ہفتہ , 20 جولائی 2019

طالبان لیڈر کی ہلاکت اور امریکی پالیسی

3

پاکستان پر امریکی حملے اور القاعدہ دہشت گرد گروہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے پانچ برس بعد امریکی ڈرون طیاروں نے ایک بار پھر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور حملہ کر کے طالبان لیڈر ملا اختر منصور کو ہلاک کر دیا۔
البتہ اسلام آباد کی حکومت نے اپنے ملک کی سرزمین پر امریکہ کے اس حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اس کے اس اقدام کی مذمت کی۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشدد پسند اور دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کے ماضی پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے کہ ان گروہوں کی تشکیل اور انھیں مضبوط بنانے میں امریکی سی آئی اے کا اہم کردار رہا ہے اور ان گروہوں کے سرغنہ جب تک امریکہ کے لئے سود مند اور کارآمد واقع ہوتے ہیں، واشنگٹن ان کی حمایت کرتا ہے اور جب کارآمد نہیں رہ جاتے تو امریکہ انھیں ہلاک کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے متعلق تشدد پسند اور دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ اور کمانڈروں کا قلع قمع کرنے کے بارے میں امریکی دعوؤں کے باوجود، نہ صرف یہ کہ علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی ختم نہیں ہوئی بلکہ دہشت گرد گروہ ماضی سے بھی زیادہ طاقتور ہو کر اقدامات عمل میں لا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آزادی اور قومی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کرنے سے متعلق امریکی اقدام اور پاکستان میں طالبان کے سرغنہ کو حملے کا نشانہ بنائے جانے کو انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ ایک طرح سے طالبان لیڈروں کو ایک انتباہ ہے تاکہ وہ اس بات کو سمجھ لیں کہ پاکستان کے اشاروں پر چلنے سے کہیں زیادہ انھیں امریکہ کے تابع ہونا اور واشنگٹن کی ہدایات پر عمل کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے سابق اور موجودہ صدور نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ اغیار کے آلہ کار نہ بنیں اور افغانستان کے امن کے عمل میں شامل ہو کر قیام امن میں اغیار کی مداخلت روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس بات کے پیش نظر کہ طالبان لیڈر ملا عمر کی ہلاکت کے بعد طالبان کے بیشتر کمانڈروں نے یہ تصور کرتے ہوئے کہ طالبان کے نئے لیڈر کی حیثیت سے ملا اختر منصور کا نام پاکستان کی آئی ایس آئی کی جانب سے منتخب ہوا ہے، طالبان کے نئے لیڈر سے اپنی وفاداری کا عہد نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ طالبان گروہ کے، پاکستان کی آئی ایس آئی کے تابع بن جانے پر خوش نظر نہیں آرہا تھا اس لئے کہ طالبان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کی بناء پر واشنگٹن علاقے میں اس گروہ کو مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہیں کر پا رہا تھا۔ اس رو سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن کے ہاتھوں ملا اختر منصور کی ہلاکت، طالبان گروہ اور اس کی قیادت کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد کو منقطع کئے جانے اور اس امداد کو امریکی کانگریس کی حمایت سے مشروط قرار دیئے جانے سے بھی افغانستان کی آئندہ تبدیلیوں کے بارے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلافات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ امریکہ، افغانستان کو اپنا ایک فوجی اڈہ سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ وسطی ایشیاء اور قفقاز تک دہشت گردی کا دائرہ وسیع کرنے اور ان علاقوں میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لئے اپنی طویل المدت پالیسیوں پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ امریکہ، افغانستان اور علاقے میں انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں جدّت عمل اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے اور اس نے پاکستان میں طالبان کے سرغنہ ملا اختر منصور کو ہلاک کر کے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ افغانستان اور علاقے میں پاکستان کے انٹیلیجینس کے ادارے آئی ایس آئی کی پالیسیاں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
(بشکریہ سحر نیوز)

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …