جمعہ , 14 دسمبر 2018

معلوم ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے

(تسنیم خیالی)
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی حقوق نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے دلائل موجود ہیں کہ امریکہ عراق اور ایران میں خلفشار پیدا کرنے کے لیے سلفی جہادی تنظیموں کی تربیت کررہا ہے۔ادارے کے ترجمان کے مطابق ادارے کو حاصل ہونے والی معلومات اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ ترکی میں قائم متعدد کیمپوں میں سلفیت سے وابستہ افراد جمع ہورہے ہیں جنہیں امریکی جنگی تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ عراق کے جنوبی علاقوں میں فرقہ واریت پر مبنی جنگیں اور فسادات برپا کر سکیں۔

علاوہ ازیں ترجمان کا کہنا تھا کہ ادارے کے پاس اس حوالے سے بھی معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ امریکہ ایران کے اندر بھی اسی قسم کے فسادات اور تخریب کاری شروع کروانا چاہتا ہے اور امریکہ کو اس غرض کے لیے علاقائی اور عالمی اتحادیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

سب سے پہلےتو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کو اس اہم انکشاف پر مبارک ہو،جسے پوری دنیا کئی سال پہلے سے جانتی ہے،آخر کار اس سوئے ہوئے ادارے کی آنکھیں کھل گئیں اور اسے بھی معلوم ہوگیا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں کیا گل کھلا رہا ہے۔

ہمارے لیے یہ کوئی نئی بات یا پھر بڑا انکشاف نہیں کہ امریکہ عراق اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سلفیت سے وابستہ افراد کو جنگی تربیت فراہم کررہا ہے جسے عرف عام میں اس طرح کہتے ہیں کہ امریکہ دہشت گردوںکو تربیت فراہم کررہا ہے(یعنی دہشت گردی کی حمایت اور مدد کررہا ہے)۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے خواہ وہ امریکہ کے اتحادی ہوں یا پھر مخالف،مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے کو اس بات کا علم اتنے سال گزرجانے کے بعد ہوا۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی حقوق یہ سب کچھ جاننے کے بعد کیا کرے گا؟کیا وہ امریکہ کے خلاف اقدامات اٹھائے گا؟کیا یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر امریکہ کو بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں ڈال سکتے ہیں جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں۔جواب سادہ سا ہے۔۔۔۔۔نہیں!

یہ ادارہ کچھ نہیں کرسکتا اور امریکہ کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن نہیں لے سکتا بلکہ یوں کہیں کہ اسے یہ سب کچھ معلوم ہونا یہ نہ ہونا ایک برابر ہے اور بعید از امکان نہیں کہ امریکہ نے خود اس ادارے سے کہاہو کہ وہ اس قسم کا بیان جاری کرے تاکہ یہ تاثر قائم ہو کہ اس ادارے کی تمام ممالک پر نظر ہے اور اس کے نزدیک سبھی ایک برابر ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

(حیدر جاوید سید)  اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا الزام ...