بدھ , 15 اگست 2018

شام اسلامی مقاومتی محور کا محاذ اور ’’خیری شری من اللہ‘‘ فلسفے سے اب انحراف نا ممکن

(ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی)

 

الحمداللہ اب اس خیری شری من اللہ فلسفے کی بھی پول کھلتی جا رہی ہے۔ اب مسلمان کا عدل اورعدالت کے علاوہ کوئی معیار نہیں چلنے والا ہے، معیار صرف میدانی عمل ہے یعنی وہی تقویٰ اور عدالت ہے اورمیدانی عمل یعنی”فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ یُؤْمِنْ بِاللَّهِ ﴿البقرة، 256﴾” ہے کہ جو طاغوت کے ساتھ ٹکر لینے والا ہو گا وہی صحیح مسلمان ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لندن میں دائر ہدایت ٹی وی کے "آج ہدایت کے ساتھ” پروگرام کے عالمی منظر میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوز نور کے بانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام حاج سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سے‏جمعه‏، 13‏ آوریل‏ 2018 کو آن لاین مکالمے کے دوران ” شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا رسوائی کا سامنا” کے عنوان کے تحت شام پر امریکی حملے اور اس کے حاشیے سے متعلق لئے گئے انٹرویو کہ جس کو مغربی ممالک میں خاص کر لندن، جرمنی اور امریکہ سے آن لاین کالر نے حصہ لے کر موصوف سے سوالات پوچھے کو مندرجہ ذیل قارئین کے نذر کیا جا رہا ہے:

سوال: قبلہ بڑی عجیب صورتحال ہے مغربی اور مشرقی بلاک آمنے سامنے ٹکرانے جا رہے ہیں، اس وقت امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے باقاعدہ دوبارہ جھوٹے کمیکل اٹیک کا بہانہ بنا کر شام پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں کیا شام پر حملہ ہو گا؟

ج) جنگ کا انہوں نے طبل تو بجا دیا، بہرحال امریکہ کی جو ساکھ تھی وہ اس کیفیت میں اب نہیں ہے کہ وہ اپنی من مانی ثابت کر دے۔ بلکہ ٹکر دینے والے اب میدان میں ہیں۔ آپ نے مشرق اور مغرب بلاک کی طرف صحیح اشارہ کیا، بالکل اس وقت صورتحال کو دیکھیں، ابھی دو بلاک آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ مغرب کی قیادت امریکہ کر رہا ہے جس پہ اگرچہ انوسمنٹ مشرق زمین سے سعودی عرب کر رہا ہے جبکہ مغرب بلاک کے خلاف مشرق زمین کی قیادت ایران کر رہا ہےاور الحمدللہ مشرق کا سارا بلاک اس میں شامل نظر آتا ہے کہ شام کے ساتھ نہ صرف ایران ہے بلکہ عراق اس کے بغل میں کھڑا ہے، روس بھی اس کے ساتھ ہے، مشرق زمین کا بڑا بلاک چین جنگ کا مخالف ہے۔ غرض پوری مشرق زمین اس بات پر متفق ہے کہ اگر شام پر حملہ ہوتا ہے جنگ چھڑ جاتی ہے تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اس کے مقابلے میں مغرب کا بلا ک بکھرتا نظر آ رہا ہے۔ کینیڈا نے پہلے اعلان کیا کہ ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہونگے، پھر جرمنی نے اعلان کیا ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہونے والے ہیں، اس کے بعد اٹلی نے کہا کہ ہم آپ کی لاجسٹک سپورٹ دینے کیلئے تیار ہیں مگر جنگ میں شامل نہیں ہونے والے ہیں ۔

ایسے میں سعودیہ جو جنگ پرانوسمنٹ کرنے کیلئے تیار ہے، اس کے اتحادی سبھی اس بات پر متفق نہیں ہیں جیسے کویت نے کہا کہ جنگ سے بہتر مذاکرات ہیں ۔ ابھی یواین اے میں اس موضوع پہ گفتگو شروع ہوئی ہے کہ ان مسائل کو کیسے حل کریں۔ اس طرح بنیادی طور پر اور ٹیکنکلی پہلے ہی سٹیج پہ امریکہ یہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی ہار گیا ہے۔

اب دوسری سٹیج کو دیکھنا ہے کہ کھل کے جنگ ہوتی ہے یا نہیں اگر ہوتی ہے تب بھی امریکہ کی ہار ہے اگر نہیں ہوتی ہے تب بھی امریکہ کی ہار ہے ۔

سوال :اگر جنگ نہیں ہوتی تو کس طرح سے امریکہ کی ہار ہے ؟

ج) امریکہ نے جو بھی ابھی تک گیم پلان بنایا تھا شام میں وہ ہر مرحلے میں ناکام ہوا۔ سات سال پہلے جو سنیریو شام میں بنایا تھا کہ بشارلااسد حکومت کو گرانے کیلئے اور دہشتگردوں کو پرورش کر کے وہاں ان کے لئے ہر قسم کی انوسمنٹ کی مگر دنیا نے دیکھا کہ جو بھی اس نے اس حوالے سے ٹاسک فریم کیا اس میں اس کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

آپ دیکھیں، اس وقت جب سیریا ان تمام حملوں کے ساتھ نمٹنے کیلئے تیار نہیں تھا اس کے باوجود وہ اچھی طرح سے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو گیا جبکہ اس کے ہاتھ سے پورا ملک سمجھو نکل گیا تھا لیکن وہ اپنے ملک کو واپس لانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور آخر میں یہ بھی واضح ہو گیا تھا کہ شام کا معاملہ تجارت کا تھا، امریکہ اپنے تجارتی مفادات کے لئے حکومت مخالف تنظیموں کی مدد کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ چونکہ ایک تاجر ہے زیادہ تجارت کے زوائے سے مسائل کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے حال ہی میں یہ بات کہی کہ ہم شام کو چھوڑ رہے ہیں۔ جبکہ وہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ جو سعودیہ کا ناپختہ ولی عہد ہے جو شام کا ہیرو بننا چاہتا ہے اس کے منھ سے یہ اگلوانا چاہا کہ جو اس پہ خرچہ آتا ہے یہ آپ نے اُٹھانا ہے۔ تو ایسا ہوا بھی۔ سعودیہ نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں کہ شام سے اپنی فوج نکالیں۔ امریکہ نے کہا تو آپ کو اس کیلئے پیسہ دینا پڑے گا اور سعودیہ نے کہا جی ہاں ہم دیں گے۔ تو وہاں پر بھی ٹرامپ اپنی بزنس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اب اگر جنگ نہیں ہوتی ہے تو امریکہ پہ سوال پہ سوال اٹھنا شروع ہو جائے گا، اگر امریکہ سوپر پاور ہے وہ شام سے کیوں ڈر گیا وغیرہ۔ امریکہ جس عنوان سے، جو بالادستی کا دعوی کرتا ہے، جو فوجی بالادستی بتاتا ہے اس کے اعتبار پر سوالیہ نشان لگ جائے گا کہ پھر امریکہ کی کون سی بالا دستی ہے وغیرہ ۔تو اسطرح امریکی سوپر میسی بہت برُی طرح سے پٹ جائے گی ،اگر جنگ نہیں ہو گی۔

اب اگر جنگ ہو گی تو امریکہ کی پول کھل جائے گی وہ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر پائے گا۔

اسطرح اگر جنگ نہیں بھی ہوتی ہے تب بھی میدانی طور پر امریکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور جو دبدبہ ابھی تک انہوں نے ہالی ووڈ فلموں کے ذریعے سے، ایک امپریشن قائم کیا ہوا ہے کہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے اس کی پول کھل جائے گی کہ وہ جنگ چھیڑ نہ سکا اور شام میں ایسی کیا بات ہے کہ امریکہ اتنی جرأت نہیں کر سکا وغیرہ۔ گویا اگر امریکہ جنگ چھیڑے گا تب بھی اس کی ہار ہو گی اور اگر وہ نہیں بھی جنگ چھیڑے گا پھر بھی اس کی بینڈ بج جائے گئی ۔

سوال: اگر جنگ چھڑ جاتی ہے کیا اس سے اسرائیل کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟

ج) امام خامنہ ای نے فرمایا کہ اگلے پچیس سال نہیں دیکھے گا اسرائیل اور اسرائیل کے پاس ابھی دو آپشن ہیں؛ ایک دم مرنا اور دوسرا آہستہ آہستہ مرنا ہے اور تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر جنگ چھڑتی ہے تو سب سے پہلی فرصت میں اسرائیل کیلئے الٹی گنتی شروع ہو جائے گی اور منٹوں یا گھنٹوں میں بالکل نیست نابود ہو جائے گا اور اگر جنگ نہیں چھڑتی ہے تو تھوڑی دیر کیلئے اسرائیل جی سکے گا۔

سوال : تھوڑی وضاحت کے ساتھ بیان کریں کہ اگر جنگ چھڑتی ہے یا نہیں چھڑتی ہے دونوں صورتوں میں کس طرح اسرائیل تباہ ہو گا؟

ج) فلسطین میں جو حماس اور غزہ پٹی میں مقاومتی محور سرگرم ہے اور جو ابھی تیسرا جمعہ تھا ہر جمعہ میں جو عوام کی بھر پور شرکت کے ساتھ واپسی کا احتجاج نامی مظاہروں میں دیکھنے کو ملتا ہے جو اس میں ابھی نئی جان آ گئی ہے خاص کر ٹرمپ کے بیان کے بعد جس میں ٹرمپ نے قدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا اعلان کیا جس کیلئے سعودی عرب بہت ہی ہاتھ پیر مار رہا ہے کہ یہ معاملہ ہو جائے کیونکہ سعودیہ ولیعہد کو ابھی یہی ٹاسک دیا گیا ہے کہ سعودی عرب ، اسرائیل کو تسلیم کرے، مگر اس کا جو الٹا اثر یہ نکلا کہ اسرائیل کے خلاف پوری نفرت عرب دنیا میں ابھرنے لگی، سعودیہ کے خلاف آواز بھڑک اٹھی ہے۔ اب جو کسی زمانے میں صرف امام خمینیؒ اسرائیل کی نابودی کی بات کر رہے تھے اور پھر امام خامنہ ای نے اس نعرے کو زندہ رکھا اب آج فلسطین کا بچہ بچہ عملی طورپر اسرائیل کی نابودی کا بیڑا اٹھائے ہے، وہ میدان میں بڑی ہی کامیابی کے ساتھ آگے بڑ رہے ہیں۔ اب ان کی بغل میں شام بھی مضبوط ہو گیا ہے۔ ان کی بغل میں حزب اللہ لبنان پوری طرح شامل ہے ۔حشد الشعبی عراق نے بھی کہا کہ ہم آپ کے بغل میں ہی ہیں۔ نہ صرف حشد الشعبی عراق کہہ رہا ہے بلکہ حوثی یمن نے کہا کہ اگر ہم سعودیہ کے ہاتھوں مر رہے ہیں، پٹ رہے ہیں مگر ہم فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ ہیں اوران کے ساتھ لڑنے کیلئے تیار ہیں تو عملی طورپر اسرائیل کی نابودی کے سارے مقدمات فراہم ہیں۔ اس میں وقت تو لگے گا لیکن اگر جنگ ہوتی ہے تو حالات میں تیزی آئے گی کیونکہ اس بیچ اسرائیل نے تیفور ائیر بیس پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ گویا اسرائیل نے جو فضائی بیس پر حملہ کیا اس نے اپنے پیروں پہ کلہاڑی ماری ہے۔

سوال: کیا اسرائیل ایران کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کیلئے تیار ہو رہا ہے ؟

ج) بالکل، ایسا ہی لگتا ہے ۔ کیونکہ جب 2015ء میں اسرائیل کی ایک ائیر سٹرائیک سے سپاہ پاسداران ایران کے کچھ سپاہی شہید ہو گئے تو اس پہ اسرائیل نے بلافاصلہ بیان دیا کہ سپاہ پاسداران کو ٹارگٹ بنانا ہمارا مقصد نہیں تھا۔ مگر اب کی بار اسرائیل نے اسی جگہ کو ٹارگٹ بنایا جس کے بارے میں اسرائیل کو بخوبی معلوم تھا کہ وہاں ایرانی ہیں۔ کیا ان سے چوک ہو گئی ہے یا نہیں لیکن اب انہوں نے ڈائریکٹ ایران سے چھیڑ لی ہے اور ایران اس موضوع کو لیکر خاموش نہیں بیٹھے گا۔

