھیانوی گروپ اور ملک اسحاق گروپ میں تقسیم نظر آئی، لدھیانوی گروپ سیاسی میدان میں اپنی بقاء دیکھتا تھا، ملک اسحاق کی توجہ داعش کی جانب تھی، ملک اسحاق کی اپنے اہم ساتھیوں سمیت خاتمے کے بعد اس پروگرام کی سنجیدگی میں کافی حد تک اضافہ ہوا، فیصلہ یہ کیا گیا کہ مختلف مسالک کے علمائے کرام سے مل کر ’’پیغام پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک نیا بیانیہ جاری کیا جائے جس کے تحت فرقہ وارانہ تشدد، دہشت گردی اور ملکی و قومی اساسوں اور اداروں پر حملوں اور وطن عزیز کی مسلح قوتوں پر خود کش حملوں سمیت بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو حرام قرار دیا جائے۔

متعلقہ فوجی ذمہ داران نے مختلف مسالک کے قابل ذکر تمام علماء سے ملاقاتیں کیں اور ’’پیغام پاکستان‘‘ مشن پر گفتگو کی، اس لئے ’’پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے پاکستان میں موجود مختلف مسالک کے علماء اور مفتیوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ پر دوہزار سے زیادہ اہم علماء و شخصیات کے دستخط لینا ان کے لئے زیادہ مشکل نہ تھا، اس اعلامیئے پر ملت تشیع میں سے تحریک جعفریہ کے قائد علامہ ساجد نقوی اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی دستخط کئے جامعۃ المنتظر کے ناظم اعلیٰ علامہ حافظ ریاض حسین نجفی سمیت کئی دیگر علماء نے بھی قبول کیا اور امت واحدہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے راقم الحروف نے بھی تائید اور دستخط کئے۔

اس سال جنوری کے دوسرے عشرے میں ایوان صدر اسلام آباد اور بعد ازاں سندھ اور کراچی میں اسی عنوان سے مختلف کانفرنسز کا انعقاد اور شدت پسند کالعدم جماعتوں کے راہنمائوں سمیت مختلف مسالک اور مذہبی جماعتوں کے معتبراور معتدل علماء کی ان کانفرنسز میں شرکت کا اصل مقصد بھی ماضی کی شدت پسندی کی فضاء کا خاتمہ اور کالعدم جماعت کو سیاسی میدان میں کردار دینا ہی تھا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں عسکری عہدیداروں کی میزبانی میں گذشتہ سال ستمبر میں ایک تفصیلی نشست کی خبریں اور اس کے شرکاء اور گفتگو کے موضوعات کے بعض جستہ و گریختہ اور مختصر نکات سوشل میڈیا کی زینت بنے لیکن بعض شیعہ لیڈرز نے اسکی تردید کر دی، شیعہ مذہبی جماعتوں کے ان معاملات میں سیاسی کردار کے حوالے سے میرا ہمیشہ سے ایک واضح دو ٹوک اور شفاف موقف رہا ہے کہ:
ہمیں من حیث مکتب اہل بیت اس بات پر فخر ہے کہ ہمارا مکتب اور ہماری آئیڈیالوجی نہ صرف دہشت گردی، قتل اور تکفیریت کے سخت خلاف ہے بلکہ ہمارا بنیادی اصول ہی ظالم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت ہے لہٰذا تکفیریت، دہشت گردی اور مذہبی منافرت کے حوالے سے ہماری قومی، مذہبی پلیٹ فارم کی دعویدار جماعتوں کو معذرت خواہانہ یا مصلحت پسندانہ رویہ اپنانے کی بجائے واضح، شفاف، شجاعانہ اور مدلّل موقف اپنانا چاہئے۔

اس سلسلے میں ہمیں تکفیری، شدت پسند دہشت گردوں کے بارے میں وہی موقف اپنانا چاہئے جو اس سے قبل ہم نے طالبان سے مذاکرات کے بارے میں اپنایا تھا یعنی قاتلوں کو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق سزا دلوانا اور ہتھیار پھینکنے والوں میں سے بھی قتل و مقاتلہ کرنے والوں کو سزا دلوانے کے بعد باقی ماندہ لوگوں کی فکری تطہیر اور بعد ازاں ان کی معافی کا اعلان کیا جائے۔

