ہفتہ , 18 اگست 2018

دہشتگردی کے سائے اور اہل پاکستان

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)
مستونگ میں 13 جولائی کی خونریزی جس میں 128 افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دوسری جانب بنوں میں بھی انتخابی قافلے پر بم حملہ کیا گیا‘ جس کے نتیجے میں 5 افراد دم توڑ گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم درانی اس حملے میں بال بال بچے۔ اس سے محض دو روز قبل پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی انتخابی مہم کے دوران ایک خود کش حملے میں پارٹی کے سینئر رہنما ہارون بلور کے علاوہ 21 مزید افراد کی شہید ہو گئے۔ ان واقعات پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔ سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں کے علاوہ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مرحوم ہارون بلور کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کی۔ گزشتہ تقریباً دو ڈھائی برسوں میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں یہ غالباً سب سے زیادہ ہولناک اور تباہ کن واقعات تھے۔ پشاور کے واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے یہ قابل مذمت واقعات اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئے ہیں، جو عام لوگوں کے ذہنوں میں اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک ان کا کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آتا۔

جیسے یہ کہ اگر پشاور والا حملہ کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی نے کیا، تو ان دعووں کی کیا حقیقت ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ان کے کمانڈ اور کنٹرول سٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنما اور کارکن یا تو مارے گئے ہیں یا ہمسایہ ملک افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پچھلے یعنی 2013ء کے انتخابات کے مقابلے میں موجودہ یعنی 2018ء کے پارلیمانی انتخابات نسبتاً زیادہ محفوظ اور پرامن ماحول میں ہو رہے ہیں۔ ان کے بیان میں صداقت بھی ہے کیونکہ پچھلے چار پانچ برسوں کے مقابلے میں اب دہشت گردی کے واقعات اور خود کش حملوں میں بہت نمایاں کمی واقعہ ہوئی ہے۔ اس کے باوجود ٹی ٹی پی اتنے تباہ کن حملے کو عملی جامہ پہنانے میں کیسے کامیاب ہو گئی؟۔ انتخابی میدان میں اور بھی سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہیں، لیکن کچھ مخصوص پارٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر بھی ٹی ٹی پی نے جن سیاسی جماعتوں کو کھلے عام نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، ان میں سب سے زیادہ جانی نقصان اے این پی کا ہی ہوا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اے این پی کے تقریباً 700 کے قریب کارکن اور رہنما شہید کر دیئے گئے تھے۔ ان میں ہارون بلور کے والد محترم بشیر بلور بھی شامل تھے۔

ان حملوں کی وجہ سے 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر اے این پی کی قیادت اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں انہیں سیاسی حوالے سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب بھی اس خود کش حملے کا بظاہر مقصد اے این پی کی انتخابی مہم کو متاثر کرنا نظر آ رہا ہے، کیونکہ خود کش بمبار نے اپنے آپ کو ایک دھماکے کے ساتھ اے این پی کی ایک کارنر میٹنگ میں اڑا دیا جس میں ہارون بلور شریک تھے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی طرف سے یہ کارروائی حال ہی میں اس کے امیر ملا فضل اللہ کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے خلاف رد عمل ہے۔ لیکن یہ ڈرون حملہ اے این پی نے تو نہیں کیا۔ پھر آخر اے این پی ہی کیوں نشانے پر ہے؟ اس کی ایک وجہ جو سمجھ میں آتی ہے، یہ ہے کہ اے این پی کا ایک سیاسی فلسفہ اور پالیسی سٹینڈ ہے۔ اس کی بنیاد پر اے این پی جنرل ضیا کے دور میں پاکستان کی افغان پالیسی کی مخالف تھی اور طالبان کی جس طرح اے این پی نے ڈٹ کر مخالفت کی کسی اور سیاسی پارٹی نے نہیں کی۔ اس لئے وہ 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر ٹی ٹی پی کی ہٹ لسٹ پر تھی اور 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر اسی کے جلسے جلوسوں اور رہنمائوں پر خود کش اور قاتلانہ حملوں کا مقصد اس کی کامیابی کے امکانات کو ختم کرنا تھا۔ پشاور میں حالیہ خود کش حملے کا بھی یہی مقصد نظر آتا ہے۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے اس اندوہناک واقعہ پر کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو دہشت گردی کی کارروائیوں، خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا اسی طرح نشانہ بنایا گیا تو وہ انتخابی مہم کس طرح جاری رکھ سکتے ہیں؟