جب ایران کہہ رہا ہے کہ میں کچھ کرونگا وہ کر کے دکھاتا ہے وہ امریکہ یا سعودی عرب کی طرح کہتا کچھ اور کرتا کچھ اور نہیں ہے۔ امریکہ نے کہا کہ عراق میں ماس ڈسٹرکشن ویپن ہے پھر کہا؛ انفارمشین غلط تھی۔ ابھی شام کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں کل کہیں گے کہ انفارمیشن غلط تھی۔ ایران اس قسم کی کاروائی نہیں کر سکتا ہے۔

کالر : یہ مصر اور سعودیہ والے مزید گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر وقت سُنی ورلڈ کی ساخت کو نقصان پہنچایا، اب پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ طاغوت کے ساتھ لڑائی صرف اور صرف اہلبیت ؑ کے ماننے والے کرتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی سارے طاغوت سعودیہ اور مصر کی سربراہی میں امریکہ اور اسرائیل کے پیچھے نظر آ رہے ہیں یہ کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ قرآن تو کہتا ہے کہ طاغوت کے خلاف آواز اُٹھاو، ان عرب مسلمان حکام کے اندر عربی غیرت یا مسلمانی کیوں نظر نہیں آتی؟

ج) مجھے تو بڑا انقلابی فرق نظر آ رہا ہے کہ آج جس کا خلاصہ ابھی سیّد مقاومت سید حسن نصراللہ نے یہی جملہ سعودیہ ولی عہد کے بارے میں اپنے فصیح و بلیغ انداز میں بیان کیا لیکن خلاصہ یہی تھا کہ جو اس بزرگ کالر نے کہا کہ آپ کی عربیت کہاں گئی، آپ کی عربیت یہی رہی کہ آپ مغرب کو پیسہ دے رہے ہیں کہ وہ آ کےعربوں کو مارے۔ جبکہ اکثر عرب اتنے بد بخت اور فقیر ہوتے جا رہے ہیں، ان کا خیال نہیں کرتے ہیں ان کے اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی طرف دھیان نہیں دیتے ہیں مگر آپ کی عربیت یہی رہی ہے کہ امریکہ کو سنگین اقتصادی مسائل میں نجات دلا سکیں۔

اینکر: کیا امام حسینؑ نے یزیدی فوج سے یہ جملہ نہیں کہا تھا کہ اگر آپ میں مسلمانیت نہیں ہے تو کم سے کم عربیت ہی کی لاج رکھو؟

ج) بالکل، میں اسی بات پہ آون گا کہ اسی طرح جو یہ امریکہ کا ایک تصورتھا اس کے بارے میں جو منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ امریکہ کھوکھلا ہو چکا ہے، اور ابھی آپ دیکھیں کہ عام انسان بھی اسی تحلیل پر پہنچا ہے کہ عوام جس امریکہ سے ہم ڈرتے تھے کہ وہ دنیا کی بڑی طاقت ہے، مگر آخر کار اس کی طاقت سمجھ گئے ہیں کہ یہ ویت نام پہ حملہ کر سکتا مگر جیت نہیں سکتا ہے، یہ افغانستان پہ حملہ کر سکتا ہے لیکن جیت نہیں سکتا ہے، یہ یمن پہ حملہ کر سکتا ہے لیکن جیت نہیں سکتا۔ کمزورں پہ حملہ کرنا اس کا طرہ امتیاز بن گیا ہے جبکہ ان کمزوروں کے ہاتھوں آخرکار پٹ جاتا ہے۔ ابھی اس کو کوئی کامیابی نہیں مل پا رہی ہے یعنی امریکہ کی روز بہ روز پول کھلتی جا رہی ہے۔ جو اس نے امپرشن دیا تھا کہ امریکہ کے دست قدرت میں سب کچھ ہے، لیکن میدانی صورتحال بدل چکی ہیں۔

اینکر: اب سعودیہ کے مفتیوں کو کون سمجھائے وہ تو امریکہ کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں!

اب میں اسی کربلا کے پیغام پہ اونگا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے جس تحریک کو زندہ رکھا الحمدللہ ہمارے زمانے میں امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران میں جو انقلاب رونما ہوا اس نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے فلسطے کو سمجھ کر دنیا کیلئےعیاں کر دیا ہے۔

اب ایسا نہیں کہ اس زمانے میں دو ایسی تصویریں سامنے جائے جس میں قاتل اور مقتول کے مشترک کاموں ڈھال بنا کر ایسی صورت پیش کی جائے کہ جس سے انسانیت کا قتل کرنے والا اور انسانیت کو بچانے والے کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جائے۔ یزیدی فوجی روزہ بھی رکھتے تھے، نمازیں بھی پڑھتے تھے، شمر کے کبھی روزے قضا نہیں ہوئے تھے اور ان کے جرم کو جنایت پر ان دیکھی کر کے ان کے روزے اور نمازوں کی بات کریں، جناب زینب سلام اللہ علیہا نے دنیا کے سامنے ان کی اصلیت سامنے رکھی۔ اب جو اسلامی انقلاب آیا جو کہ کربلا کے انقلاب کی کڑی ہے اسی لئے کربلا والے چاہئے وہ شیعہ ہے یا سُنی، فلسطین میں ابھی کربلا والے ہیں اگرچہ سُنی ہیں، یمن میں کربلا والے ہیں اگرچہ سُنی ہیں اور ایران، عراق، حزب اللہ شیعہ کربلا والے ہیں جہادی ہونا ان کی میراث ہے شیعہ ہے اور سُنی حتیٰ غیر مسلم بھی جب طاغوت کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے کربلائی ہے۔ چونکہ جناب زینب سلام اللہ علیہا کی عملی سیرت پر عمل کر کے میدان میں آ گئے ہیں اسی وجہ سے مظلوم کی بالادستی نظر آ رہی ہے اور ظالم کا خاتمہ نطر آ رہا ہے ۔

ایک اور کالر :کیا شیعہ سُنی مل کر دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں؟

ج) یہ امت کے دل کی بات ہے، اس میں شیعہ سنی نہیں ہے اور حاکم حکمران شیعہ ہو یا سُنی ہو جب طاغوتی ہو تو اس کا حشر ایک جیسا ہو گا۔ جو حشر رضا شاہ پہلوی کا ہوا وہی حشر سعودی بادشاہ کا ہو گا اور جو بن سلمان نے اپنا چہرہ دکھایا اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایران میں اسلامی انقلاب آیا اسی طرح مستقبل میں سعودی عرب میں بھی اسلامی انقلاب آئے گا اور جب یہاں ایران میں طاغوتی حاکم تھا وہ شیعہ ہو کے اہلبیت ؑ پہ رونے والا ہو کے یہاں کے خواتین کا پردہ نوچ کر پردہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، بالکل وہی سب کچھ جو ابھی بن سلمان کرنے جا رہا ہے یہ پہلوی شاہ نے ایران میں عملا کر دکھایا ہے مگر اس کا آخر نتیجہ کیا ہو گیا؟ یہ وہابی اورآل سعود ان کاموں سے اپنی قبرخود کھود رہے ہیں۔ جو امریکہ نے شاہ ایران کے ساتھ کیا وہی شاہ سعودی عرب سے بھی کریں گے۔

یہ جو وہابیت ہے جو صرف مسلمانوں کو شیعہ اور سُنی میں بانٹ کر صرف قتل و غارت کا بازار گرم رکھنے میں کامیاب رہا اور آخرکار سعودی ولیعہد نے اعتراف بھی کیا کہ مغرب کے کہنے پر اس عقیدے کو پروان چڑایا گیا۔ جبکہ امام خمینیؒ پہلے ہی فرمایا تھا کہ جو آپ کو شیعہ سُنی نام سے لڑوا رہے ہیں یہ نہ شیعہ ہیں اورنہ ہی سُنی بلکہ یہ مشترکہ اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔

صیہونیت اسلام کا کھلا دشمن ہے۔ امریکہ بڑا شیطان ہے جس سے ہم سب کو خبردار رہنا ہے۔ الحمدللہ امت بیدار ہو گئی ہے اب اپنے دشمن کو پہچان رہے ہیں کہ اگر مسلمان کے لبادے میں بھی ہو، مگر وہ اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار کو پہنچاتے ہیں، یہ بڑی خوش قسمتی ہے یہ وہ دور ہے جس سے ہم بڑے اسلامی انقلاب کے دن نزدیک ہونے کو دیکھ رہے ہیں ایسے میں جب مسلمان اپنے دوست اور دشمن کو پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو مسلمانوں کا مستقبل تابناک ہونا یقینی ہے ۔

سوال: شیعوں کے خلاف زہریلے پروپگنڈے کے پیش نظر کسطرح سے سنی ورلڈ کو مطمئن کریں گے؟

ج) یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیا بنی امیہ حکومت نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ ثابت نہیں کر دیا تھا کہ وہ بےنمازی تھے، وہ چور تھے معاذاللہ۔ انہوں نے ثابت نہیں کیا کہ امام حسین علیہ السلام باغی تھے، وہ واجب القتل تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار سے حسین علیہ السلام کا گلا کاٹا گیا۔ تو یہ نئی بات نہیں ہے پہلے سے ہی طاغوت کا طریقہ کار جھوٹ کو سچ پیش کر کے کام نکالنا رہا ہے۔ جس طرح امریکہ کھیل کھیل رہا ہے ۔ ایران پر امریکہ نے خود صدام کے ذریعہ کمیکل ویپن استعمال کئے اس کیلئے اس کو مواخذہ نہیں ہے ۔ عراق کو تباہ کر کے کہا کہ وہاں ماس ڈسٹرکشن ویپن ہے جو کہ نہیں تھے اور شام میں اقوام متحدہ نے خود شام میں کیمیائی ہتھیار بنانے والی فیکٹریوں کا صفایا کیا اور خود سرٹیفکیٹ دیا کہ یہاں پر اب کوئی کمیکل ویپن بنانے کی فیکڑی نہیں ہے اوراس وقت جب شام دہشتگردی کا مقابلہ کرنے
کیلئے طاقت کی انتہا پر کامیابی کی چوٹی پر ہے اس وقت اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ اپنے نہتے شہریوں کو مار رہا ہے۔

آپ دیکھیں اس کی سب سے بڑی مثال فلسطین ہے، فلسطین میں ایک بھی شیعہ نہیں ہے مگر صرف شیعہ ان کیلئے جان کی بازی لگا بیٹھا ہے ۔ ایران و عراق سے حزب اللہ لبنان تک سبھی شیعہ فلسطین کے سُنیوں کے دفاع کے لئے میدان میں ہیں اگر فلسطینی سُنی کہیں گے کہ شیعہ ہمارا دشمن ہے تو معنی رکھتا ہے یا یمن کے مظلوم اہلسنت کہیں کہ شیعہ ہمارا دشمن ہے تو معنی رکھتا ہے۔ اگر دنیا الزام لگارہی ہے کہ یمن کو میزائل ایران دے رہا ہے اورامام خامنہ ای صراحت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ میں ان مظلوموں کو ایک کیا سینکڑوں میزائل دیتا مگر کیا کریں سارے راستے بند ہیں۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ شیعہ کا جرم یہ ہے کہ وہ مظلوم کی کھل کے حمایت کرتا ہے۔

ایک اور کالر: وہابیت کی اسلام دشمن کارکردگی کے پیش نظر کیا خانہ کعبہ کے وہابی پیش نمازی کے پیچھے نماز ادا کی جا سکتی ہے جبکہ خطبہ بھی حکومت لکھ کے دیتی ہے؟

ایک اور کالر: باقی مسلمان ممالک سے روس بہتر ہے جو مسلمانوں کا ساتھ دے رہا ہے۔

ج) جہاں تک خانہ کعبہ کے پیش نمازی کا سوال ہے بالکل، ہمیں ان کے پیچھے نماز پڑھنی ہے یہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت رہی ہے یہ سوال نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت کیوں خطبہ لکھ کے دیتی ہے اگر حکومت سعودیہ خود خطبہ لکھتی پھر بھی کوئی بات تھی مگر ولیعہد بن سلمان کے بقول امریکہ اور مغرب کے ایما پر سب کچھ ہو رہا ہے۔ سوال یہاں ہونا چاہئے کہ یہ کونسا ملک ہے جو خادمین حرمین شریفین ہونے کا مدعی ہے لیکن جس کی پوری باگ ڈور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں؟ اور اس پر مسلمان زبان نہیں کھول پا رہے ہیں آخر ماجرہ کیا ہے؟

