بدھ , 19 دسمبر 2018

روس شام میں ایران کی موجودگی کاحمایتی ہے؛علی اکبرولایتی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)رہبر انقلاب اسلامی کے عالمی امور کے مشیر نے روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو اہم اور مفید قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس ملاقات میں علاقائی سطح پر تہران اور ماسکو کے باہمی روابط کے فروغ پر تاکید کی گئی۔

رہبر انقلاب اسلامی کے عالمی امور کے مشیر’’ علی اکبر ولایتی‘‘ نےفارس نیوز ایجنسی کےساتھ انٹرویو میں روس اورمقاومتی محاذ کے مابین دشمنوں کے پروپگنڈوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ روس شام میں ایران کی موجودگی کا مخالف ہے یا ایران کو شام سے نکل جانا چاہئیے جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے شام کے حوالے سے ایران اور روس کے مابین دفاعی تعاون کو جاری رکھنے پر تاکید کی۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد روس اور ترکی کے صدور ایران کا دورہ کریں گے اور صدر مملکت حسن روحانی کے ساتھ شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انہوں نےبحیرہ خزر کے بارے میں روس اور ایران کے باہمی تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو امریکہ ،نیٹو اور اسی طرح دوسری طاقتوں کی بحیرہ خزر کےعلاقے میں موجودگی کا مخالف ہے۔

اس سے قبل علی اکبر ولایتی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم کبھی بھی امریکی حکام کے ساتھ مذکرات نہیں کریں گے اور اگر امریکی حکام اس وہم کا شکار ہیں کہ ہم ان سے مذاکرات چاہتے ہیں تو وہ جان لیں کہ یہ ان کی خام خیالی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا ہم اس ملک سے جو اپنے وعدوں اور قراردادوں پر قائم نہیں مذاکرات نہیں کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کو منظم کر رہے ہیں، ایرانی وزیر انٹیلی جینس

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر انٹیلی جینس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے ...