ہفتہ , 18 اگست 2018

دو مزید سانحات اور چند تلخ سوالات

 

(حیدر جاوید سید)
کل جب نابالغ الیکٹرانک میڈیا ایون فیلڈ کیس میں سزا پانے والے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی لاہور تشریف آوری کو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور محمود غزنوی کے ملتان پر حملے کی طرح لائیو کوریج دے رہا تھا تو دو المناک سانحات ہوئے۔ پہلا بنوں میں جہاں سابق وفاقی وزیر اور ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کے انتخابی قافلے پر بم حملے سے 4افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اور دوسرا مستونگ بلوچستان میں جہاں خود کش حملے میں 130 افراد شہید اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔( مکرر ادب کے ساتھ یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ دہشت گردی کے دو واقعات کے مقتولین کو شہید اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لکھا ہے) الیکٹرانک میڈیا رات گئے تک فاتح ہند و سندھ کی صاحبزادی کے ساتھ تشریف آوری کی لندن اڑان سے لے کر اڈیالہ جیل میں قیام تک کی جزئیات اور لاہور میں پھیلے اور راستوں میں پھنسے لشکریوں کی داستان رنج و الم بیان کرتا رہا۔

برادرم حامد میر سمیت ایک دو دوسرے صحافیوں نے نیوز اینکروں کو بنوں اور مستونگ کے المیوں کی طرف متوجہ کرنے کی ذمہ داری نبھائی لیکن جس مال نے فروخت ہونا تھا اسی بات پروگرام ہوتے رہے۔ پنجاب بیس میڈیا اس امر کو سمجھ ہی نہیں پا رہا کہ پنجاب سے باہر بھی پاکستان ہے۔ پنجاب ایک قومی اکائی ہے۔ پشتون’ سندھی’ سرائیکی اور بلوچ بھی پاکستانی فیڈریشن کی قومی اکائیاں ہیں مساوی حق رکھنے والی۔ ایسا بالکل نہیں کہ چینلوں کے یہ غیر پنجابی صارفین و ناظرین ماہانہ کیبل فیس ادا نہیں کرتے اور مفتے نشریات دیکھ لیتے ہیں۔ اس تلخ نوائی پر دلی معذرت لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ پانچ قومیتی فیڈریشن میں بڑی اکائی سے تعلق رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ ہو’ میڈیا’ لیڈر شپ یا دیگر طبقات اور لوگ بھی انہیں دوسری اکائیوں پر ٹوٹتی قیامتوں سے کوئی غرض نہیں۔مکرر ادب کے ساتھ عرض یہ کرنا ہے کہ ہم کیسے متحد ہوں گے۔ الیکٹرانک میڈیا چینلز نے13جولائی کو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی تشریف آوری کو لگ بھگ 10گھنٹے کی نشریات کا حصہ دیا جبکہ سانحہ بنوں اور مستونگ کو مجموعی طور پر 47منٹ دئیے۔ مجھ طالب علم کو یہ شقاوت قلبی ہی لگتی ہے۔ خدا نہ کرے کہ 13جولائی کے بنوں و مستونگ سانحات جیسے سانحے پھر رونما ہوں اور مزید لاشیں گریں۔ مگر وقت آگیا ہے کہ ٹھنڈے دل سے سوچا سمجھا جائے کہ کیا نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی تشریف آوری اہم تھی یا بنوں سے مستونگ تک بہتا لہو اس امر کا متقاضی تھا کہ اس حوالے سے خصوصی پروگرام ہوتے اور ماہرین سے تجزیہ کروایا جاتا کہ ان سانحات کے پس پردہ کون ہے اور کون انتخابی مہم کو لہو رنگ بنا کر رائے دہندگان کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ معاف کیجئے گا 5دنوں میں پشاور سے مستونگ تک دہشت گردی کے 4واقعات 160افراد کی جان لے گئے’ 200 کے قریب زخمی ہیں۔

بد امنی اور عدم تحفظ کے حوالے سے سوالات ہر لب پر مچل رہے ہیں۔ ان سوالوں کاجواب روایتی بیانات’ تسلیاں و تشفیاں ہر گز نہیں۔ چاروں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ کیا اس کالعدم جماعت کے فکری ہمنوا اور سہولت کار ہمارے سماج میں موجود نہیں؟ کیا ان کے سیاسی چہرے قرار پائی جماعتیں انتخابی عمل میں شریک نہیں؟ آگے بڑھنے سے قبل ایک اہم امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ عزیزم ہارون بشیر بلور اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد ہارون بشیر بلور کے صاحبزادے دانیال ہارون کی وائرل ہوئی ویڈیو کی گفتگو بہت سارے اتھروں کے منہ پر طمانچہ ہے جوانسال دانیال نے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا اس کا ایک ایک لفظ قابل غور ہے۔

بنوں میں سانحہ کے بعد اکرم درانی کی گفتگو حوصلہ افزا تھی۔ مستونگ میں دہشت گردی کا رزق بنے 130افراد میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار صوبائی اسمبلی سراج رئیسانی بھی شامل ہیں۔ لشکری رئیسانی و سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کے برادر خورد سراج رئیسانی ناراض بلوچوں کے مقابلہ میں جدا موقف رکھنے کی شہرت کے حامل تھے۔ ان کے برادر بزرگ نواب اسلم رئیسانی کی سیاست’ انداز تکلم اور دیگر معاملات پر تحفظات موجود ہیں لیکن سراج درانی کو کس تنظیم کی جانب سے انتخابی عمل سے باہر ہوجانے کے لئے دھمکی دی جا رہی تھی اس بارے سنجیدہ تحقیقات کے ذریعے مختصر وقت میں قاتلوں کے سرپرستوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ مستونگ اس ملک کا شہر ہے اور وہاں کے باسی مساوی حق دار ہیں۔ جمعہ کو رونما ہونے والے سانحہ کے بعد بلوچوں کا شکوہ بجا طور پر درست ہے۔ انتخابی جلسہ پر ہوئے خود کش حملے کو انتخابی قافلے پر حملہ کیوں کہا گیا۔ لاہور کی گلی گلی اور سڑکوں کا احوال بیان کرنے والے نیوز اینکروں کا جوش و خروش کمرشل ازم کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جمعہ کے روز رونما ہوئے بنوں اور مستونگ کے سانحات نے ان خدشات کی تصدیق کردی ہے کہ انتخابی مہم کو لہو رنگ کرکے کوئی نتائج پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعہ کے روز کہا’ نواز شریف جب بھی مشکل میں ہوتے ہیں دہشت گردی شروع ہوجاتی ہے۔ سیاست و صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان کی منطق درست نہیں۔ ویسے کیا اگر کوئی پلٹ کر ان سے سوال کردے کہ جن طالبان نے 2014ء میں حکومت سے مذاکرات کے لئے اپنے پانچ رکنی وفد میں آپ کو شامل کیا تھا دھماکوں کی ذمہ داری بھی انہی طالبان نے قبول کی ہے اور اس طور نواز شریف سے زیادہ موجودہ صورتحال کے آپ ذمہ دار ہیں تو کیسا لگے گا؟ عرض یہ ہے کہ سانحات کو سیاست چمکانے اور الزامات کی دھول اڑانے کا ذریعہ نہ بنائیں۔بشکریہ مشرق نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...