بدھ , 17 اکتوبر 2018

پاگل کتے اور قومی ضیاع

( از قلم سرفراز حسینی)

 

مستونگ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مغرب کی جانب تقریبا 48 کلومیٹر فاصلہ پہ واقع ضلع ہے جس کی آبادی تقریباً 225,000 نفوس پہ مشتمل ہے۔ جغرافیائ لحاظ سے اس کا محل وقوع بہت اہم ہے، کوئیٹہ سے کراچی اور تافتان بارڈر پہ جانے کیلئے یہاں سے ہی گزرنا پڑتا ہے۔ یہ پورا علاقہ سراوان بھی کہلاتا یے، بلوچستان کے قبائلی نظام کے حوالہ سے رئیسانی قبیلہ اس علاقے پہ عملداری رکھتا یے جس کے سربراہ نواب اسلم رئیسانی سابق وزیراعلی بلوچستان ہیں، جنہیں چیف آف سراوان بھی کہا جاتا ہے۔ان ہی کے بھائ لشکری رئیسانی پہلے پیپلز پارٹی اور اب ن لیگ میں ہیں اور تیسرے سوتیلے بھای نواب سراج درانی جو ان دونوں سےاختلاف رکھتے تھے، محب وطن، انڈیا مخالف اور پاک فوج سے قربت رکھنے والی شخصیت تھے جو حال ہی میں ایک خودکش حملے میں کم وبیش 130 بیگناہ افراد کے ساتھ شہید ہوگئے۔

مستونگ ضلع کے نام سے عوام الناس کی زیادہ آگاہی اس وقت ہوئ جب بدقسمتی سے سن 2000 کے بعد بلوچستان میں بدترین فرقہ وارانہ دہشتگردی نے پنجے گاڑنا شروع کیے۔ نفرت اور تعصب کے یہ بیج بڑی شد ومد کے ساتھ اس ضلع میں بوئے گئے، رمضان مینگل نامی شدت پسند مولوی نے ایک فرقہ پرست جماعت کے پرچم تلے مستونگ کو ان فسادی سرگرمیوں کا گڑھ بنایا اور مستونگ کا مضافاتی علاقہ کھڈ کوچہ اور اس کے مدارس ان تمام سرگرمیوں کا ہیڈکوارٹر قرار پائے۔ بلوچستان کے قبائلی نظام سے آشنا افراد جانتے ہیں کہ یہاں کے کسی بھی علاقے میں وہاں کے سردار کی مرضی کے بغیر کوئ چڑیا بھی پر نہی مار سکتی۔ اوائل 2000 میں پورے بلوچستان میں فرقہ وارانہ آگ پھیلانے کی وہ منصوبہ بندی جو مستونگ میں کی جارہی تھی اس کی مکمل سرپرستی وہاں کے نواب کررہے تھے، نواب اسلم رئیسانی اور خصوصا نوابزادہ لشکری رئیسانی جو کہ فرقہ پرست دہشتگرد تنظیم کے باقاعدہ عہدیدار بھی رہے اس کھیل میں برابر شریک تھے ۔

پورے بلوچستان بشمول مستونگ کے حوالے سے ایک اہم معلومات یہ ہے کہ ایران میں انقلاب اسلامی کے ظہور پزیر ہونے کے بعد پڑھےلکھے افراد کی ایک بڑی تعداد نے مکتب تشیع کو قبول کیا، ان میں تقریبا تمام قبائل کے سرکردہ افراد شامل تھے، مستونگ میں یہ تعداد شائید سب سے زیادہ تھی، کیونکہ یہ افراد تحقیق اور تجزیہ و تحلیل کے بعد کنورٹ ہوئے تھے لہزا اپنا پیغام بڑے مؤثر اور مدلل طریقہ سے گفتگو اور مباحثے کے زریعہ عوام تک منتقل کررہے تھے جس کے واضح اثرات بھی مرتب ہو رہے تھے۔ مستونگ میں اس آگاہی سے خوفزدہ ہو کے ان سرداروں اور ان کے لے پالک فرقہ پرست دہشتگردوں نے سب سے پہلے چن چن کر ان افراد کو سرعام قتل کرنا شروع کیا جو مکتبی بنیاد پہ کنورٹ ہوئے تھے، صرف اس ایک شہر میں ایک دو نہی، درجنوں پڑھے لکھے افراد کو صرف نظریہ کے اختلاف کی بنیاد پہ بیدردی کے ساتھ تہہ تیغ کیا گیا، بہت سے واقعات میں فرد کو گولی مارنے کے بعد یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، یا جلادیا گیا اور کسی کو ان کی نماز جنازہ بھی ادا نہ کرنے دی گئ اور انہیں ایک گڑھا کھود کر بغیر کفن دفن اس میں اتار دیا گیا۔ مستونگ میں یہ واقعات چھپ چھپا کے نہی بلکہ علی الاعلان انتظامیہ اور ان سرداروں کے سامنے بلکہ ان کی منشا اور مرضی سے ہو رہے تھے۔

ایک طرف تو یہ سردار اپنے پالتو دہشتگردوں کے ہاتھوں مستونگ میں فرقہ وارانہ بنیادوں پہ ایک خاص مکتب کے افراد کی نسل کشی مکمل کر چکے تھے یعنی حقیقتا وہاں فقہ جعفریہ سے متعلق کسی بھی معلوم فرد کو زندہ نہی چھوڑا گیا تھا اور اس ظلم میں یہ سردار، وہاں کی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عام افراد دہشت گردوں کے حامی و مددگار تھے کچھ مکمل ساتھ دے کے اور کچھ تماشہ بین بن کے، تو دوسری طرف یہی مستونگ اور اس کی مرکزی شاہراہ ایران جانے والے زائرین اور کوئٹہ سے کراچی سفر کرنے والے ہزارہ افراد کی مقتل گاہ بن چکی تھی، صرف اس ضلع کی حدود میں زائرین کی بسوں پہ چار حملے ہوئے، پوری کی پوری بس کو راکٹ لانچرز سے اڑایا گیا، یہی درین گڑھ جہاں سراج رئیسانی سمیت 130 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، یہاں پہلے زائرین کی بس پہ حملہ کرکے اور شناخت کر کے ہزارہ افراد کو گولیوں سے بھونا گیا، پھر جب ان شہدا اور زخمیوں کے لواحقین ایمبولینسز لے کے میتیں اور زخمیوں کو لینے پہنچے تو ان ایمبولینسوں کو بھی نا بخشا گیا ان پہ بھی فائرنگ کی گئ اور ان لواحقین کو بھی خون بھی نہلا دیا گیا۔ انسانیت سوز وہ واقعہ جس میں ایک مرکزی سڑک پہ مسلح دہشتگرد بس میں شناخت کر کے لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں اور اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پہ وائرل کیا گیا وہ بھی ضلع مستونگ میں ہی وقوع ہزیر ہوا تھا۔ مسلکی بنیاد پہ یہ وہ ظلم و بربریت کی داستان تھی جس پہ رئیسانی سردار بے حسی کا پہاڑ بنے بیٹھے تھے اور ان کے کان پہ جوں تک نہ رینگتی تھی۔ اہم بات ہے کہ فرقہ وارانہ دہشتگردی کے کوئیٹہ، مستونگ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ واقعات اسلم رئیسانی کے دور وزارت اعلی میں ہوئے، اس دور میں یہ دہشتگرد ایک ایک واقعہ میں سینکڑوں افراد کو شہید کرتے اور پھر کوئٹہ شہر کے مرکز میں جلسہ کر کے مزید سینچریاں بنانے کے ترانے بجاتے اور انہیں کوئ پوچھنے والا نہ ہوتا۔ ان ظالموں کی بے حسی اور انسانیت دشمنی کا یہ عالم تھا کہ جب علمدار روڈ بم بلاسٹ واقعہ جس میں 100 سے زیادہ بے گناہ اور معصوم افراد شہید ہوئے تو وزیر اعلی رئیسانی نے بیان دیا کہ کوئیٹہ لاکھوں کی آبادی پہ مشتمل شہر ہے اس میں اگر سو دو سو بندہ مارا بھی گیا تو کوئ بڑی بات نہی اور اس پہ مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کر سکتا ہوں کہ مقتولوں کے لواحقین کیلئے ایک ٹرک ٹشو پیپرز کے ڈبوں کا بھیج دوں۔

تاریخ کا ازل فیصلہ ہے کہ سانپوں کو جتنا مرضی دودھ پلائیں یا پاگل کتے پالیں یہ پلٹ کر آپ کو کاٹتے ضرور ہیں، یہ خونخوار دہشتگرد جنہیں رئیسانی سردار علی الاعلان پالتے رہے بالآخر انہوں نے ہی انہیں کاٹ کھایا، باوجود اس کے کہ سراج درانی محب وطن ، پاکستان سے محبت اور ہندوستان سے نفرت کرنے والے انسان تھے، افواج پاکستان کے شدید حامی تھے، وہ اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ انہی دہشتگردوں کے بارود کا نشانہ بن گئے جن کو ان کے ہی بھائ پالتے رہے۔

خدا کرے کہ رئیسانی خاندان اپنا بھائ اور ہم اپنے 80 ہزار سے زائد بیگناہ ہم وطنوں کو گنوا کے اس حقیقت کو جلد از جلد قبول کرلیں کہ اپنے گھر، قبیلہ اور ملک میں کسی بھی سطح پہ اگر پاگل کتے پالیں گے تو وہ ہمیں ہی کاٹیں گے, چاہے ان کا کردار بندوق تھامنے والے کا ہو یا ان پہ سیاسی ملمع چڑھا دیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی تیل مافیا،استعماری دھمکیاں اور ہندوستان

(عادل فراز) عالمی بازار میں کچّے تیل کی دن دوگنی اور رات چوگنی قیمتوں میں ...