بدھ , 15 اگست 2018

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

(نفیس صدیقی)
جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے قبل پاکستان لہو لہو ہے ۔ ماحول انتہائی سوگوار ہے۔ انتخابی ریلیوں اور امیدواروں پر دہشت گردوں کے حملوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انتخابی سرگرمیوں کے لئے پرامن اور آزادانہ سیاسی ماحول میسر نہیں ہے ۔ دوسری طرف انتخابات سے قبل سیاسی وفاداریاں بھونڈے انداز میں تبدیل ہوئیں یا کرائی گئیں اور ’’ لوٹے ‘‘ مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے یا کرائے گئے ۔ انتخابی عمل کے دوران احتساب کا عمل بھی ’’ بلا امتیاز ‘‘ ہونے کا تاثر پیدا نہیں کر سکا ہے ۔ اس صورت حال میں شفاف انتخابات کا انعقاد نہ صرف مشکوک ہو گیا ہے بلکہ انتخابات مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ نے ایک ایسے عظیم سانحہ کو جنم دیا ہے ، جس نے ہماری قومی روح پر گہرا گھاؤ لگایا ہے۔ اس سانحے کے پاکستان کے داخلی اور سیاسی استحکام پر انتہائی پیچیدہ اور دور رس اثرات مرتب ہونگے ۔ اسی طرح پشاور اور بنوں کے واقعات ہیں ، جن کے لگائے گئے زخموں سے بہت دیر تک لہو رستا رہے گا ۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ، بلوچستان طویل عرصے سے پاکستان کے سیاسی اور جمہوری دھارے میں مکمل طور پر شامل نہیں ہے ۔ سانحہ مستونگ اس دھارے سے بلوچستان کو خطرناک حد تک الگ کر دے گا ۔ سانحہ مستونگ سے صرف
سردار اسلم رئیسانی اور سردار شکری رئیسانی کا ذاتی ، خاندانی یا سیاسی نقصان نہیں ہوا بلکہ بہت بڑا قومی نقصان ہوا ہے ۔ یہ نقصان دکھ کی صورت میں بھی ہے اور قومی ضمیر پر بوجھ کی صورت میں بھی ۔ بلوچستان کچھ عرصے سے خصوصاً اگست 2006ء میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد مختلف سیاسی ڈگر پر چل پڑا ہے ۔ 2013ءاور 2008ء کے عام انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ جو لوگ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں، ان کیلئے بلوچستان میں بہت زیادہ مشکلات پیدا ہو گئی ہیں ۔ مذکورہ بالا دونوں عام انتخابات کے نتائج سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ 500 سے 5000 ووٹ لیکر وہاں سے لوگ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے یا یوں کہئے کہ انہیں منتخب قرار دیا گیا ۔ ووٹوں کا تناسب کیا تھا اور اصل نتائج کیا تھے ؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔

سانحہ مستونگ کے بعد نہ صرف ان تمام سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کیلئے انتخابی مہم چلانا مشکل ہو گا بلکہ یہ بات بھی وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ لوگ ووٹ ڈالنے آئیں گے یا نہیں ؟ 150 سے زیادہ لاشیں اور 250 سے زیادہ شدید زخمیوں کی چیخیں بلوچستان کے سیاسی ماحول کو مزید تشویش ناک بنانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہیں ۔ سانحہ مستونگ سے پہلے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے ، جن میں انتخابی امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ جمعرات کو خضدار میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار صوبائی اسمبلی شکیل درانی کے الیکشن آفس کے باہر دھماکا ہوا ۔ دس دن قبل پنجگور میں نیشنل پارٹی کے امیدوار رحمت صالح بلوچ کی انتخابی ریلی پر فائرنگ ہوئی ۔ اسی طرح بلیدہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار ظہور بلیری اور جاہو میں نیشنل پارٹی کے امیدوار خیر جان کے گھروں پر راکٹ فائر کئے گئے ۔ مستونگ کے عظیم سانحہ کے بعد میرے خیال میں بلوچستان میں انتخابی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو جائیں گی ۔ وہاں انتخابات تو ہو جائیں گے اور لوگ منتخب بھی قرا رپائیں گے لیکن پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل میں بلوچستا ن اس حد تک شامل نہیں ہے ، جس حد تک ہونا چاہئے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ بہت حد تک لاتعلق ہے۔

یہ بالکل الگ بحث ہے کہ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی ( بی اے پی ) کے امیدواروں اور رہنماؤں پر حملے کیوں زیادہ ہو رہے ہیں حالانکہ بی اے پی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل بننے والی یہ سیاسی جماعت مقتدر حلقوں نے تشکیل دی۔ یہ بھی ایک پیچیدہ موضوع ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ڈانڈے علاقائی اور عالمی کیساتھ ساتھ داخلی سطح پر کہاں جا کر ملتے ہیں ؟ سی پیک کے روٹ کا اہم حصہ ہونے کے علاوہ بلوچستان میں دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات کیا ہیں اور خود ہمارے مقتدر حلقے بلوچستان کو سیاسی طور پر کس طرح چلانا چاہتے ہیں ۔ ان تمام مباحث کے حوالے سے کسی اور وقت میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا لیکن اس وقت تکلیف دہ امر یہ ہے کہ بلوچستان قومی سیاسی اور جمہوری دھارے کا حصہ نہیں بن پا رہا ۔ سانحہ مستونگ نے حالات مزید خراب کر دیئے ہیں ۔

پشاور اور بنوں کے واقعات کے بھی بہت گہرے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔ پشاور میں دہشت گردی کے واقعہ میں بلور خاندان کا دوسرا بڑا نقصان ہوا ہے ۔ 2013 ء میں پشاور میں ہی حاجی بشیر بلور دہشت گردوں کے واقعہ میں شہید ہوئے اور گزشتہ منگل کو 5 سال بعد پشاور کے علاقے یکہ توت میں بشیر بلور کے صاحبزادے بیرسٹر ہارون بلور سمیت 22 افراد شہید ہو گئے۔ بلور خاندان کی پاکستان میں جمہوریت اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لئے لازوال قربانیاں ہیں ۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں بھی عوامی نیشنل پارٹی ان سیاسی جماعتوں میں شامل تھی ، جو دہشت گردی کے خوف سے اپنی عوامی رابطہ مہم نہیں چلا سکیں ۔ اس مرتبہ بھی اس کے ساتھ یہی ہو رہا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی دہشت گردی سے متاثرہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں۔ بنوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اکرم درانی کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں 5 افراد شہید ہو گئے ۔ اکرم درانی بال بال بچ گئے ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کئی مرکزی رہنمائوں پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں ۔ اگر خیبر پختونخوا کی حد تک دیکھا جائے تو یہاں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) جیسی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہیں ، جو قبل ازیں صوبے میں اپنی حکومتیں بنا چکی ہیں ۔ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی لوگوں کی سیاسی و جمہوری عمل میں آزادانہ شمولیت نہیں ہے۔

پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) جیسی ملک کی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت ’’ احتساب ‘‘ کے عمل سے دوچار ہے ۔ پنجاب
میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابات میں کامیابی کی صلاحیت کے حامل ( الیکٹ ایبلز ) کی بہت بھونڈے طریقے سے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے ہی شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب میں کئی جگہوں پر ریلیاں نکالنے اور جلسے کرنے سے روک دیا گیا، اس کا جواز دہشت گردی کے خطرات کو بنایا گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سندھ میں بلاول بھٹو زرداری کی انتخامی مہم خیریت سے مکمل ہوئی لیکن بلاول بھٹو ہرجگہ اپنے خطاب میں اس امر کی نشاندہی کرتے رہے کہ ان کی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو پارٹیوں میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خوف سے اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کئے ہوئے ہیں۔

نگراں حکومتیں اور الیکشن کمیشن امیدواروں کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے۔ دہشت گردی اور دباؤ یہ دو عوامل ہیں ، جنہوں نے انتخابات کو سوالیہ نشانہ بنا دیا ہے ۔ پاکستانی سماج ان دو عوامل کی وجہ سے نہ صرف غیر سیاسی (Depoliticised ) ہو رہا ہے بلکہ مایوس ( Demoralized) بھی ہو رہا ہے ۔ ایسے حالات میں انتخابات کے نتائج سیاسی اطمینان کا باعث نہیں بنیں گے اور سیاسی بے اطمینانی کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے کیونکہ لوگ سیاسی و جمہوری عمل میں آزادانہ طور پر شامل نہیں ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی سانحہ مستونگ کی وجہ سے اپنامالا کنڈ کا جلسہ منسوخ کر دیا اور دہشت گردی کی وجہ سے اپنی انتخابی سرگرمیاں بھی محدود کر دیں ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے اور انہوں نے بھی سانحہ مستونگ کی وجہ سے اپنی انتخابی سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں ۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔

آخر میں ایک اہم بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے وطن واپس آکر احتساب عدالت کے فیصلے کے تحت گرفتاری دی ہے ۔ ان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے ۔ ان کیخلاف مقدمات پر میں بحث نہیں کر رہا بلکہ میں ان کے سیاسی اقدام کی تعریف کر رہا ہوں ۔ سیاست میں بڑی
طاقت اور تدبیریں ہوتی ہیں ۔ عوام مفاہمتی سیاست کی بجائے مزاحمتی سیاست کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ریاض کی بقا کا معاملہ ہے؟؟

(تحریر: ابوفجر لاہوری) لیجیئے صاحب! ریاض نے پھر اسلام آباد کا رخ کر لیا ہے۔ ...