جن تکفیری متشدد فرقہ پرست دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں گذشتہ 35 برس میں 25 ہزار سے زائد اہل تشیع اور ہزاروں اہل سنت کو قتل کیا انہیں دو چار اجلاسوں اور خفیہ میٹنگز کے بعد بیک جنبش قلم معاف کرنا یا ایک آرڈر کے ذریعے تمام پابندیوں سے مستشنیٰ قرار دینا نہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور نہ ہی شریعت کی روح کے مطابق اور اگر ایسا ہو جائے تو قومی نمائندگی کی دعویدار سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے خلاف تمام قانونی اور سیاسی راستے اپنائیں۔

دوسرا نکتہ یہ کہ ہماری انہی جماعتوں کی خاموشی، ہلکا پن یا چھوٹی سی کمزوری سے ان متشدد تکفیری جماعتوں کو بہت زیادہ استفادہ کا موقع ملتا ہے اس لئے انہیں ہر فورم پر تمام مادی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بہادری اور جرأت مندی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ ریاستی اداروں نے بیلنسنگ پالیسی کے تحت مجرم اور مظلوم کو اور شدت پسند اور امن پسند کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا ہے جس کی ایک زندہ مثال سپاہ صحابہ پر پابندی کے ساتھ تحریک جعفریہ پر پابندی لگانا ہے ورنہ علامہ ساجد نقوی صاحب کی امن پسندی کا ایک زمانہ معترف ہے، اسی وجہ سے پاکستان میں کوئی سیاست دان یا مذہبی راہنما انہیں دہشت گرد نہیں کہتا لیکن سپاہ صحابہ کی دہشت گردی کا انکار ان کے اپنے مکتب کے علماء بھی نہیں کرتے اس لئے پابندی کے باوجود علامہ ساجد نقوی، MMA کا حصہ ہیں لیکن سپاہ صحابہ خواہش اور مسلسل کوششوں کے باوجود اس کا حصہ نہیں بن سکی، لیکن حیرت انگیز طور پر ہمیشہ سپاہ صحابہ کی پالیسی’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ والی رہی جب کہ تحریک جعفریہ کی پالیسی ہمیشہ دفاعی، مصلحت پسندانہ اور اپنی حقانیت اور مظلومیت کے باوجود ظلم کے خلاف خاموشی، سکوت اور سب کو ہر قیمت پر راضی رکھنے والی رہی، شاید یہی رویہ تھا جس نے عوام میں تحریک جعفریہ کو بے حد نقصان بھی پہنچایا کہ اپنے قانونی، آئینی اور مذہبی آزادی کے حق کے لئے عوامی اور سیاسی میدان میں آواز اٹھانے میں انہیں کونسی مجبوری مانع ہے۔

رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے آغاز میں ’’پیغام پاکستان‘‘ پراجیکٹ کے ذمہ دار جنرل صاحب کی جانب سے ایک افطار ڈنر میں مجھے بھی دعوت دی گئی، شرکاء کا تعارف پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس دعوت میں تحریک جعفریہ کے علامہ ساجد نقوی صاحب اور مجلس وحدت مسلمین کے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب بھی شریک ہیں، رمضان المبارک کی بے تحاشہ مصروفیات کی وجہ سے میں نے معذرت کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کم از کم آٹھ بار فون کیا گیا اور موضوع اور نشست کی اہمیت اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے مقابلے کے پیش نظر شرکت پر زور دیا گیا یوں میں نے حامی بھر لی۔ دعوت میں بعض اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی علمائے کرام کے ساتھ جناب علامہ سید افتخار حسین نقوی اپنی ذاتی حیثیت میں اور جناب علامہ عارف واحدی صاحب تنظیمی نمائندگی میں موجود تھے، مجلس وحدت مسلمین کی کوئی نمائندگی نہیں تھی لیکن علامہ ساجد نقوی اور علامہ ناصر عباس جعفری صاحب بھی موجود نہ تھے۔

میزبان جنرل صاحب اور ان کے ساتھی، مہمانوں سے مختلف عمومی موضوعات پر گفتگو کر رہے تھے کچھ دیر بعد محفل میں سپاہ صحابہ کا سربراہ لدھیانوی اور صدر دونوں داخل ہوئے، لدھیانوی ہال میں داخل ہو کر سب سے مصافحہ کے بعد میرے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج کے دور کا قاتلِِ سیدنا حمزہ، ’’وحشی‘‘ میرے سامنے بیٹھ گیا ہے، میں صبر نہ کر سکا اس لئے میں نے اپنی نشست چھوڑ دی اور ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا، لدھیانوی کو یہ بات محسوس ہوئی اور اس نے جنرل صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تو اتحاد چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ ایسا دن آئے کہ علامہ شہیدی صاحب یہاں سے اٹھ کر دور جا کر نہ بیٹھیں بلکہ ہم ساتھ ساتھ بیٹھ سکیں، بعدازاں جنرل صاحب نے اس دعوت اور نشست کے اغراض و مقاصد کو بیان کرنا شروع کیا اور ’’پیغام پاکستان‘‘ پروجیکٹ کے پس منظر، اہداف اور اب تک ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالی، پھر شرکاء محفل سے اب تک کی کارگزاری اور پیغام پاکستان کو معاشرے میں عام کرنے اور شدت پسندی کی روک تھام کے حوالے سے اب تک کی ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا۔

محفل میں شریک مختلف علمائے کرام اور کالعدم شدت پسند جماعتوں کے سربراہان کی گفتگو سن کر محسوس ہوا کہ

۱۔ کالعدم جماعتوں نے بیک گراونڈ میں بھی شدت پسندی میں کمی کے حوالے سے بعض اقدامات کئے ہیں اور مزید اقدامات کر رہے ہیں جس کی رپورٹ دی جا رہی تھی۔

۲۔ دونوں کالعدم جماعتوں کے لیڈرز کے مابین ایک ہم آہنگی پیدا کی جا چکی ہے اور دونوں جماعتوں کے لیڈرز ایک دوسرے کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ بیک ڈور رابطے بھی جاری ہیں۔

۳۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ عسکری طاقتوں سے یہی ہے کہ اب ان پر سے 16 سال سے عائد پابندی ختم کی جائے اور انہیں سیاسی میدان میں مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

۴۔ دونوں جماعتیں شد ت پسند سرگرمیوں سے عملی طور پر لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہیں اور مستقبل کے حوالے سے پرعزم ہیں۔

۵۔ دونوں جماعتیں عسکری قوتوں کی اس نئی پالیسی سے مکمل اتفاق بھی کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مکمل طور پر تعاون بھی کر رہی ہیں۔

۶۔ دونوں جماعتوں کو ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کرنے اور باہمی تعاون پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

۷۔ دونوں جماعتوں کو عوامی ردعمل اور سوشل اور نیشنل میڈیا میں خبروں کی نشرواشاعت کا خوف لاحق ہے۔

لیکن اس محفل میں دونوں جماعتوں کے درمیان ایک فرق بھی سامنے آیا وہ یہ کہ سپاہ صحابہ کے لیڈرز کو ریاست سے گلہ اور شکوہ تھا کہ ان کی امن کے قیام کے لئے کی گئی تمام کوششوں کے باوجود اب تک انہیں بدنام زمانہ شیڈول فور کی لسٹ میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف کینٹ ایریاز میں ان کے گزرنے پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے لہٰذا ان کے خلاف شیڈول فور کا قانون ختم کر دینا چاہئے اور ان کی جماعت پر پابندیاں بدستور قائم ہیں۔

جبکہ شیعہ کالعدم جماعت کے لیڈر کا مطالبہ تھا کہ سپاہ صحابہ سے پابندی ختم کر دی جائے ہمیں ایک شیعہ جماعت کی حیثیت سے ان پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس کے برعکس سپاہ صحابہ کے لیڈرز کا ریاست سے شیعہ کالعدم جماعت سے پابندی ہٹانے کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

