ہفتہ , 18 اگست 2018

’آبی وسائل‘ فلسطینی اراضی ہتھیانے کا خطرناک صہیونی ڈھونگ!

صہیونی ریاست فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اراضی ہتھیانے کے لیے طرح طرح کے حربے اور ڈھونگ رچانے میں سرگرم ہے۔ کبھی فلسطین کے کسی علاقے کو’فوجی علاقہ‘ قرار دے کراس پرقبضہ کرلیا جاتا ہے اوراراضی کے مالکان کو اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی جاتی اور کبھی جنگی مشقوں کی آڑ میں فلسطینیوں کی اراضی ہتھیائی جاتی ہے۔ الغرض صہیونی ریاست غرب اردن کے سیکٹر ’C‘ اور وادی اردن میں کئی دوسرے نام نہاد حربوں کی آڑ میں اراضی پرقبضہ کیا جاتا ہے۔ ان روایتی غاصبانہ ہتھکنڈوں میں ’آبی وسائل‘ بھی ایک خطرناک صہیونی غاصبانہ حربہ ہے۔ فلسطینی علاقوں میں پانی کی تلاش اور آبی وسائل میں اضافے کے منصوبوں کی آڑ میں فلسطینیوں کو ان کی اراضی سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔گوکہ ارض فلسطین میں آبی وسائل پرقبضے کے ہتھکنڈے بھی غیرقانونی اور ناجائز ہیں مگر ان کی آڑ میں آبی وسائل اپنی جگہ قیمتی فلسطینی رقبے پرقبضہ جمالیا جاتا ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار اور آبی امور کے ماہر احمد عویس اور ڈاکٹر زائر نے مشرقی القدس میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں صہیونی ریاست کے اس مکروہ حربے کا پردہ چاک کیا۔انہوں نے بتایا کہ صہیونی ریاست نے گذشتہ صدی کی ستر کی دھائی میں ایک تزویراتی منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس کے تمام آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور توانائی کے حامل ذخائر پرقبضے کا فیصلہ کیا گیا۔

عویس نے کہا کہ مذکورہ منصوبے کا مقصد آبی وسائل پرقبضہ کرنا اور ہزاروں فلسطینیوں کو پانی کی قدرتی نعمت سے محروم کرنا ہے۔ خاص طور پر کردلہ، بردلہ، عین البیضہ اور دسیوں دیگر فلسطینی قصبوں میں پانی کے وسائل کو ہتھیانے، پانی کے چشموں پر قبضہ کرنے اور زیرزمین پانی کے وسائل کو یہودی کالونیوں کے لیے استعمال کرنے کی گہری اور منصوبہ بند سازش شروع کی گئی۔

فلسطینی تجزیہ نگار کے مطابق وادی اردن کے شمالی علاقوں بردلہ میں آبی وسائل کی تلاش کی آڑ میں کھدائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ فلسطینی بستیوں کو پانی فراہم کرنے والی 400 میٹر لمبی پائپ لائن تباہ وبرباد کردی گئی اور وادی اردن میں کئی دیہاتوں کے فلسطینیوں کو پانی سے محروم کردیا گیا۔

فلسطینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی اردن میں بیشتر آبی وسائل پر صہیونی ریاست کا قبضہ ہے اور فلسطینی کسان، گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ شہری اور ان کے مال مویشی پانی سے محروم ہیں۔سنہ 2017ء میں صہیونی حکام نے وادی اردن اور مغربی کنارے میں کئی مقامات پر آبی وسائل سے فلسطینی محروم کیے گئے۔

غرب اردن کے جنوب میں پانی کے سات چشمے فلسطینی کسانوں ، ان کے مال مویشی اور فصلوں کے لیے آب رسانی کا ذریع تھے۔ بیت لحم میں تقوع، خشم الدرج۔ خشم الکرم، جنوبی الخلیل میں جبل الخلیل اور وادی اردن میں تین آبی وسائل مسمار کردیے گئے۔

عویس نے کہا کہ سنہ 1967ء میں صہیونی ریاست نے تمام آبی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ دریائے اردن سے بحر مردار تک تمام علاقوں حتیٰ کہ غزہ کی پٹی تک کے تمام آبی وسائل پر قبضہ کرلیا گیا۔

ایک طرف صہیونی ریاست فلسطینیوں کے قدرتی وسائل اور آبی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کررہا ہے اور دوسری طرف غزہ اور غرب اردن کے عوام کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں علاقوں کے فلسطینی باشندے پانی کی نعمت سے خاص طور پرمحروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کو یہ معلوم ہے کی مغربی کنارے میں تمام آبی وسائل اس کے زیرتسلط ہیں مگر اس کے باوجود فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

ایک طرف تو پانی کے وسائل پر صہیونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ ہے اور دوسری طرف سیکٹر ’C‘ میں فلسطینی بستیوں اور شہروں میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی صہیونی ریاست تباہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دیوار فاصل بھی اس کا ایک حربہ ہے۔ صہیونی ریاست غرب اردن میں دیوار فاصل کے ذریعے تیس سے چالیس کلو میٹر کی حدود پر فلسطینیوں کی پانی کی پائپ لائنوں کو تباہ کرچکا ہے۔

ادھر اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے’بتسلیم‘ کے مطابق سنہ 2017ء میں صہیونی ریاست نے سیکٹر A کے علاقے عاطوف ، سیکٹر C کے تین قصبوں خربہ راس الاحمر، خربہ الحدیدیہ اور خربہ حمصہ میں فلسطینیوں کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...