دوسرا بڑا اور ہولناک واقعہ بلوچستان میں ہوا ہے۔ مستونگ کے بارے میں تاثر کو تقویت دی جاتی ہے کہ یہ ہر طرح کی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ ہے، جن میں لشکر جھنگوی، لشکر جھنگوی العالمی، تحریک طالبان پاکستان، داعش، جند اللہ اور کالعدم تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے منحرف ارکان وغیرہ شامل ہیں۔ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا نام لیا جائے، صوبائی دارالحکومت سے 50 کلو میٹر دور واقع ضلع مستونگ میں اس کی موجودگی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ بدنام زمانہ جرائم پیشہ عمران رئیسانی عرف چھوٹا عمر، جو ان دنوں زیر حراست ہے اور سلمان بادینی جو باغی بھی ہے، دونوں کا تعلق مستونگ سے ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ایک کرنل کے قتل، جے یو آئی کے رہنما مولانا حیدری پر حملے کے علاوہ کئی وارداتوں میں ملوث تھے۔ کوئٹہ کے نواحی گاؤں الماس کلے میں اپنے ٹھکانے پر چھاپے میں بادینی مارا گیا تھا۔ اس چھاپے کے دوران اس نے اندر سے فائرنگ کی، جس میں کرنل سمیت کئی سکیورٹی اہلکار شہید ہو ئے۔ اس جرائم پیشہ، عسکریت پسند سینڈیکٹ کا تعلق نہ صرف منظم جرائم سے ہے، بلکہ بلوچ باغیوں سے بھی ہے جوکہ داعش کے پرچم تلے پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

دراصل داعش استعمال کیلئے ایک نام کے علاوہ، یہ گروہ خود بھی بلوچستان اور دیگر علاقوں میں براہ راست پرتشدد سرگرمیوں کے ارتکاب میں ملوث ہے۔ اس لئے یہ بات حیران کن نہیں کہ داعش نے رواں سال ملک بھر میں ہونیوالے 125کے لگ بھگ حملوں میں سے بیشتر کی ذمہ داری قبول کی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ درحقیقت داعش پہلے سے موجود گروہوں کیلئے مذہبی رہنماؤں، سول و فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے ایک آسان دستیاب آڑ بن چکی ہے۔ داعش نے جن حملوں کی ذمہ داری قبول کی، ان کے جائزے سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس تنظیم کی ان قوتوں سے ہم آہنگی ہے، جو کہ اینٹی پاکستان، اینٹی وفاق، اینٹی شیعہ، اینٹی آرمی اور ہر اس شخص کے خلاف ہیں، جنہیں وہ فوج اور وفاق کا پارٹنر یا حامی خیال کرتے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ سراج رئیسانی ایسے ہی رہنماؤں میں سے ایک تھے، جوکہ وفاق پاکستان کی حامی قوتوں کی کھل کر حمایت کر رہے تھے۔ جولائی 2011ء میں رئیسانی کا 14سالہ بیٹا مستونگ میں دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہو گیا تھا، اسے فٹ بال میچ کے بعد قتل کیا گیا جوکہ پاکستان کی حمایت میں مہم کا حصہ تھا۔ 2017ء میں انہوں نے مستونگ میں سب سے بڑا قومی پرچم لہرایا، وہ واشگاف الفاظ میں وفاق کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔ تب سے وہ پاکستان مخالف قوتوں کے نشانے پر تھے اور پاکستان کے حق میں مہم کی قیمت انہوں نے اپنی جان کی صورت میں ادا کی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سے عناصر سراج رئیسانی جیسے شخص کی جان لینا چاہتے تھے؟ ظاہر ہے مذکورہ بالا موذی تنظیمیں جوکہ دہشت گردی پھیلانے کیلئے سراج رئیسانی اور بے بس ہزارہ آبادی کو آسان ترین ہدف کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان تنظیموں کا پرتشدد، مجرمانہ ایجنڈا انہیں تمام ایسی طاقتوں کا قابل اعتماد پراکسی بناتا ہے جوکہ انتخابی عمل میں خلل پیدا کرنے کی خواہاں ہیں۔ یہ لوگوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ حکام اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کہ ریاست مخالف، فرقہ وارانہ، قوم پرست اور جرائم پیشہ عناصر پر مبنی مختلف سینڈیکٹس کے اس ناپاک اتحاد کو کیسے توڑ کر انہیں بے اثر کیا جائے، جوکہ جیو پولیٹیکل پراکسی جنگ کے مہرے بنے ہوئے ہیں، جس میں پاکستان دو قریبی ہمسایوں کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے۔ فوری ردعمل میں کیے گئے اقدامات جیسے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار وں کی معطلی یا برطرفی اس صورتحال کا جواب نہیں۔ واقعہ کو سکیورٹی یا انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ معاملہ انتہائی پیچیدہ اور اس کا تعلق براہ راست جیوپالیٹکس کیساتھ ہے، جس سے مراد پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خارجہ تعلقات خصوصاً بھارت کیساتھ روابط سے ہے۔ بھارت کیساتھ مخاصمت کی بازگشت انڈیا افغان تعلقات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر افغانستان میں بھارت کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو واضح دکھائی دے گا کہ بھارت نے پاکستان کی افغان پالیسی کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر بھارتی حکام کی نجی گفتگو کومعیار بنایا جائے، تو بھارتی حکمران عالمی فورمز خصوصاً فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان پر بڑھائے گئے دباؤ میں نرمی لانے کیلئے بالکل تیار نہیں۔

یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ملک کیلئے بلوچستان اور فاٹا کے نو گو ایریاز میں جنگجوؤں، دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی پر فوری توجہ دی جائے۔ اگر سول اور فوجی قیادت پاکستان کا عالمی تاثر مثبت بنانا چاہتی ہے تو دہشت گردی کی نمائندہ قوتیں جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے خلاف بلاامتیاز فیصلہ کن کریک ڈاؤن ناگزیر ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہوائی تیر بازی سے پاکستان کا عالمی امیج بحال نہیں ہو گا۔ ہمیں مصلحتوں سے نکل کر ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے تاکہ ملک کو دہشت گرد، جرائم پیشہ عناصر کے اثرات سے پاک کیا جا سکے۔ سیاسی اور عوامی حلقوں تک یہی سوال ایک دوسرے کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی نئی لہر کے مقاصد کیا ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے پیچھے کون ہیں اور کیا وجوہات ہیں کہ ہم تمام تر ریاستی قوت استعمال کرنے کے باوجود دہشت گردی کے جن کو قابو نہیں کر پا رہے اور اس کی جڑیں کاٹی نہیں جا رہیں۔ دھماکوں کی ٹائمنگ کی اہمیت کیا ہے آنے والے انتخابات پر ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ زمینی حقائق اور ملکی حالات کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ایک عرصہ سے پاکستان کے اندر انتشار کی صورتحال ہے اور اس میں بنیادی کردار پاکستان کے اہل سیاست نے ادا کیا۔ ایک دوسرے کو گرانے کیلئے جائز ناجائز ہتھکنڈوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے ان رویوں سے ملک میں برداشت کا کلچر ختم ہو ا ہے، ملک میں ایشوز پر مفاہمت کے بجائے حماقت کا عنصر عام ہے اور قوم بھی انہی سیاسی جماعتوں کی طرح بد قسمتی سے قومی سلامتی کے ایشو کے پر بری طرح تقسیم ہو چکی ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھیں تو ابتری کا ماحول ہے۔ کسی کو دہشت گردی کے رجحان کی فکر ہے اور نہ ہی دہشت گردی کی نذر ہونے والی انسانی جانوں کے ضیاع کا احساس ہے، جس کے باعث مایوسی کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا سوال ہے تو ایسی جنگ کبھی صرف سکیورٹی فورسز نہیں لڑتیں، ایسی صورتحال کے مقابلہ کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو ملکر کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ دشمن ہماری سرحدوں پر نہیں بلکہ ہمارے اندر گھسا بیٹھا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...