شرکاء کی گفتگو کے بعد میزبان جنرل صاحب نے مجھ سے اپنی آراء دینے کی درخواست کی۔ میں نے محفل میں جو گفتگو کی اس کے چیدہ چیدہ نکات یہاں بیان کرتا ہوں۔

الف۔ پاکستان اس وقت بین الاقوامی اور داخلی طور پر ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے ایک طرف ہمارا ازلی دشمن ہندوستان، پاکستان کے اندر مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ہمارے امن کو تباہ کر رہا ہے، دوسری طرف شدت پسند مذہبی گروپس، طالبان اور داعش کے ذریعے فرقہ وارانہ جنگ، نفرت، نیز قتل و دھماکوں کے ذریعے بد امنی پھیلا رہا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان عسکری اور اقتصادی معاہدوں کے علاوہ انٹیلیجنس شیئرنگ (Intelligence Sharing) کے معاہدے بھی موجود ہیں اس لحاظ سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان، KPK اور بعض دیگر علاقوں کے مسائل میں اسرائیل بھی بلاواسطہ اور بالواسطہ اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کو تباہ کرنے کے در پے ہے، ہمارا یہ خیال ہے کہ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان کو موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ کوئی سیاسی جماعت دشمنوں کی سازشوں سے نہیں بچا سکتی کیونکہ کوئی جماعت اب قومی اور ملکی نہیں رہی، سب علاقائی جماعتیں بن چکی ہیں، ایسے میں صرف پاک فوج ہی اس ملک کو بیرونی جارحیت اور داخلی بد امنی سے بچا سکتی ہے، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ شدت پسند اور دہشت گردی میں ملوث مذہبی جماعتیں بھی اس مقصد میں ہندوستان اور اسرائیل کی شعوری یا لا شعوری طور پر اتحادی ہیں، ایک اسرائیلی معتبر ویب سائٹ نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں فعال دو مولوی حضرات (مولوی سمیع الحق اور مولوی لدھیانوی) کا نام لیکر کہا کہ یہ دونوں حضرات پاکستان میں اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت کو چاہئے کہ روز ایک ٹینک کم بنائے اور اس کی قیمت ان دو مولوی حضرات کو دے، پھر اسرائیل کو پاکستان میں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مولوی حضرات کو کنٹرول کیے بغیر کیا پاکستان میں امن اور آشتی کا خواب پورا ہو سکتا ہے؟

ب۔ اس محفل میں دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع علمائے کرام تشریف فرما ہیں ، ان تمام حضرات کے ایک دوسرے کے بارے میں فتاویٰ پڑھیئے، اہل حدیث نے دیوبندیوں اور بریلویوں کو کافر کہا ہے، دیوبندیوں نے اہل حدیث اور بریلویوں کو کافر، مشرک اور بدعتی کہا ہے، بریلویوں نے دیوبندیوں اور اہل حدیث کو کافر اور گستاخ کہا ہے اور ان تینوں مسالک کے شدت پسند مولوی حضرات نے اہل تشیع کو بھی کافر کہا ہے، یعنی آج کی یہ محفل مسلمانوں کی نہیں بلکہ کافروں کی ہے، اس تکفیری سلسلے کی وجہ یہ ہے کہ گلی محلے کا مولوی اور مفتی اپنی کسی بھی مخاصمت میں اٹھ کر دوسرے پر فوراً کفر کے فتوے داغ دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ان فرقوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ کا کلمہ پڑھا ہے یا صحابہ کا؟ یاد رکھیے! شیعہ اور سنی دونوں نے اہل بیتؑ یا صحابہ کا کلمہ نہیں رسول اللہ کا کلمہ پڑھا ہے اور جو رسول اللہ کا کلمہ پڑھے وہ مسلمان ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ اپنے کسی خاص امتیاز کی بنیاد پر اللہ اور رسول کا کلمہ پڑھنے والے ایسے مسلمان کو کافر کہے۔