اور جو ہمارے دوسرے محترم کالر نے روس کی بات کی ، الحمداللہ یہ جو روس نے اس مقاومت کا ساتھ دیا یہ اس لئے نہیں کہ اس کو مسلمانوں پر کوئی ترس آ گیا اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی ہمدردی ہے بلکہ روس نے بخوبی محسوس کر لیا کہ امریکہ کے ساتھ ٹکر لینے والے مجاہد ایران والے ہیں تب جا کے میدان میں آ گیا ہے۔ امریکہ نے چونکہ پہلے خود سویت یونین کی بینڈ بجائی تھی اور تب سے امریکہ سے انتقام لینے کی کوشش میں ہے مگر اب جب مسلمانوں کی کربلائی حرارت دیکھی تب اس کو اطمنان ہو گیا اور فیصلہ کیا کہ ان کے ساتھ چل کے اپنی آبرو بھی رکھنی ہے اور امریکہ سے انتقام بھی لینا ہے اس طرح روس نے کوئی احسان نہیں کیا کہ وہ مقاومتی خیمے میں وہ شامل ہو گیا بلکہ اس نے اپنے برابری کا ساتھی پایا کہ وہ طاقت رکھتے ہیں اگر روس کے پاس اسلحہ ہے مگر مقاومتی محور کے پاس عسکری قوت کے علاوہ جو ایمان ہے اور قوت ایمانی ہے استقامت ہے وہ اس طاقت کو مکمل کرتے ہیں اس لئے میدان میں ساتھ دے رہے ہیں ۔

سوال:شام میں امریکی فوج کے انخلا کا کس حد تک ممکن ہے؟

ج) امریکہ شام سے پوری طرح اپنا فوجی انخلا کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ حکومت شام نے وہاں اسے چھپنے کیلئے اب جگہ باقی بھی نہیں چھوڑی ہے اور بہانے کی تلاش میں ہے کہ جب تک مخمصے میں پھنسا ہوا ہے اس وقت تک سعودیہ کو کس طرح مزید لوٹ سکے گا جس طرح ٹرمپ نے صدارتی الیکشن کے دوران سعودی عرب کو دودھ دینے والی گائے تشبیہ دے کر کہا کہ جب تک دودھ دے دودھ لیتے رہیں گے اور جب دودھ دینا بند کر دے تو اس کا گوشت کھائیں گے۔ تو اس بات کا منہ بولتا ثبوت شام سے امریکی فوج نکالنے کا اعلان اور سعودی عرب کی طرف سے وہاں رکنے کی درخواست کہ امریکہ شام سے فوج نہ نکالے اور اس پر امریکہ نے سعودیہ سے کہا کہ اس کا بڑا خرچہ آتا ہے اگر خرچہ دیتے ہو روکیں گے اور سعودیہ نے ہاں بھر لی۔ اس طرح دودھ لینے اور گوشت کھانے کا کام ہے۔ جبکہ امریکہ کو پتہ ہے کہ وہ چونکہ شام
میں کامیاب نہیں ہوا ہے اسے آج یا کل وہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر کے نکل جانا ہے ۔

سوال: کیا عراق سے بھی امریکی افواج کا انخلا ہو گا؟

ج) جی نہ صرف شام سے امریکی افواج کو نکلنا ہے بلکہ عراق سے بھی اسے نکلنا ہی ہےاور دیر سویر مشرق زمین سے نکال باہر کیا جائے گا۔ مشرقی زمین پر رونما ہونے والے انقلابی حالات امت کو اس خوشخبری کی نوید دے رہے ہیں کہ جس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ؛ مشرق کی زمین سے ہی ایک قوم اُٹھے گی جو امام مہدی آخرالزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مدد کریں گے اور مہدی کا دور شروع ہو جائے گا اور ان شاءاللہ ہم اسی امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے انقلاب کے د ور کی طرف بڑھ رہے ہیں اور امت میں وہ شعور بڑھتا نظرآ رہا ہے وہ طاغوت اور ان کے آلہ کار کو سمجھنے لگے ہیں اور امت اسلامی پر مسلط جو یہ اسلام دشمن طاقوں کے آلہ کار، اسلام کا استحصال کرنے والے حکام کا دور اب ختم ہونے جا رہا ہے۔ جو کل تک ہم سائنس میں پیچھے تھے، ٹیکنالوجی میں پیچھے تھے اس پسماندگی کا خاتمہ شروع ہو گیا اور آج کل ہمیں کرسچن اور لاطینی امریکی ممالک کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لئے فیکڑیاں لگاؤ، اپنی سائنسی پیشرفت سے ہمیں مستفید کرو، گاڑیاں، جہاز وغیرہ بنا کے دو۔ اب اسلام دوبارہ اپنی اصلی شکل میں ہر میدان میں واپس لوٹ کر سائنس میں نئی جان پیدا کرنے کا عزم لئے میدان میں ظاہر ہوا ہے، جس سے امریکہ کو پریشانی ہے۔ امریکہ کو مسلمانوں کی عسکری سوپر میسی نہ ملٹری بالا دستی سے تکلیف ہے بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی سوپرمیسی سے تکلیف کہ جس سے وہ اپنی سوپرمیسی ختم ہوتی محسوس کر رہا ہے۔

