جمعہ , 14 دسمبر 2018

شدت پسندوں کو انسان بنانیکی ناکام کوششیں

(تحریر: عالیہ شمسی)
جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، پاکستانی قوم کے دشمن بم دھماکوں کے ذریعے اپنی دہشت جما کر یا تو انتخابات کو منسوخ کروانا چاہتے ہیں یا پھر وطن عزیز میں خوف کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ان کو اپنے مذموم اہداف کے لئے کام کرنے کا موقع مل سکے۔ پشاور دھماکے میں معروف سیاستدان بشیر بلور شہید کے بیٹے ہارون بلور کی شہادت اسی طرح بلوچستان میں بھی محب وطن سیاستدان سراج رئیسانی کی شہادت اور سو سے زائد پاکستانیوں کی شہادت سے پوری قوم سوگ میں ڈوب گئی ہے، لیکن ان حالات میں ریاست کے اختیارات کو غیر قانونی طور پر ہاتھ میں لینے والے لوگ شرمناک کردار ادا کرکے ظلم و ستم کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ان خفیہ ہاتھوں کے نزدیک وہ سیاستدان جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آتے ہیں، وطن کے دشمن جبکہ پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلانے والے دہشت گرد ہیرو ہیں۔

نہیں معلوم بعض مقتدر ریاستی ادارے حافظ سعید، محمد احمد لدھیانوی، مولوی خادم اور اورنگزیب فاروقی جیسے دہشت گردوں کو ہیرو ثابت کرکے کس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، کس کو نہیں معلوم کہ اگر آج پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے تو اس کی وجہ حافظ سعید کی سرحد پار بعض غیر انسانی سرگرمیاں ہیں، اسی طرح لشکر جھنگوی کی بربریت کو کون بھلا سکتا ہے۔ آج اسی لشکر جھنگوی کے سپہ سالاروں کو تو الیکشن لڑنے کی اجازت ہے لیکن عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار سیاستدانوں کو چھوٹے چھوٹے الزامات کے تحت نا اہل کیا گیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے لیکر اسٹیبلشمنٹ کے اسٹیج کئے گئے ڈرامے میں لاکھوں پاکستانی اپنی جان سے گئے، لیکن جن لوگوں نے ایسے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی، ان کو یا تو ریاستی غنڈوں کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا گیا یا پھر عدالتوں کے ذریعے پھانسی پر لٹکا دیا گیا، لیکن اس قوم کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ درحقیقت اس قوم کے دشمن وہی لوگ ہیں، جو اپنے تیئں ہیرو بنتے ہیں، انہی نام نہاد ہیروؤں نے ملک کو دو لخت کیا، لیکن اس کا الزام بڑی ڈھٹائی کے ساتھ سیاستدانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

ایسے ہی لوگوں نے طاقت کے نشے میں پاکستانی قوم کو اقوام عالم کے مختلف میدانوں میں دوڑ کے میدان سے باہر رکھا، ممکن ہے یہ لوگ پروپیگنڈے کے زور پر تھوڑا عرصہ اور چل جائیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم میں سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے، آج جس بھی پاکستانی میں تھوڑا بہت سیاسی شعور ہے، وہ کم از کم یہ سوال ضرور اٹھا رہا ہے کہ مان لیا کہ سیاستدان کرپٹ ہیں، سیاستدان خائن ہیں، لیکن کیا ان خامیوں کے مالک سیاستدانوں کا موازنہ ان بھیڑیوں سے کیا جا سکتا ہے، جو ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل ہیں، لیکن کیا یہ ظلم نہیں کہ سیاستدانوں کو لائین میں لگا کر دہشت گردوں کو پاکستانی قوم کا ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جب کبھی عوام کی نمائندگی اور قانونی بالادستی کے علمبردار سیاستدان ان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان پر طرح طرح کے الزام لگا کر کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور ان کو مین سٹیم میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مسئلہ یہیں پر ہے کہ دہشت گردوں کو ہمیشہ ہی مین سٹریم میں رکھنے کی کوششیں کی گئیں بلکہ جنرل ضیاء الحق نے تو پوری ریاستی مشینری دہشت گردوں کے اختیار میں دے دی، جس کے بھیانک نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو مین سٹریم میں لانے یا رکھنے سے نہ پہلے کبھی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا، آج کل تحریک لبیک، تحریک ا۔۔۔اکبر، راہ حق پارٹی اور لشکر جھنگوی جیسی پارٹیوں کو پروموٹ کیا جا رہا ہے، جس کے نتائج پشاور اور مستونگ دھماکوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ خدارا اس ملک و ملت پر رحم کریں اور بھیڑیوں کو انسان بنانے کا خیال ذہن سے نکال دیں۔ بقول شیخ سعدی کے بھیڑیوں کی تربیت انسانوں کی گود میں بھی ہو تو وہ اپنے بھیڑیئے پن سے باز نہیں آتے، بھیڑیا کبھی انسان نہیں بن سکتا۔ خدارا بھیڑیوں کا پاکستان سے صفایا کرکے پاکستانی قوم پر احسان فرمائیں۔ اگر آپ خود یہ کام نہیں کرسکتے تو یہ کام سول قیادت اور خود عوام پر چھوڑ دیں، لیکن شائد اس صورت میں آپ کا ہمیشہ اقتدار میں رہنے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ لیکن یاد رکھیں ملک و ملت کا استحکام بہرحال اقتدار کی خواہش سے بڑا ہدف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آئندہ پانچ ماہ میں پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے ، بھارتی صحافی

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں انتخابات سے قبل پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے ، ...