مکتب اہل بیت کے کسی موجود لٹریچر میں آپ کو دوسرے کسی فرقے کے بارے میں کافر کافر کا فتویٰ نہیں ملے گا بلکہ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے دوسرے مسالک اور فرقوں کے مقدسات کی توہین کو شرعاً حرام اور قانوناً جرم قرار دیا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ مکتب تشیع میں فتویٰ کا اختیار صرف اس شخص کو حاصل ہے جو مکمل مجتہد ہو اور فقیہ کے درجے پر فائز ہو اسی طرح جس طرح اہل سنت میں امام ابو حنیفہ ایک مجتہد اور فقیہ کے مقام پر فائز ہیں۔

ج۔ اگر اب بھی آپ اکثر دینی مدارس اور مذہبی اداروں کی ویب سائٹس پر جا کر دیگر فرقوں کے حوالے سے ان کے فتاویٰ پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ کوئی بڑا مدرسہ ایسا نہیں ہے جس نے دوسرے مسلک کو کافر، زندیق، بدعتی، مشرک نہ کہا ہو۔ آپ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر چلے جائیے آپ کو انہی مولوی صاحبان کی غلیظ ترین تقریریں ملیں گی کہ مخالف فرقہ گمراہ، کافر، مشرک، زندیق اور بدعتی ہے، تو کیا یہ مولوی صاحبان تائب ہو چکے ہیں؟ کیا ایک دوسرے کے خلاف ایسے فتاویٰ واپس لیے جا چکے ہیں؟ کیا ایسے متشدد مولوی صاحبان کی زبان بند ہو چکی ہے؟ اگر نہیں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ 2000 مولانا صاحبان کے دستخط سے ایک کتاب 5000 کی تعداد میں پرنٹ کرنے اور ایوان صدر اور گورنر ہائوس میں چند کانفرنسز کے انعقاد اور ان میں ایسے ہی مولوی صاحبان کو مرغن غذائیں کھلانے سے اتنا گھمبیر قومی مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟

ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ آج کی محفل میں شریک یہ 12 علماء کیا 22 کروڑ عوام اور چاروں مسالک کی مکمل نمائندگی کر رہے ہیں؟ کیا ان پر انہی کے مسالک کے لوگوں کی اکثریت کا اعتماد ہے؟؟

MMA سے ہزار اختلاف کیجئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے مینار پاکستان میں ایک بڑا اجتماع کر کے تمام اسلامی مسالک کے علماء کی موجودگی میں اتحاد و وحدت کا جو پیغام دیا ہے وہ قابل تحسین اور لائق تقلید ہے۔

اگر ہماری فوج ملک سے فرقہ وارانہ سوچ اور مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اور بنیادی قدم اٹھانا چاہتی ہے تو اس کے لئے چند امور کی طرف مکمل توجہ ضروری ہے۔

(۱) متنازعہ، فرقہ وارانہ اور تشدد پر ابھارنے والے مولویوں کی مکمل زبان بندی کی جائے اور اس کے لئے تمام مسالک کے اتفاق رائے سے قانون سازی کی جائے۔

(۲) پاکستان میں ناحق قتل ہونے والے تمام شہداء کے خانوادوں کی دلجوئی اور تشفی کی جائے اور قاتلوں کو اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے سخت ترین سزائیں دی جائیںاور اپنے ماضی پر پشیمان اور تائب لوگوں کو اصلاح کا موقع دیا جائے۔

(۳) تمام مسالک کی تنظیم المدارس کے علماء پر مشتمل کونسل بنائی جائے اور ان کے ذریعے ہر مسلک کے معتبر علماء کو جمع کر کے پاکستان میں موجود تمام اسلامی فرقوں کے بارے میں مشترکہ فتویٰ صادر کیا جائے۔

ملک میں موجود تنظیمات مدارس، تمام مسالک کے مدارس اور علماء کو آرگنائز کرنے کے ادارے ہیں اور فتویٰ ہمیشہ مدارس اور علماء کی طرف سے صادر کیا جاتا ہے اس لئے فوج کو چاہئے کہ تنظیمات مدارس کے ذمہ داروں کو اعتماد میں لے کر ایسی فضاء بنائے کہ تمام مسالک کے علماء اور طلبہ کے مشترکہ اجتماعات ایک دوسرے کے مدارس میں ہوں اور وہاں علماء اور طلبہ کو گھلنے ملنے کا موقع ملے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سننے کا موقع ملے تا کہ شدت پسندی کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور ایسے اجتماعات کی قومی سطح پر میڈیا کے ذریعے تشہیر کی جائے، اگر بجائے کاسمیٹک اور سطحی اقدامات کے یہ بنیادی اقدامات انجام دیے جائیں تو یقینی طور پر پاکستان میں تکفیریت، فرقہ واریت اور مذہبی جنونیت و دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

یہ نکات اس محفل میں کی گئی گفتگو کا خلاصہ ہیں، اس گفتگو کے درمیان شدت پسند کالعدم جماعت کے سربراہوں کے چہرے کا اضطراب اور تلملاہٹ دیدنی تھی۔ گفتگو سننے کے بعد جنرل صاحب نے اپنی زبان میں جو الفاظ ادا کئے وہ یہ تھے کہ:

’’آپ نے میرے دل کی باتیں کی ہیں مجھے مکمل اتفاق ہے ہم انہی خطوط پر کام کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

لیکن چند روز قبل ایک خبر قومی میڈیا میں نشر ہوئی کہ کالعدم دہشت گرد جماعت کے سربراہ اور اس کے بعض ساتھیوں کو شیڈول فور(4) سے نکال دیا گیا، انہیں کلین چٹ دے دی گئی، ان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز بحال اور ان کے منجمند اکائونٹس کھول دیے گئے اور انہیں انتخابات میں شرکت کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی۔۔۔!!!

ایک اور خبر یہ بھی آئی کہ ایک منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے جس کے مطابق تمام شدت پسند تنظیموں سے وابستہ مسلح اور تربیت یافتہ افراد کو اب باقاعدہ ایف سی، رینجرز، پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں میں ملازمت دی جائے گی تا کہ ان کے بیوی بچے ایک خوشحال زندگی گزار سکیں۔۔۔!!! انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس صورتحال میں کئی سوالات اٹھتے ہیں
کیا وجہ ہے کہ اس بار کے فیصلے ماضی کی بیلنسنگ پالیسی کو بھی نظر انداز کر دیا گیا اور واضح طور پر دہشت گرد جماعت کے سرغنے کو کلین چٹ دے دی گئی لیکن تحریک جعفریہ کے بے گناہ قائدین کو یہاں بیلنس بھی نہیں کیا گیا اور وہ اب بھی شیڈول فور (4) میں ہیں؟؟؟؟ اس کی ایک وجہ ہماری مذہبی جماعتوں کا مصلحت پسندانہ اور ظلم کے خلاف نہ بولنے والا رویہ ہے؟ باقی وجوہات پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ شدت پسند فرقہ پرست مولویوں کی تقریروں سے جو جوان گمراہ ہوئے اور انہوں نے ہزاروں بے گناہ انسانوں کو مذہب اور دین کے دھوکے میں قتل کیا جب فکری تطہیر اور جزا و سزا کے مراحل طے کئے بغیر انہیں آپ سرکاری وردی اور سرکاری اسلحہ بھی تھما دیں گے تو اس کے بعد وہ قانون کی وردی میں کیا کیا مظالم ڈھائیں گے؟؟؟ کیا مقتدر حلقوں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے؟

عام معاشرہ میں بسنے والے شہریوں کی نفسیات پر اس طرح کے فیصلوں کا کیا اثر ہو گا؟؟؟ کیا اس بابت سوچا گیا ہے؟؟؟

اس خبر کو اتنے دن بیت گئے۔۔ ہماری مذہبی جماعتوں کا اس سلسلے میں کوئی موقف یا بیانیہ سامنے نہیں آیا اسکی وجہ کیا ہے؟؟؟ سوچنا قارئین کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت پاکستان کشیدگی: تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن؟

(تحریر: حسنین اشرف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) پاکستان ہندوستان کے تعلقات قیام پاکستان اور تقسیم ہند ...