سوال : مگر جو ’’خیری وشری من اللہ تعالی‘‘ ماننے والے ہیں ان کا کیا ہو گا وہ تو اس عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ہیں؟

ج) ان کو طاغوت اور ظالموں کا حمایتی دین سمجھایا گیا ہے، جس طرح سعودی ولی عہد بن سلمان نے بتایا کہ امریکہ نے کہا تھا کہ وہابیت کو پھیلاؤ ہم نے پھیلایا ، اسی طرح یہ لوگ بھی ایک دن اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ’’خیری و شری من اللہ تعالی‘‘ کو اسلامی عقیدے میں شامل کرنا کس طاغوت نے کہا تھا جبکہ اسلام کا طاغوت کے ساتھ دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ عملی طور پر جب خالص اسلام ہر میدان میں آجائے تو مسائل خودبخود صاف ہو جائیں گے ۔

سوال : نوجوانوں کیلئے "خیری و شری من اللہ ” پر تھوڑی سی روشنی ڈال دیجئے کہ موضوع کیا ہے؟

ج) یہ بنی امیہ کا سیاسی فلسفہ ہے "الخیر والشر من اللہ” جس کو پوری طرح سے امیر شام نے بڑی وسعت کے ساتھ اس کو پروان چڑھایا اور اسی کو ڈھال بنا کے ہر ظلم کے لئے یہی فلسفہ بیان ہوتا رہا کہ جب کوئی ظالم، ظلم کرتا تو کہتا میں کچھ نہیں کر رہا ہوں یہ اللہ مجھ سے کرواتا ہے، اس نے مجھے یہ اختیارات دیے ہیں، اب میں کیا کروں! اگر کسی کے حق میں ٹھیک ہو رہا ہے یہ اللہ کروا رہا ہے اور اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہے یہ اللہ کروا رہا ہے۔ تو اس طریقے سے ظالموں کے لئے ہاتھ کھلے رکھے گئے مگر اہلبیت علیہم السلام نے جس سیرت کو زندہ رکھا کہ اللہ نے جس کو رحمۃ للعالمین بنا کے بھیجا اور جس نے کہا کہ اگر آپ کسی پرندے کو ناحق ماریں گے، کسی کو ازیت دیں گے تو اللہ اس کو اپنی جنت کی خوشبو سونگنا نصیب نہیں کرے گا چہ بسا کہ ظلم کرے۔ اسلام تو ہر ذرے کی سالمیت کی ضمانت دینے والا ہے اسی دین کو وحشی اور ظالم اور درندہ مذہب بنایا گیا ہے۔ یہ” خیری شری” فلسفہ پروان چڑھانے سے مسلمانوں میں ظالم بادشاہ زیادہ رہے اور عادل بادشاہ کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مگر الحمداللہ اب اس ’’خیری شری من اللہ‘‘ فلسفے کی بھی پول کھلتی جا رہی ہے۔ اب مسلمان کا عدل اورعدالت کے علاوہ
کوئی معیار نہیں چلنے والا ہے، معیار صرف میدان عمل ہے یعنی وہی تقویٰ اورعدالت ہے اور میدان عمل یعنی”فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ یُؤْمِنْ بِاللَّهِ ﴿البقرة، 256﴾” ہے کہ جو طاغوت کے ساتھ ٹکر لینے والا ہو گا وہی صحیح مسلمان ہے ۔بحوالہ: نیوز نور

یہ بھی دیکھیں

غزہ پر جنگ مسلط نہ کرنے کا بڑا فایدہ اسرائیل کو ہوا:صہیونی جنرل

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج کے ایک سینیر عہدیدار اور سدرن آرٹلری کے کمانڈر کرنل یووال ...